ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 16

قَؔوَارِیۡرَا۠ مِنۡ فِضَّۃٍ قَدَّرُوۡہَا تَقۡدِیۡرًا ﴿۱۶﴾
ایسا شیشہ جو چاندی سے بنا ہو گا،انھوں نے ان کااندازہ رکھا ہے، خوب اندازہ رکھنا۔ En
اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں
En
شیشے بھی چاندی کے جن کو (ساقی نے) اندازے سے ناپ رکھا ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 15 میں تا آیت 17 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔ 1 یعنی یہ برتن اور آب خورے چاندی اور شیشے سے بنے ہونگے، نہایت نفیس اور نازک۔ 16۔ 2 یعنی ان میں شراب ایسے اندازے سے ڈالی گئی ہوگی کہ جس سے وہ سیراب بھی ہوجائیں، تشنگی محسوس نہ کریں اور برتنوں اور جاموں میں بھی زائد نہ بچی رہے۔ مہمان نوازی کے اس طریقے میں بھی مہمانوں کی عزت افزائی ہی کا اہتمام ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ شیشے بھی ایسے جو چاندی [18] سے مرکب ہوں گے اور انہیں (منتظمین جنت نے) ایک خاص ترکیب [19] سے بنایا ہو گا
[18] دنیا میں کئی قسم کے شیشے ایجاد ہو چکے ہیں۔ اور ایسی اشیاء بھی جو شیشے کے علاوہ ہونے کے باوجود شیشے کی طرح صاف شفاف بھی ہیں جیسے پلاسٹک کی اشیاء لیکن یہ چیزیں آتش گیر ہوتی ہیں جنت میں چاندی اور اس کے برتنوں کو شیشے کی طرح صاف شفاف بنا دیا جائے گا اور یہ صنعت دنیا میں آج تک ایجاد نہیں ہو سکی اور شاید آئندہ بھی نہ ہو سکے۔
[19] اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان چاندی کے شیشہ نما برتنوں کو اتنی مخصوص مقدار میں ہی بھرا جائے گا۔ جتنی پینے والے کی طلب ہو گی، نہ انہیں اور مانگنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی یہ صورت ہو گی کہ برتن میں کچھ مشروب بچ جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔