ترجمہ و تفسیر — سورۃ المدثر (74) — آیت 8

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾
سو جب صور میں پھونکا جائے گا۔ En
جب صور پھونکا جائے گا
En
پس جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9،8) {فَاِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُوْرِ …: النَّاقُوْرِ نَقَرَ يَنْقُرُ} (ن) سے {فَاعُوْلٌ} کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے پھونکنا، ایسی ضرب لگانا کہ سوراخ ہو جائے، مراد صور ہے۔ شروع سورت میں ڈرانے کا حکم ہے، اب اس کی تفصیل ہے کہ جس دن صورمیں پھونکا جائے گا اور ہر چیز فنا ہو نے کے بعد دوبارہ سب لوگ قبروں سے نکل کر اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو وہ ایک مشکل دن ہوگا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ پس جب صور میں پھونک ماری جائے گی

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔