ترجمہ و تفسیر — سورۃ القيامة (75) — آیت 14

بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰی نَفۡسِہٖ بَصِیۡرَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾
بلکہ انسان اپنے آپ کو خوب دیکھنے والا ہے۔ En
بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے
En
بلکہ انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15،14) {بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ …: بَصِيْرَةٌ بَصُرَ} (ک) سے صفت کا صیغہ ہے۔ تاء مزید مبالغے کے لیے ہے، جیسے {عَلَّامَةٌ} میں ہے، یہ تائے تانیث نہیں ہے، خوب دیکھنے والا۔ { مَعَاذِيْرَ مَعْذِرَةٌ} کی جمع ہے، یعنی اس دن انسان کو پہلے اور پچھلے اعمال بتائے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے معلوم نہیں کہ وہ کیا کرتا رہا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنے متعلق خوب معلوم ہے کہ وہ اچھا کام کر رہا ہے یا برا۔ پھر دوسروں کے سامنے اپنے کفر و شرک، خالق کی نافرمانی، اس کی مخلوق پر ظلم و ستم اور اپنی خواہش پرستی کے جواز کے لیے مجبوری یا مصلحت کے لاکھ بہانے گھڑے، مگر خود اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اور بہانہ بازی کر رہا ہے۔ اس کے نفس کی ملامت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے کرتوتوں سے آگاہ ہے۔ نامۂ اعمال پیش کیے جانے کا مطلب تو اس پر حجت تمام کرنا ہے اور یہ حجت صرف نامۂ اعمال کے ذریعے سے نہیں بلکہ اس کے ہر ہر عضو کو بلوا کر اور زمین کے ہر اس حصے کو بلوا کر جس پر اس نے نافرمانی کی تھی، پوری کی جائے گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 یعنی اس کے اپنے ہاتھ، پاؤں، زبان اور دیگر اعضاء گواہی دیں گے، یا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنے عیوب خود جانتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ بلکہ انسان اپنے آپ کو خود خوب دیکھنے والا ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌ بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔ یعنی گواہ اور محاسب ہے ﴿ وَّلَوْ اَلْ٘قٰى مَعَاذِیْرَهٗ خواہ وہ معذرت پیش کرے۔ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِقْ٘رَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَ٘فٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًا (بنی اسرائیل:17؍14) اپنا اعمال نامہ پڑھ، آج تو خود ہی اپنا محاسب کا فی ہے۔ بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے، نیز رضا مندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا ﴿ فَیَوْمَىِٕذٍ لَّا یَنْفَ٘عُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ۠ (الروم:30؍57) اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{بل الإنسانُ على نفسِهِ بصيرةٌ}؛ أي: شاهدٌ ومحاسبٌ، {ولو ألقى معاذيرَةُ}: فإنَّها معاذيرُ لا تُقبل، بل يقرَّر بعمله ، فَيُقِرُّ به؛ كما قال تعالى: {اقرأ كتابَكَ كفى بنفسِكَ اليوم عليك حَسيباً}: فالعبدُ وإن أنكر أو اعتذر عمَّا عمله؛ فإنكارُه واعتذارُه لا يفيدانه شيئاً؛ لأنَّه يشهد عليه سمعُه وبصره وجميعُ جوارحه بما كان يعمل، ولأنَّ استعتابه قد ذهب وقتُه وزال نفعُه، {فيومئذٍ لا ينفعُ الذين ظلموا معذِرَتُهم ولا هم يُسْتَعْتَبونَ}.