(آیت 22){ اِنَّهٰذَاكَانَلَكُمْجَزَآءً …:} ”یہ سب کچھ تمھارے اعمال کا بدلا ہے اور تمھاری کوشش قدر کی ہوئی ہے“ یہ بات جنتیوں سے کہی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ انھیں تھوڑی سی عمر کے اعمال کے بدلے میں ابدالآباد کی یہ نعمتیں عطا فرمائے گا۔ اس سے بڑھ کر قدر دانی کیا ہو سکتی ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ (اور فرمائے گا) یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کوشش کی قدر [26] کی گئی ہے۔
[26] یعنی یہ نعمتیں عطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ دنیا میں میری خاطر جو تم نے مصیبتیں برداشت کیں اور میرے احکام کی پابندیوں کا خیال رکھا۔ تمہاری ان محنتوں کی آج پوری قدر کی جاتی ہے اور ان کا تمہیں بیش بہا بدلہ دیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں