(آیت 48) ➊ {فَمَاتَنْفَعُهُمْشَفَاعَةُالشّٰفِعِيْنَ:} کیونکہ کفار کے حق میں سفارش کی اجازت ہی نہیں ہو گی، اگر کوئی کرے گا بھی تو کافر کے حق میں قبول نہیں ہو گی، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے حق میں سفارش کریں گے تو قبول نہیں ہو گی۔ یاد رہے کہ کفار کو سفارشیوں کی سفارش کا فائدہ نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سفارش سے جہنم سے نہیں نکل سکیں گے، البتہ تخفیف عذاب کا فائدہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ابو طالب کے عذاب میں تخفیف ہو گی۔ ➋ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ مومن موحد ہیں مگر اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے انھیں سفارش فائدہ دے گی۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے انبیاء، شہداء اور صلحاء ان کی سفارش کریں گے اور وہ ان کی سفارش سے جہنم سے نکل آئیں گے، جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
48۔ 1 یعنی جو صفات مذکورہ کا حامل ہوگا، اسے کسی کی شفاعت بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی، اس لئے کہ کفر کی وجہ سے محل شفاعت ہی نہیں ہوگا، شفاعت تو صرف ان کے لئے مفید ہوگی جو ایمان کی وجہ سے شفاعت کے قابل ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ (اس وقت) سفارش کرنے والوں کی سفارش انہیں کچھ فائدہ نہ دے گی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰينُؤْتٰىمِثْلَمَآاُوْتِيَرُسُلُاللّٰهِ»۱؎[6-الأنعام:124] یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَاتَشَاءُونَإِلَّاأَنيَشَاءَاللَّـهُ»۱؎[76-الإنسان:30] یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎[سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُلِلَّـه»
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔