اس آیت کی تفسیر آیت 34 میں تا آیت 36 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35۔ 1 یہ کلمہ وعید سے کہا جاتا ہے کہ اس کی اصل ہے، اللہ تجھے ایسی چیز سے دو چار کرے جسے تو ناپسند کرے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ پھر افسوس پر افسوس [19] ہے تجھ پر
[19] ابو جہل کا شیخی بگھارنا اور متکبرانہ چال :۔
آیت نمبر 31 سے 35 تک کافروں کے ایک اور سردار کا کردار بغیر نام لیے پیش کیا گیا ہے یہ کردار ابو جہل تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ آیات پڑھ کر سنائیں تو بد بخت کہنے لگا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ کو کیا ڈراتے ہو، میرا نہ تم کچھ بگاڑ سکتے ہو اور نہ تمہارا پروردگار کچھ بگاڑ سکتا ہے۔ بخدا اس وادی میں میری عزت سب سے زیادہ ہے اور میری محفل سب سے بڑی ہے۔ واضح رہے کہ ولید بن مغیرہ کے بعد یہی ابو جہل قریشیوں کا بڑا سردار اور سپہ سالار مقرر ہوا تھا۔ قرآن کی آیات سن کر انہیں جھٹلا دیا پھر متکبرانہ انداز سے منہ موڑ کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ ضمناً آیت 31 سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی آیات کو سچا سمجھنے کی سب سے پہلی اور اہم علامت نماز کی ادائیگی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔