(آیت 16،15) {وَيُطَافُعَلَيْهِمْبِاٰنِيَةٍ …: ”آنِيَةٌ“”إِنَاءٌ“} کی جمع ہے، بروزن {”أَفْعِلَةٌ“} اور {”اَكْوَابٍ“”كُوْبٌ“} کی جمع ہے، برتن جس کی نہ ٹونٹی ہو نہ دستی، آبخورے۔ یعنی ان کی مجلس میں چاندی کے ایسے برتنوں اور آبخوروں کا دور چلے گا جو شیشے کے ہوں گے، ایسا شیشہ جو چاندی سے بنا ہو گا۔ ایسے برتنوں کا دنیا میں کہیں وجود نہیں، کیونکہ دنیا کی چاندی کو کوٹ کر مچھر کے پر کے برابر باریک بھی کر دیا جائے تب بھی وہ شیشے کی طرح شفاف نہیں ہوسکتی۔ برتنوں کی یہ قسم جنت ہی میں ہو گی جو چاندی کی طرح سفید اور شیشے کی طرح شفاف ہو گی۔ {”قَدَّرُوْهَاتَقْدِيْرًا“} یعنی وہ پینے والوں کی ضرورت کے عین اندازے کے مطابق بنے ہوئے ہوں گے، نہ کم نہ زیادہ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 یعنی خادم انہیں لے کر جنتیوں کے درمیان پھریں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ اور ان پر چاندی کے برتن اور شیشے کے ساغر پھرائے جائیں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
خدمت گار لڑکے اور خدام، اہل جنت کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے ﴿ بِاٰنِیَةٍمِّنْفِضَّةٍوَّاَكْوَابٍكَانَتْقَ٘ؔوَارِیْرَاۡۙ۰۰قَ٘ؔوَارِیْرَاۡمِنْفِضَّةٍ ﴾”چاندی کے برتن لیے، ہوئے اور شیشے کے (شفاف) گلاس لیے ہوئے، شیشے بھی چاندی کے ہوں گے۔“ یعنی ان کا مادہ چاندی ہو گا ان کی صفائی شیشے کی سی ہو گی۔ یہ ایک عجیب ترین چیز ہو گی کہ چاندی جو کہ کثیف ہوتی ہے اپنے جوہر کی صفائی اور اچھے معدن کی بنا پر شیشے کے صاف و شفاف ہونے کی مانند صاف و شفاف ہو گی۔
﴿ قَدَّرُوْهَاتَقْدِیْرًا ﴾”جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں۔“ یعنی ان مذکور برتنوں (کے حجم) کو اپنی سیرابی کی مقدار کے مطابق بنائیں گے، اس سے کم ہوں گے نہ زیادہ کیونکہ اگر حجم میں زیادہ ہوں تو ان کی لذت کم ہوجائے گی اگر کم ہوں گے تو ان کی سیرابی کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اہل جنت ان برتنوں کو ایسی مقدار پر بنائیں گے جو ان کی لذات کے موافق ہو گی، وہ برتن ان کے پاس ایسے حجم اور مقدار پر آئیں گے جس کا اندازہ انھوں نے اپنے دلوں میں کیا ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويُطافُ عليهم}؛ أي: يدور الولدان والخدم على أهل الجنة ، {بآنيةٍ من فضَّةٍ وأكوابٍ كانت قواريرَ. قواريرَ من فضَّةٍ}؛ أي: مادتها فضَّةٌ، وهي على صفاء القوارير، وهذا من أعجب الأشياء؛ أن تكون الفضَّةُ الكثيفة من صفاء جوهرها وطيب معدنها على صفاء القوارير، {قدَّروها تَقْديراً}؛ أي: قدَّروا الأواني المذكورة على قدرِ رِيِّهم؛ لا تزيدُ ولا تنقصُ؛ لأنَّها لو زادت؛ نقصتْ لذَّتها، ولو نقصت؛ لم تكفِهِم لرِيِّهم. ويُحتمل أنَّ المراد: قدَّرها أهلُ الجنة - بمقدارٍ يوافقُ لذَّتَهم، فأتتْهم على ما قدَّروا في خواطرهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔