اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾
بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ نا شکرا۔
En
(اور) اسے رستہ بھی دکھا دیا۔ (اب) وہ خواہ شکرگزار ہو خواہ ناشکرا
En
ہم نے اسے راه دکھائی اب خواه وه شکر گزار بنے خواه ناشکرا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 3) ➊ { اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ:} یعنی ہم نے انسان کی آزمائش کرتے ہوئے اسے صرف سمع و بصر اورعقل کی نعمت عطا کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اسے صحیح اور غلط راستہ بتانے کا اہتمام بھی کیا ہے۔ نیکی و بدی کی یہ تمیز اس کی فطرت میں بھی رکھی ہے، جس کی وجہ سے اچھے کام اس کے لیے معروف (جانے پہچانے) اور برے کام منکر(نہ پہچانے ہوئے) ہیں اور انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے بھی اسے نیکی و بدی کا راستہ بتایا ہے۔
➋ { اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا:} سمع و بصر، عقل و فہم، فطرتِ انسانی اور انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے ملنے والی آسمانی رہنمائی کے بعد انسان کے لیے صحیح راستہ بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ اس راستے پر چل کر اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بن جائے، یا وہ سیدھا راستہ ترک کرکے اس کی نعمتوں کی نا شکری اور کفر کرنے والا بن جائے۔
➋ { اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا:} سمع و بصر، عقل و فہم، فطرتِ انسانی اور انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے ملنے والی آسمانی رہنمائی کے بعد انسان کے لیے صحیح راستہ بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ اس راستے پر چل کر اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بن جائے، یا وہ سیدھا راستہ ترک کرکے اس کی نعمتوں کی نا شکری اور کفر کرنے والا بن جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یعنی مذکورہ قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ہم نے خود بھی انبیاء علیہ السلام، اپنی کتابوں اور داعیان حق کے ذریعے سے صحیح راستے کو بیان اور واضح کردیا ہے اب یہ اس کی مرضی ہے کہ اطاعت الہی کا راستہ اختیار کر کے شکر گزار بندہ بن جائے یا معصیت کا راستہ اختیار کر کے اس کا ناشکرا بن جائے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ ہم نے یقیناً اسے راہ دکھا دی [4] اب خواہ وہ شکر گزار رہے یا ناشکرا بن جائے [5]
[4] انسان کی ہدایت کے لیے کون کون سے ذرائع اللہ نے بنائے ہیں؟
راہ دکھانے کی بے شمار صورتیں ہیں۔ مثلاً:
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا ہے۔ جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کا حق پہچانے۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عہد الست سے تعبیر فرمایا ہے۔
2۔ ہر انسان میں برے اور بھلے کی تمیز رکھ دی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ جب انسان کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگتا ہے۔
3۔ انسان جب مصائب میں گھر جاتا ہے تو غیر شعوری اور اضطراری طور پر اس کی نگاہیں اپنے خالق کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور وہ فریاد کے لیے اسے پکارنے لگتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مشکلات میں اپنے خالق یا کسی ان دیکھی بالاتر قوت پر تکیہ کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے۔
4۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ہر سو بکھری ہوئی آیات پر غور کرنے سے بھی انسان کو ایک ایسی عظیم، مقتدر اور بالاتر ہستی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ جو اس کائنات کا نہایت مربوط نظم و نسق چلا رہی ہے اور انسان کو یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ خود اس ہستی کے دائرہ اقتدار سے کسی صورت باہر نہیں نکل سکتا۔ لہٰذا اس کی اطاعت کے بغیر اس کے لیے کوئی دوسرا چارہ کار نہیں۔
5۔ وہ کائنات میں یہ منظر بھی دیکھتا ہے کہ بعض ظالم زندگی بھر ظلم و جور کے طوفان اٹھانے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی۔ اسی طرح بعض انسان ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزار کر اور مصیبتیں سہہ سہہ کر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور انہیں کوئی صلہ نہیں ملتا۔ حالانکہ یہ نظام کائنات انتہائی عدل اور توازن و تناسب پر قائم ہے جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ انسان کو یقیناً ایک دوسری زندگی بھی مہیا کی جانی چاہیے جس میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔
6۔ ان سب ذرائع سے بڑھ کر اللہ نے انسان کی ہدایت کا یہ اہتمام فرمایا کہ انبیاء اور کتابیں ہر دور میں بھیج کر انسانوں پر اتمام حجت کر دی۔ ان سب باتوں کے بعد انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ اب وہ اپنے اختیار کا صحیح استعمال کر کے اس کا فرمانبردار اور شکرگزار بندہ بننا چاہتا ہے یا دنیا کی دلکشی میں مست ہو کر اللہ کو بھول جاتا یا اس کی سرکشی کی راہ اختیار کر کے نمک حرام بن جاتا ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا ہے۔ جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کا حق پہچانے۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عہد الست سے تعبیر فرمایا ہے۔
2۔ ہر انسان میں برے اور بھلے کی تمیز رکھ دی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ جب انسان کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگتا ہے۔
3۔ انسان جب مصائب میں گھر جاتا ہے تو غیر شعوری اور اضطراری طور پر اس کی نگاہیں اپنے خالق کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور وہ فریاد کے لیے اسے پکارنے لگتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مشکلات میں اپنے خالق یا کسی ان دیکھی بالاتر قوت پر تکیہ کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے۔
4۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ہر سو بکھری ہوئی آیات پر غور کرنے سے بھی انسان کو ایک ایسی عظیم، مقتدر اور بالاتر ہستی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ جو اس کائنات کا نہایت مربوط نظم و نسق چلا رہی ہے اور انسان کو یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ خود اس ہستی کے دائرہ اقتدار سے کسی صورت باہر نہیں نکل سکتا۔ لہٰذا اس کی اطاعت کے بغیر اس کے لیے کوئی دوسرا چارہ کار نہیں۔
5۔ وہ کائنات میں یہ منظر بھی دیکھتا ہے کہ بعض ظالم زندگی بھر ظلم و جور کے طوفان اٹھانے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی۔ اسی طرح بعض انسان ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزار کر اور مصیبتیں سہہ سہہ کر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور انہیں کوئی صلہ نہیں ملتا۔ حالانکہ یہ نظام کائنات انتہائی عدل اور توازن و تناسب پر قائم ہے جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ انسان کو یقیناً ایک دوسری زندگی بھی مہیا کی جانی چاہیے جس میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔
6۔ ان سب ذرائع سے بڑھ کر اللہ نے انسان کی ہدایت کا یہ اہتمام فرمایا کہ انبیاء اور کتابیں ہر دور میں بھیج کر انسانوں پر اتمام حجت کر دی۔ ان سب باتوں کے بعد انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ اب وہ اپنے اختیار کا صحیح استعمال کر کے اس کا فرمانبردار اور شکرگزار بندہ بننا چاہتا ہے یا دنیا کی دلکشی میں مست ہو کر اللہ کو بھول جاتا یا اس کی سرکشی کی راہ اختیار کر کے نمک حرام بن جاتا ہے۔
[5] یہ دنیا نہ دار الجزاء ہے نہ دار العیش بلکہ دار العمل ہے :۔
اس دنیا میں انسان کی تخلیق کا ٹھیک مقصد یہ ہے کہ یہ دنیا اس کے لیے دار الامتحان ہے۔ جہاں اس کی یہ آزمائش مقصود ہے کہ وہ اچھے یا برے کیسے اعمال بجا لاتا ہے؟ یہ دنیا دار الجزاء نہیں ہے کہ ہر ظالم کو یہاں فوراً سزا مل جائے یا نیک آدمی کو اس کی نیکی کا فوری طور پر بدلہ مل جائے۔ یہ دار العذاب بھی نہیں ہے۔
رُہبان، اہل تناسخ اور اشتراکی نظریات کی تردید :۔
جیسا کہ اہل طریقت، رہبان اور درویش قسم کے لوگوں کا خیال ہے کہ جسم کو عذاب دے دے کر روح کی ترقی کی منزلیں تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ نیز یہ دنیا اہل تناسخ کے نظریہ کے مطابق دار الجزاء بھی نہیں ہے کہ انسان اگر اپنی پہلی جون (زندگی) میں گناہ کرتا رہا ہے تو اب اس کی روح کسی ناپاک جسم مثلاً کتے یا سور میں ڈال دی جائے گی یا اگر وہ پچھلی جون میں نیک اعمال بجا لاتا رہا ہے تو اس کی روح کسی مہاتما کے جسم میں ڈال دی جائے گی۔ نیز یہ دنیا دہریوں، آخرت کے منکروں اور دنیا داروں کے نظریہ کے مطابق دار العیش یا تفریح گاہ بھی نہیں ہے کہ انسان یہاں جیسے جی چاہے زندگی گزار کر چلتا بنے اور اس کے اعمال پر اس سے کوئی بازپرس کرنے والا نہ ہو۔ نیز یہ دنیا جدلیاتی کشمکش کا میدان بھی نہیں ہے جیسا کہ ڈارون اور کارل مارکس کے پیروکار سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ دنیا انسان کے لیے دار الامتحان ہے۔ جہاں وہ جیسا بوئے گا آخرت میں ویسا ہی کاٹے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اس کی طرف اپنے رسول بھیجے، ان پر کتابیں نازل کیں اسے وہ راستہ دکھایا جو اس کے پاس پہنچاتا ہے، اس راستے کو واضح کیا اور اسے اس راستے کی ترغیب دی اور اسے ان نعمتوں کے بارے میں بتایا جو اسے اس کے پاس پہنچنے پر حاصل ہوں گی۔ پھر اس راستے سے خبردار کیا جو ہلاکت کی منزل تک پہنچاتا ہے، اسے اس راستے سے ڈرایا، اسے اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ جب وہ اس راستے پر چلے گا تو اسے کیا سزا ملے گی اور وہ کس عذاب میں مبتلا ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے:
اول:اس نعمت پر شکر ادا کرنے والا بندہ جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو بہرہ مند کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ان حقوق کو ادا کرنے والا جن کی ذمہ داری کا بوجھ اللہ تعالیٰ نے اس پر ڈالا ہے۔
ثانی: نعمتوں کی ناشکری کرنے والا، اللہ تعالیٰ نے اس کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے بہرہ مند کیا مگر اس نے ان نعمتوں کو ٹھکرا دیا اور اپنے رب کے ساتھ کفر کیا اور اس راستے پر چل نکلا جو ہلاکت کی گھاٹیوں میں لے جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جزا کے لحاظ سے دونوں فریقوں کا ذکر کیا تو فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أرسل إليه الرُّسل، وأنزل عليه الكتب، وهداه الطريق الموصلة إليه ، وبيَّنها، ورغَّبه فيها، وأخبره بما له عند الوصول إليه ، ثم أخبره بالطريق الموصلة إلى الهلاك، ورهَّبه عنها ، وأخبره بما له إذا سلكها، وابتلاه بذلك، فانقسم الناس إلى شاكرٍ لنعمة الله عليه، قائم بما حمله الله من حقوقه. وإلى كفورٍ للنعم أنعم الله عليه بالنعم الدينيَّة والدنيويَّة، فردَّها وكفر بربه، وسلك الطريق الموصلة إلى الهلاك. [ثم ذكر تعالى الفريقين عند الجزاء، فقال]: