تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[15] یعنی اہل کتاب اور مومن لوگ فرشتوں پر بن دیکھے ایمان لانے والے ہیں اور ان فرشتوں کی قوت اور قدرت کا بھی انہیں علم ہے۔ لہٰذا وہ کبھی ایسا استہزا نہیں کر سکتے بلکہ ایسی آیات سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں اور ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
[16] اس آیت میں مرض سے مراد شک کی بیماری ہے۔ یعنی منافق اور کافر دونوں ہی ہدایت کی باتوں سے محروم رہتے ہیں۔ یعنی ایک ہی بات یا ایک ہی مثال سے بد بخت آدمی گمراہ ہو جاتا ہے۔ جبکہ سلیم الطبع آدمی اسی مثال سے ہدایت حاصل کر لیتا ہے۔ جس نے بہرحال نہ ماننے کا تہیہ کر رکھا ہو وہ ہر کام کی بات کو بھی ہنسی مذاق میں اڑا دیتا ہے اور جس کے دل میں اللہ کا خوف اور ہدایت کی طلب ہو اسی بات سے اس کے ایمان و یقین میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس میں مشرکین قریش کی تردید ہے انہیں جس وقت جہنم کے داروغوں کی گنتی بتلائی گئی تو ابوجہل نے کہا: اے قریشیوں یہ اگر انیس ہیں تو زیادہ سے زیادہ ایک سو نوے ہم مل کر انہی ہرا دیں گے اس پر کہا جاتا ہے کہ ’ وہ فرشتے ہیں انسان نہیں انہیں نہ تم ہرا سکو، نہ تھکا سکو ‘۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو الاشدین جس کا نام کلدہ بن اسید بن خلف تھا اس نے اس گنتی کو سن کر کہا کہ قریشیو! تم سب مل کر ان میں سے دو کو روک لینا باقی سترہ کو میں کافی ہوں، یہ بڑا مغرور شخص تھا اور ساتھ ہی بڑا قوی تھا یہ گائے کے چمڑے پر کھڑا ہو جاتا پھر دس طاقتور شخص مل کر اسے اس کے پیروں تلے سے نکالنا چاہتے کھال کے ٹکڑے اڑ جاتے لیکن اس کے قدم جنبش بھی نہ کھاتے۔
یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا تھا کہ آپ مجھ سے کشتی لڑیں اگر آپ نے مجھے گرا دیا تو میں آپ کی نبوت کو مان لوں گا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کشتی کی اور کئی بار گرایا لیکن اسے ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ امام ابن اسحاق رحمہ اللہ نے کشتی والا واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب کا بتایا ہے، میں کہتا ہوں ان دونوں میں کچھ تفاوت نہیں (ممکن ہے اس سے اور اس سے دونوں سے کشتی ہوئی ہو)۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسی ہی باتیں بہت سے لوگوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کے شبہ والے دل اور ڈانوا ڈول ہو جاتے ہیں اللہ کے یہ سب کام حکمت سے اور اسرار سے پر ہیں، تیرے رب کے لشکروں کی گنتی اور ان کی صحیح تعداد اور ان کی کثرت کا کسی کو علم نہیں وہی خوب جانتا ہے ‘۔
یہ نہ سمجھ لینا کہ بس انیس ہی ہیں، جیسے یونانی فلسفیوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے سمجھ لیا کہ اس سے مراد «الْعُقُولِ الْعَشَرَةِ» اور «النُّفُوسِ التِّسْعَةِ» ہیں حالانکہ یہ مجرد ان کا دعویٰ ہے جس پر دلیل قائم کرنے سے وہ بالکل عاجز ہیں۔ افسوس کہ آیت کے اول پر تو ان کی نظریں ہیں لیکن آخری حصہ کے ساتھ وہ کفر کر رہے ہیں جہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ ’ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر صرف انیس کے کیا معنی؟ ‘
بخاری و مسلم کی معراج والی حدیث میں ثابت ہو چکا ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اسی طرح دوسرے روز دوسرے ستر ہزار فرشتے اسی طرح ہمیشہ تک لیکن فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3207]
طبرانی میں ہے { ساتوں آسمانوں میں قدم رکھنے کی بالشت بھر یا ہتھیلی جتنی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام کی یا رکوع کی یا سجدے کی حالت میں نہ ہو پھر بھی یہ سب کل قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ تو پاک ہے ہمیں جس قدر تیری عبادت کرنی چاہیئے تھی اس قدر ہم سے ادا نہیں ہو سکتی، البتہ ہم نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا } ۱؎ [طبرانی اوسط:3592:ضعیف]
امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کی کتاب الصلوۃ میں ہے کہ { حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”کیا جو میں سن رہا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟“ انہوں نے جواب میں کہا: یا رسول اللہ! ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمانوں کا چرچر بولنا میں سن رہا ہوں اور وہ اس چرچراہٹ پر ملامت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر اس قدر فرشتے ہیں کہ ایک بالشت بھر جگہ خالی نہیں کہیں کوئی رکوع میں ہے اور کہیں کوئی سجدے میں“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060:صحیح]
دوسری روایت میں یہ قول سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان کیا گیا ہے، ایک اور سند سے یہ روایت سیدنا ابن علاء بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے یہ صحابی فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے جہادوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لیکن سنداً یہ بھی غریب ہے۔
ایک اور بہت ہی غریب بلکہ سخت منکر حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے نماز کھڑی ہوئی تھی اور تین شخص بیٹھے ہوئے تھے جن میں کا ایک ابوحجش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ تو دو شخص تو کھڑے ہو گئے لیکن ابوجحش کہنے لگا اگر کوئی ایسا شخص آئے جو طاقت و قوت میں مجھ سے زیادہ ہو اور مجھ سے کشتی لڑے اور مجھے گرا دے پھر میرا منہ مٹی میں ملا دے تو میں اٹھوں گا ورنہ بس اٹھ چکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور کون آئے گا آ جا میں تیار ہوں چنانچہ کشتی ہونے لگی اور میں نے اسے پچھاڑا پھر اس کے منہ کو مٹی میں مل دیا اور اتنے میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے میرے ہاتھ سے چھڑا دیا، میں بڑا بگڑا اور اسی غصہ کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ”ابوحفص آج کیا بات ہے؟“ میں نے کل واقعہ کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عمر اس سے خوش ہوتا تو اس پر رحم کرتا اللہ کی قسم میرے نزدیک تو اس خبیث کا سر اتار لیتا تو اچھا تھا“، یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یونہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف لپکے۔
اور اسحاق مروزی رحمہ اللہ جو راوی حدیث ہے اس سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بھی انہیں ثقہ راویوں میں گنتے ہیں لیکن امام ابوداؤد، امام نسائی، امام عقیلی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھے تو یہ سچے مگر نابینا ہو گئے تھے اور کبھی کبھی تلقین قبول کر لیا کرتے تھے ہاں ان کی کتابوں کی مرویات صحیح ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ مضطرب ہیں اور ان کے استاد عبدالملک بن قدامہ ابوقتادہ جمعی میں بھی کلام ہے۔ تعجب ہے کہ امام محمد بن نصر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی اس حدیث کو کیسے روایت کر دیا؟ اور نہ تو اس پر کلام کیا، نہ اس کے حال کو معلوم کرایا، نہ اس کے بعض راویوں کے ضعف کو بیان کیا۔ ہاں اتنا تو کیا ہے کہ اسے دوسری سند سے مرسلاً روایت کر دیا ہے اور مرسل کی دو سندیں لائے ہیں ایک سعید بن جبیر سے دوسری حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے۔
پھر فرماتا ہے ’ یہ آگ جس کا وصف تم سن چکے یہ لوگوں کے لیے سراسر باعث عبرت و نصیحت ہے ‘۔ پھر چاند کی رات کے جانے کی صبح کے روشن ہونے کی قسمیں کھا کر فرماتا ہے کہ ’ وہ آگ ایک زبردست اور بہت بڑی چیز ہے، جو اس ڈراوے کو قبول کر کے حق کی راہ لگنا چاہے لگ جائے، جو چاہے اس کے باوجود حق کو پیٹھ ہی دکھاتا رہے، اس سے دور بھاگتا رہے، یا اسے رد کرتا رہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وما جعلنا أصحاب النارِ إلاَّ ملائكةً}: وذلك لشدَّتهم وقوَّتهم، {وما جعلنا عِدَّتهم إلاَّ فتنةً للذين كفروا}: يحتمل أنَّ المراد؛ إلاَّ لعذابهم وعقابهم في الآخرة ولزيادة نَكالهم فيها، والعذاب يسمَّى فتنة؛ كما قال تعالى: {يومَ هم على النَّارِ يُفْتَنونَ}.
ويُحتمل أنَّ المراد أنَّا ما أخبرناكم بعدَّتهم إلاَّ لنعلم من يصدِّق ممَّن يكذِّب. ويدلُّ على هذا ما ذكره بعده في قوله: {ليستيقِنَ الذين أوتوا الكتاب ويزدادَ الذين آمنوا إيماناً}: فإنَّ أهل الكتاب إذا وافق ما عندَهم وطابَقَه؛ ازدادَ يقينُهم بالحقِّ، والمؤمنون كلَّما أنزل الله آيةً، فآمنوا بها وصدَّقوا؛ ازداد إيمانُهم، {ولا يرتابَ الذين أوتوا الكتابَ والمؤمنون}؛ أي: ليزول عنهم الريبُ والشكُّ، وهذه مقاصدُ جليلةٌ يعتني بها أولو الألباب، وهي السعي في اليقين وزيادة الإيمان في كلِّ وقتٍ وكلِّ مسألةٍ من مسائل الدين، ودفع الشكوك والأوهام التي تَعْرِضُ في مقابلة الحقِّ، فجعل ما أنزله على رسولِهِ محصِّلاً لهذه المقاصد الجليلة، ومميزاً للصادقين من الكاذبين ، ولهذا قال: {وليقولَ الذين في قلوبِهِم مرضٌ}؛ أي: شكٌّ وشبهةٌ ونفاقٌ، {والكافرون ماذا أرادَ الله بهذا مثلاً}: وهذا على وجه الحيرة والشكِّ منهم والكفر بآيات الله، وهذا وذاك من هداية الله لمن يهديه وإضلاله لمن يُضِلُّه، ولهذا قال: {كذلك يُضِلُّ الله مَن يشاءُ ويَهْدي مَن يشاءُ}: فمن هداه الله؛ جعل ما أنزل على رسوله رحمةً في حقِّه وزيادةً في إيمانه ودينه، ومن أضلَّه؛ جعل ما أنزله على رسوله زيادةَ شقاءٍ عليه وحيرةً وظلمةً في حقِّه، والواجب أن يُتَلَقى ما أخبر الله به ورسولُه بالتسليم، فإنه {ما يعلمُ جنودَ ربِّك} من الملائكة وغيرهم {إلاَّ هو}: فإذا كنتُم جاهلين بجنوده، وأخبركم بها العليم الخبير؛ فعليكم أن تصدِّقوا خبره من غير شكٍّ ولا ارتياب، {وما هي إلاَّ ذِكْرى للبشرِ}؛ أي: وما هذه الموعظة والتذكار مقصوداً به العبث واللعب، وإنما المقصود به أن يتذكَّر به البشر ما ينفعهم فيفعلونه، وما يضرُّهم فيتركونه.