ترجمہ و تفسیر — سورۃ القيامة (75) — آیت 17

اِنَّ عَلَیۡنَا جَمۡعَہٗ وَ قُرۡاٰنَہٗ ﴿ۚۖ۱۷﴾
بلاشبہ اس کوجمع کرنا اور (آپ کا ) اس کو پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔ En
اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمے ہے
En
اس کا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 16 میں تا آیت 18 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 یعنی آپ کے سینے میں اس کا جمع کردینا اور آپ کی زبان پر اس کی قرأت کو جاری کردینا ہماری ذمہ داری ہے۔ تاکہ اس کا کوئی حصہ آپ کی یادداشت سے نہ نکلے اور آپ کے ذہن سے محو نہ ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ اس وحی کو (آپ کے دل میں) جمع کرنا اور زبان سے پڑھوا دینا ہمارے ذمہ [12] ہے۔
[12] چار آیات درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہیں ان کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جبرئیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لے کر آتے تو آپ زبان اور لب ہلاتے رہتے (کہ کہیں بھول نہ جائے) اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سختی ہو جاتی جو دوسروں کو بھی معلوم ہو جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں یعنی وحی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جما دینا (یاد کرا دینا) ہمارے ذمہ ہے اور اس کا پڑھا دینا بھی۔ تو جب ہم پڑھ چکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح پڑھیں جیسے ہم نے پڑھا تھا اور جب تک وحی اترتی رہے۔ خاموش سنتے رہیں۔ پھر وحی کے الفاظ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر رواں کر دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔ چنانچہ ان آیات کے نزول کے بعد جب جبریل آتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے اور جب چلے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح پڑھ کر سنا دیتے جس طرح اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا ہوتا۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر، نیز باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم]
قرآن کا بیان کیا چیز ہے؟
ان آیات سے کئی اہم امور پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے صرف قرآن ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ قرآن کا بیان بھی نازل فرمایا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح اللہ نے قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ اس کے بیان کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کا بیان ہے کیا چیز؟ تو واضح رہے کہ محض قرآن کے الفاظ کو دہرا دینے کا نام بیان نہیں بلکہ بیان میں ان قرآنی الفاظ کا مفہوم بتانا، اس کی شرح و تفسیر، اس کی حکمت عملی اور طریق بتانا سب کچھ شامل ہے۔ قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نازل کرنے والے یعنی اللہ تعالیٰ اور جس پر نازل ہوا ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے نزدیک قرآن کے الفاظ کا مفہوم متعین ہو اور وہ ایک ہی ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ زید (متکلم) بکر (مخاطب) سے کہتا ہے کہ:” پانی لاؤ“ تو بکر زید کے حکم کی تعمیل اسی صورت میں کر سکے گا کہ متکلم اور مخاطب دونوں کے ذہن میں ”پانی“ اور ”لاؤ“ دونوں الفاظ کا مفہوم متعین ہو اور وہ ایک ہی ہو۔ ورنہ بکر زید کے حکم کی تعمیل کرنے سے قاصر رہے گا۔ مثلاً اگر زید کوئی ذومعنی لفظ بولے گا تو جب تک اس کی مزید وضاحت نہ کرے گا یا اگر زید کا مخاطب کوئی ایسا شخص ہو گا جو اردو سمجھتا ہی نہیں تو بکر زید کے حکم کی بجا آوری کی خواہش رکھنے کے باوجود اس پر عمل نہ کر سکے گا اور سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن کے الفاظ ہی نازل نہیں فرمائے بلکہ ان الفاظ کا مفہوم (بیان) بھی مخاطب (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ذہن میں القاء کر دیا۔ یہ بیان بھی امت کو بتلانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی۔ [44: 16]
اب اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ بیان یعنی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آزاد ہو کر محض لغت کی رو سے قرآن کے الفاظ کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو مندرجہ ذیل چار وجوہ کی بنا پر ناکامی ہو گی: سنت سے بے نیاز ہو کر قرآن پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والوں کی ناکامی کی چار وجوہ:
اولاً :
بعض الفاظ کا مفہوم متعین کرنا اس لیے مشکل ہوتا ہے کہ لغت میں ایک لفظ کے بہت سے معنی درج ہوتے ہیں۔ مثلاً لفظ صلوٰۃ کے معنی نماز، برکت، رحمت اور نماز، نماز جنازہ تو ایسے ہیں جن کی آیات سے بھی تائید ہوتی ہے۔ مگر نماز کی ادائیگی کرنے کے لیے، وضو، تیمم، مساجد، قبلہ رخ ہونا، رکوع، سجود وغیرہ کا ذکر بھی آیا۔ لہٰذا مندرجہ بالا معنی میں سے کوئی بھی اس کا صحیح مفہوم ادا نہیں کرتا۔ پھر لغت میں مصلی کے معنی وہ گھوڑا بھی ہے جو گھڑ دوڑ میں اول نمبر آنے والے گھوڑے کے پیچھے پیچھے دوسرے نمبر پر آیا ہو۔ علاوہ ازیں صلوٰۃ کے معنی ”کولھے ہلانا“ بھی ہے۔ چنانچہ بعض منچلوں نے صلٰوۃ کی ادائیگی سے ”پریڈ“ کرنا مفہوم لیا اور بعض دوسروں نے رقص و سرود کی مجالس منعقد کرنا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ سب مفہوم شریعت کی رو سے غلط ہیں۔ اور اس کی وجوہ وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئیں۔
ثانیاً :
ہر زبان میں بعض الفاظ بطور اصطلاح مروج ہوتے ہیں جنہیں اہل زبان خوب جانتے ہیں۔ مثلاً لفظ ”اخبار“ کا لغوی معنی محض ”خبریں“ ہے مگر اس کا اصطلاحی مفہوم وہ پرچہ (Newspaper) جس میں خبروں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ درج ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ اصطلاحیں فنی اور تکنیکی ہوتی ہیں۔ جنہیں صرف اہل علم و فن ہی جانتے ہیں۔ لغت چونکہ ”زبان“ کے الفاظ کے معنی بیان کرتی ہے لہٰذا ایسی اصطلاحات کا مفہوم بیان کرنا اس کے دائرہ سے خارج ہوتا ہے اور ایسی اصطلاحات کے لئے الگ کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ مثلاً خبر واحد، طول بلد، سرایت حرارت، کشش ثقل وغیرہ وغیرہ ایسی اصطلاحات ہیں جن کے مفہوم کو عام اہل زبان نہیں جانتے۔ قرآن چونکہ علوم شرعیہ کا منبع ہے لہٰذا اس میں بے شمار ایسی اصطلاحات مثلاً دین، الٰہ، عبادت، صلوٰۃ، زکوٰۃ، معروف، منکر، حج، عمرہ، آخرت وغیرہ استعمال ہوئی ہیں۔ ایسی اصطلاحات کا مفہوم متعین کرنا بھی اللہ اور اس کے رسول کا کام ہے۔ شرعی اصطلاحات کا جو مفہوم اللہ اور اس کے رسول نے بیان کیا ہو وہی قرآن کا بیان کہلاتا ہے اور یہی بیان امت کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے۔ قرآن کے بیان کی حفاظت کے بغیر صرف قرآن کے الفاظ کی حفاظت بے معنی ہے:
ثالثاً :
محاورات مقامی طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جو یا تو اہل زبان سے سیکھنا پڑتے ہیں یا کسی محاورات کی کتاب سے دیکھنا ہوں گے۔ لکھنؤ میں ایک ڈاکٹر صاحب کو اس کا دوست ملنے گیا جو اس علاقہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ ڈاکٹر کے کلینک میں ایک مریض آیا اور کہنے لگا: میں نے آج رات تین بار زمین دیکھی ہے۔ ڈاکٹر نے مریض کی شکایت سن کر دوا دے دی اور وہ چلا گیا بعد میں وہ دوست ڈاکٹر سے کہنے لگا، میں نہیں سمجھ سکا کہ مریض نے کیا تکلیف بیان کی تھی جس کی آپ نے دوا دی۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ زمین دیکھنا سے یہاں ”قے کرنا“ مراد لیا جاتا ہے اور میں نے اس مرض کی دوا دی تھی۔ سنت کا منکر قرآن کا بھی منکر ہے:
رابعاً :
بعض دفعہ ایک لفظ کسی خاص معنی میں مشہور ہو جاتا ہے جبکہ لغوی لحاظ سے اس میں اختلاف کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ اندریں صورت صرف عرف کا لحاظ رکھا جائے گا۔ مثلاً ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مراد عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی ہوں گے حالانکہ لغوی لحاظ سے ان کے دوسرے بیٹے فضیل کو بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنا درست ہے۔ اسی طرح مسجد اقصیٰ سے مراد صرف بیت المقدس ہی لیا جائے گا نہ کہ دور کی کوئی مسجد جیسا کہ منکرین معجزات واقعہ اسراء کی تاویل میں مسجد اقصیٰ سے مراد بیت المقدس نہیں لیتے بلکہ کوئی بھی دور کی مسجد مراد لے لینا ان کے نزدیک درست ہے۔ مندرجہ بالا تصریحات سے تین نتائج سامنے آتے ہیں:
1۔ اللہ نے صرف قرآن کے الفاظ کی ہی حفاظت کا ذمہ نہیں لے رکھا بلکہ قرآن کے بیان کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ کیونکہ اگر قرآن کے بیان کی حفاظت نہ کی جائے تو الفاظ کی حفاظت کوئی معنی نہیں رکھتی اور قرآن بچوں کا کھیل بن جاتا ہے۔
2۔ واجب الاتباع ہونے کے لحاظ سے قرآن اور قرآن کے بیان یعنی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی فرق نہیں۔
3۔ قرآن کا بیان یا تشریح و تفسیر وہی قابل اعتماد ہو سکتی ہے جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ٭٭
یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ ’ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے ‘۔ پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی،
جیسے اور جگہ ہے «لَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ ۡ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» ۱؎ [20-طه:114]‏‏‏‏ یعنی ’ جب تک تیرے پاس وحی پوری نہ آئے تو پڑھنے میں جلدی نہ کیا کر ہم سے دعا مانگ کہ میرے رب میرے علم کو زیادہ کرتا رہے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ اسے تیرے سینے میں جمع کرنا اور اسے تجھ سے پڑھوانا ہمارا ذمہ ہے جب ہم اسے پڑھیں (‏‏‏‏یعنی ہمارا نازل کردہ فرشتہ جب اسے تلاوت کرے تو) تو سن لے جب وہ پڑھ چکے تب تو پڑھ ہماری مہربانی سے تجھے پورا یاد ہو گا اتنا ہی نہیں بلکہ حفظ کرانے تلاوت کرانے کے بعد ہم تجھے اس کی معنی مطالب تعین و توضیح کے ساتھ سمجھا دیں گے تاکہ ہماری اصلی مراد اور صاف شریعت سے تو پوری طرح آگاہ ہو جائے ‘۔
مسند میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے وحی کو دل میں اتارنے کی سخت تکلیف ہوتی تھی اس ڈر کے مارے کہ کہیں میں بھول نہ جاؤں فرشتے کے ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ ہلتے جاتے تھے چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی حدیث نے اپنے ہونٹ ہلا کر دکھایا کہ اس طرح اور ان کے شاگرد سعید رحمہ اللہ نے بھی اپنے استاد کی طرح ہلا کر اپنے شاگرد کو دکھائے اس پر یہ آیت اتری کہ ’ اتنی جلدی نہ کرو اور ہونٹ نہ ہلاؤ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے اس کی تلاوت کرانا ہمارے سپرد ہے جب ہم اسے پڑھیں تو آپ سنئے اور چپ رہئے جبرائیل کے چلے جانے کے بعد انہی کی طرح ان کا پڑھایا ہوا پڑھنا بھی ہمارے سپرد ہے ‘ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:50]‏‏‏‏