ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 15

وَ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِاٰنِیَۃٍ مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ اَکۡوَابٍ کَانَتۡ قَؔوَارِیۡرَا۠ ﴿ۙ۱۵﴾
اور ان پر چاندی کے برتن اور آبخورے پھرائے جائیں گے، جو شیشے کے ہوں گے۔ En
خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس
En
اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جائے گا جو شیشے کے ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16،15) {وَ يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِاٰنِيَةٍ …: آنِيَةٌ إِنَاءٌ} کی جمع ہے، بروزن {أَفْعِلَةٌ} اور { اَكْوَابٍ كُوْبٌ} کی جمع ہے، برتن جس کی نہ ٹونٹی ہو نہ دستی، آبخورے۔ یعنی ان کی مجلس میں چاندی کے ایسے برتنوں اور آبخوروں کا دور چلے گا جو شیشے کے ہوں گے، ایسا شیشہ جو چاندی سے بنا ہو گا۔ ایسے برتنوں کا دنیا میں کہیں وجود نہیں، کیونکہ دنیا کی چاندی کو کوٹ کر مچھر کے پر کے برابر باریک بھی کر دیا جائے تب بھی وہ شیشے کی طرح شفاف نہیں ہوسکتی۔ برتنوں کی یہ قسم جنت ہی میں ہو گی جو چاندی کی طرح سفید اور شیشے کی طرح شفاف ہو گی۔ { قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا } یعنی وہ پینے والوں کی ضرورت کے عین اندازے کے مطابق بنے ہوئے ہوں گے، نہ کم نہ زیادہ۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 یعنی خادم انہیں لے کر جنتیوں کے درمیان پھریں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ اور ان پر چاندی کے برتن اور شیشے کے ساغر پھرائے جائیں گے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔