اس آیت کی تفسیر آیت 34 میں تا آیت 36 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35۔ 1 یہ جواب قسم ہے کُبَر،کُبْرَیٰ کی جمع ہے تین نہایت اہم چیزوں کی قسموں کے بعد اللہ نے جہنم کی بڑائی اور ہولناکی کو بیان کیا ہے جس سے اس کی بڑائی میں کوئی شک نہیں رہتا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ کہ دوزخ (بھی) بہت بڑی چیزوں میں سے ایک [18] ہے۔
[18] چاند کی شکلیں، ان کا گھٹنا بڑھنا، رات اور دن کا وجود اور ان کا باری باری آنا، رات کی تاریکی کے بعد سپیدہ سحر کا نمودار ہونا۔ اللہ کی یہ نشانیاں بھی کچھ کم حیرت انگیز نہیں ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ چیزیں چونکہ ہر روز انسان کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں اس لیے وہ ان میں غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور جب دوزخ کا ذکر آتا ہے تو وہ فوراً اس کا انکار کر دیتا ہے۔ صرف اس لیے کہ اس نے تاحال دوزخ دیکھی نہیں۔ ورنہ ان اشیاء کی قسم جنہیں انسان دیکھ رہا ہے۔ جہنم کا وجود ناممکن نہیں ہے۔ اور وہ انسان کے لیے ڈر جانے کی چیز ہے۔ مذاق اڑانے کی نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّهَالَاِحْدَىالْكُبَرِ﴾”کہ وہ (آگ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔“ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَقُ٘لِالْحَقُّمِنْرَّبِّكُمْ١۫فَ٘مَنْشَآءَفَلْیُؤْمِنْوَّمَنْشَآءَفَلْ٘یَكْ٘فُ٘رْ ﴾ (الکہف:18؍29) ”اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
والمقسَمُ عليه قوله: {إنَّها لإحدى الكُبَرِ}؛ أي: إنَّ النار لإحدى العظائم الطامَّة والأمور الهامَّة؛ فإذا أعلمناكم بها وكنتُم على بصيرةٍ من أمرها؛ فمن شاء منكم أن يتقدَّم فيعمل بما يقرِّبُه إلى الله ويُدْنيه من رضاه ويُزْلفه من دار كرامته، أو يتأخَّر عمَّا خُلِقَ له وعمَّا يحبُّه الله ويرضاه، فيعمل بالمعاصي، ويتقرَّب إلى جهنَّم؛ كما قال تعالى: {وقلِ الحقُّ من ربِّكم فَمَن شاء فَلْيُؤمِن ومَن شاءَ فَلْيَكْفُرْ ... } الآية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔