(آیت 26،25){ وَاذْكُرِاسْمَرَبِّكَبُكْرَةًوَّاَصِيْلًا (25) وَمِنَالَّيْلِ …:} دعوت کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کرنے کے لیے قرآن مجید اللہ کے ذکر، نماز اور تسبیح کا حکم دیتا ہے، کیونکہ انھی چیزوں سے انسان ثابت قدم اور حوصلہ مند رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَاسْتَعِيْنُوْابِالصَّبْرِوَالصَّلٰوةِ» [البقرۃ: ۴۵]”اور نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ اور سورۂ مزمل میں کلامِالٰہی کی بھاری ذمہ داری اٹھانے کی استعداد کے لیے تہجد اور ذکر کا حکم دیا۔ یہاں بھی قرآن کی دعوت و تبلیغ کے راستے میں صبر کی تلقین کے ساتھ حکم دیا کہ صبح اور پچھلے پہر اپنے رب کا نام یاد کر اور رات کے کچھ حصے میں بھی اس کے لیے سجدہ کر۔ ذکر کی اعلیٰ ترین صورت نماز ہے۔ اوقات کی تعیین کے ساتھ ذکر کے حکم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا بھی حکم دیا جا رہا ہے، چنانچہ {”بُكْرَةً“} میں صبح کی نماز اور {”اَصِيْلًا“} میں ظہر و عصر کی نمازیں اور {”مِنَالَّيْلِ“} (رات کے کچھ حصے) میں مغرب و عشاء کی نمازیں آجاتی ہیں اور {”سَبِّحْهُلَيْلًاطَوِيْلًا“} سے مراد تہجد کی نماز ہے۔ یہ پانچوں نمازیں اگرچہ ان رکعات و متعین اوقات کے ساتھ معراج کی رات فرض ہو ئیں، مگر ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی ذکر و صلوٰۃ کے اوقات یہی تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
25۔ 1 صبح شام سے مراد تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کر، یا صبح سے مراد فجر کی نماز اور شام سے عصر کی نماز ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ اور صبح و شام اپنے پروردگار [29] کا نام یاد کیجیے
[29] نمازوں کے اوقات :۔
اس صبر اور برداشت کے لیے جو قوت درکار ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے ذکر اور اس پر توکل کرنے سے حاصل ہو گی۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کو یاد کیا کیجیے۔ واضح رہے کہ اگرچہ پنج وقتہ نماز شب معراج میں فرض ہوئی تھی اور ہر نماز میں رکعات کی تعداد اور نماز کی دوسری جزئیات بتائی گئی تھیں۔ تاہم اس سے پہلے بھی نمازوں کے اوقات تقریباً وہی تھے مثلاً اس آیت میں ﴿بُكْرَةًوَّاَصِيْلًا﴾ کے الفاظ آئے ہیں۔ بکرہ سے مراد پہلے پہر یا صبح کی نماز ہے اور اصیلا زوال آفتاب سے غروب آفتاب کے وقت کو کہتے ہیں یہ ظہر اور عصر کی نمازیں ہوئیں۔ اور اس سے اگلی آیت میں رات سے مراد شام اور عشاء کی نمازیں ہیں۔ اور ﴿لَيْلاًطَوِيْلاً﴾ سے مراد تہجد کی نماز ہے۔ جو آپ پر فرض تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔