اس آیت کی تفسیر آیت 10 میں تا آیت 12 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 وَزَرَ پہاڑ یا قعلے کو کہتے ہیں جہاں انسان پناہ حاصل کرلے۔ وہاں ایسی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ ہرگز نہیں! اسے کوئی پناہ کی جگہ [9] نہ ملے گی
[9] یعنی آج تو انسان یہ پوچھتا ہے کہ قیامت آئے گی کب؟
لیکن جب قیامت فی الواقع آجائے گی تو اس وقت اس سے بچ جانے کی اور بھاگ کھڑا ہونے کی صورت سوچے گا اور دوسروں سے پوچھے گا مگر اس میں اسے سخت ناکامی ہو گی۔ نہ کوئی فرار کا راستہ ملے گا اور نہ پناہ کی جگہ اور انسان اس بات پر مجبور ہو گا کہ سیدھا اپنے پروردگار کے حضور پیش ہو جائے۔ اس کے علاوہ اس کے لیے کوئی چارہ کار نہ ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ كَلَّالَاوَزَرَ﴾”ہرگز نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ نہیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔ ﴿ اِلٰىرَبِّكَیَوْمَىِٕذِِ۟الْ٘مُسْتَقَرُّ﴾ اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہو گا، کسی کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ چھپ سکے یا اس جگہ سے بھاگ سکے، اسے وہاں ضرور ٹھہرایا جائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے، اس لیے فرمایا: ﴿ یُنَبَّؤُاالْاِنْسَانُیَوْمَىِٕذٍۭؔبِمَاقَدَّمَوَاَخَّرَ﴾”اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔“ انسان کو اس کے اول وقت اور آخروقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کر سکے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{كلاَّ لا وَزَرَ}؛ أي: لا ملجأ لأحدٍ دون الله، {إلى ربِّكَ يومئذٍ المستقرُّ}: لسائر العباد، فليس في إمكان أحدٍ أن يستترَ أو يهرب عن ذلك الموضع، بل لا بدَّ من إيقافه؛ ليجزى بعمله، ولهذا قال: {يُنَبَّأ الإنسانُ يومئذٍ بما قَدَّمَ وأخَّرَ}؛ أي: بجميع عمله الحسن والسيئ، في أول وقته وآخره، وينبَّأ بخبرٍ لا ينكِرُه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔