ترجمہ و تفسیر — سورۃ المدثر (74) — آیت 38

کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ رَہِیۡنَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾
ہر شخص اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی رکھا ہوا ہے۔ En
ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گرو ہے
En
ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 39،38) {كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ …:} یعنی جس طرح کوئی گروی رکھی ہوئی چیز اس وقت تک نہیں چھوٹتی جب تک وہ حق ادا نہ کر دیا جائے جس کے بدلے اسے گروی رکھا گیا ہے، اسی طرح ہر شخص اپنے عمل کے عوض گروی اور گرفتار ہو گا، جب تک وہ عمل پیش نہ کرے جس کی ادائیگی اس پر واجب تھی، رہائی نہیں پا سکتا۔ ہاں جنھیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا وہ گرفتار نہیں ہو ں گے بلکہ اعمالِ صالحہ کی وجہ سے رہا ہو جائیں گے، جس طرح حق ادا کرنے سے گروی چھوٹ جاتی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

38۔ 1 رہن گروی کو کہتے ہیں یعنی ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہے، وہ عمل اسے عذاب سے چھڑا لے گا، (اگر نیک ہوگا) یا ہلاک کروا دے گا۔ (اگر برا ہے)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گروی پڑا ہوا ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘۔
«یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «‏‏‏‏وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» ۱؎ [15-الحجر:99]‏‏‏‏ یعنی ’ موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ ‘ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ ‏‏‏‏[صحیح بخاری:3929]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ كُ٘لُّ نَفْ٘سٍۭؔ بِمَا كَسَبَتْ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِیْنَةٌ گروی ہے۔ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔
﴿ اِلَّاۤ اَصْحٰؔبَ الْیَمِیْنِ سوائے دائیں ہاتھ والوں کے کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِیْ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ یَتَسَآءَلُوْنَ۠ۙ۰۰عَنِ الْمُجْرِمِیْنَ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟
پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے: ﴿ مَا سَلَكَـكُمْ فِیْ سَقَرَ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّ٘یْ٘نَۙ۰۰وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَ کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىِٕضِیْنَ۠ اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَ پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{كلُّ نفس بما كسبتْ}: من أفعال الشرِّ وأعمال السوء {رهينةٌ}: بها موثقةٌ بسعيها، قد أُلْزِمَ عنقها وغُلَّ في رقبتها واستوجبت به العذاب، {إلاَّ أصحابَ اليمين}: فإنَّهم لم يرتهنوا، بل أُطلقوا وفرحوا {في جناتٍ يتساءلونَ. عن المجرمينَ}؛ أي: في جناتٍ قد حصل لهم فيها - جميع مطلوباتهم وتمَّت لهم الراحةُ والطمأنينة، حتى أقبلوا يتساءلون، فأفضتْ بهم المحادثة أن سألوا عن المجرمين؛ أيُّ حال وصلوا إليها؟ وهل وَجَدوا ما وعَدَهم الله [تعالى]؟ فقال بعضهم لبعضٍ هل أنتم مُطَّلعونَ عليهم، فاطَّلعوا عليهم في وسطِ الجحيم يعذَّبون، فقالوا لهم: {ما سَلَككم في سَقَرَ}؛ أي: أيُّ شيءٍ أدخلكم فيها؟ وبأيِّ ذنبٍ اسْتَحَقيْتُموها؟ فقالوا: {لم نَكُ من المصلِّينَ. ولم نكُ نطعِمُ المسكينَ}: فلا إخلاص للمعبودِ ولا إحسانَ ولا نفع للخلق المحتاجين، {وكنَّا نخوضُ مع الخائضينَ}؛ أي: نخوض بالباطل ونجادل به الحقَّ، {وكنَّا نكذِّبُ بيوم الدِّينِ}: هذه آثار الخوض بالباطل، وهو التَّكذيب بالحقِّ، ومن أحقِّ الحقِّ يوم الدين، الذي هو محلُّ الجزاء على الأعمال وظهور مُلك الله وحُكمه العدل لسائر الخلق، فاستمرَّ عَمَلُنا على هذا المذهب الباطل {حتَّى أتانا اليقين}؛ أي: الموت، فلما ماتوا على الكفر؛ تعذَّرت حينئذٍ عليهم الحِيَلُ، وانسدَّ في وجوههم باب الأمل. {فما تَنفَعُهم شفاعةُ الشَّافعين}؛ لأنَّهم لا يشفعون إلاَّ لِمَنِ ارتضى، وهؤلاء لا يرضى الله أعمالهم.