(آیت 9،8) {فَاِذَانُقِرَفِيالنَّاقُوْرِ …: ”النَّاقُوْرِ“”نَقَرَيَنْقُرُ“} (ن) سے {”فَاعُوْلٌ“} کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے پھونکنا، ایسی ضرب لگانا کہ سوراخ ہو جائے، مراد صور ہے۔ شروع سورت میں ڈرانے کا حکم ہے، اب اس کی تفصیل ہے کہ جس دن صورمیں پھونکا جائے گا اور ہر چیز فنا ہو نے کے بعد دوبارہ سب لوگ قبروں سے نکل کر اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو وہ ایک مشکل دن ہوگا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ پس جب صور میں پھونک ماری جائے گی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔