ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 6

عَیۡنًا یَّشۡرَبُ بِہَا عِبَادُ اللّٰہِ یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفۡجِیۡرًا ﴿۶﴾
وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پییں گے، وہ اسے بہا کر لے جائیں گے، خوب بہاکر لے جانا۔ En
یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے
En
جو ایک چشمہ ہے۔ جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اس کی نہریں نکال لے جائیں گے (جدھر چاہیں) En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) {عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ …: عِبَادُ اللّٰهِ } اگرچہ سب لوگ ہی اللہ کے بندے ہیں مگر یہاں مراد اللہ کے خاص بندے ہیں، جیسا کہ{عِبَادُ الرَّحْمٰنِ} (رحمان کے بندے)، {نَاقَةُ اللّٰهِ} (اللہ کی اونٹنی) اور{بَيْتُ اللّٰهِ} (اللہ کا گھر) میں خصوصیت پیدا ہو گئی ہے۔ یعنی اللہ کے یہ خاص بندے ابرار کافور کی آمیزش والی شراب کا جو جام پییں گے وہ ایک جام ہی نہیں ہو گا بلکہ کافور کی آمیزش والا ایک چشمہ ہو گا جس سے مومن جہاں چاہے گا شاخ نکال کر لے جائے گا۔
بعض مفسرین نے { الْاَبْرَارَ } اور{ عِبَادُ اللّٰهِ } کو الگ الگ قرار دے کر یہ معنی کیا ہے کہ ابرار یعنی نیک لوگوں کو پلائے جانے والے شراب کے جام میں کافور نامی چشمے میں سے کچھ ملاوٹ ہو گی، جس طرح کسی کے شربت میں کوئی خوشبو دار شربت مثلاً روح افزا ملا دیا جائے، جب کہ عباداللہ یعنی اللہ کے مقرب بندوں کو کافور کے چشمے کی صرف آمیزش ہی نہیں بلکہ اس کا خالص پانی جتنا وہ چاہیں گے ملے گا۔ مجھے پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 یعنی کافور ملی شراب، دو چار صراحیوں یا مٹکوں نہیں ہوگی، بلکہ چشمہ ہوگا، یعنی ختم ہونے والی نہیں ہوگی۔ 6۔ 2 یعنی اس کو جدھر چاہیں گے، موڑ لیں گے، اپنے محلات و منازل میں، اپنی مجلسوں میں اور بیٹھکوں میں اور باہر میدانوں اور تفریح گاہوں میں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں نکال لیں گے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے یعنی وہ لذیذ شراب، جو وہ پئیں گے، انھیں اس کے ختم ہونے کا خوف نہیں ہو گا بلکہ اس کا ایسا مادہ ہو گا جو کبھی منقطع نہ ہو گا۔ یہ ہمیشہ جاری رہنے اور بہنے والا چشمہ ہو گا۔ اللہ کے بندے جہاں چاہیں گے جیسے چاہیں گے وہاں سے نہریں نکال لے جائیں گے، اگر وہ چاہیں گے تو ان کو خوبصورت باغات کی طرف موڑ لیں گے۔ یا بارونق باغیچوں کی طرف لے جائیں گے اگر وہ چاہیں گے تو محلات کی جوانب اور آراستہ گھروں کی طرف بہا لے جائیں گے یا وہ خوبصورت جہات میں سے جس جہت میں بھی چاہیں گے ان نہروں کو لے جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{عيناً يشربُ بها عبادُ اللهِ}؛ أي: ذلك الكأس اللذيذ الذي يشربونه لا يخافون نفاذه، بل له مادَّة لا تنقطع، وهي عينٌ دائمةُ الفيضان والجريان، يفجِّرها عباد الله تفجيراً أنَّى شاؤوا وكيف أرادوا؛ فإن شاؤوا؛ صرفوها إلى البساتين الزاهرات أو إلى الرياض النضرات، أو بين جوانب القصور والمساكن المزخرفات، أو إلى أيِّ جهةٍ يَرَوْنَها من الجهات المؤنَّقات.