اس آیت کی تفسیر آیت 38 میں تا آیت 40 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
39۔ 1 یعنی وہ گناہوں کے اسیر نہیں ہوں گے بلکہ اپنے نیک اعمال کی وجہ سے آزاد ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
39۔ سوائے دائیں ہاتھ [20] والوں کے
[20] اصحاب الیمین یعنی دائیں جانب یا دائیں ہاتھ والے۔ یہ ان لوگوں کا لقب ہے جن کو جنت کا پروانہ ملنے والا ہو گا۔ اور اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ ان لوگوں کی پوری تفصیل پہلے سورۃ واقعہ میں گزر چکی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘۔ «یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «وَاعْبُدْرَبَّكَحَتّٰىيَاْتِيَكَالْيَقِيْنُ»۱؎[15-الحجر:99] یعنی ’ موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ ‘ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3929]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔