تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
ان آیات سے اکثر مفسرین نے اگرچہ ایک خاص شخص ولید بن مغیرہ مراد لیا ہے، مگر {” وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا “} میں {” مَنْ “} کا لفظ واحد ہونے کے باوجود معنی کے لحاظ سے عام ہے اور آیت میں مذکور مال و دولت اور اولاد و اقتدار صرف ولید ہی کے پاس نہ تھا اور نہ ہی وہ اکیلا قرآن کو جادو اور انسانی کلام قرار دیتا تھا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے اکثر متکبرین کا یہی حال تھا،اس لیے ان آیات میں ان سب کو تنبیہ کی گئی ہے۔ ہاں، یہ درست ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ پر بھی صادق آتی ہیں اور وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو ان آیات سے مراد ہیں اور ان آیات کے اس کے متعلق نازل ہونے کا مطلب بھی یہی ہے، مگر وہ اکیلا ان آیات کا مصداق نہیں بلکہ ان سے ولید بن مغیرہ کے علاوہ ان صفات والے تمام متکبر مراد ہیں، خواہ وہ مکہ کے رہنے والے ہوں یا دنیا کے کسی دوسرے خطہ میں رہنے والے ہوں۔
➋ { ” خَلَقْتُ وَحِيْدًا “} کے دو معانی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ میں نے اسے اس حال میں پیدا کیا کہ وہ اکیلا تھا، نہ اس کی خدمت میں حاضر رہنے والے بیٹے تھے اور نہ کوئی مال و متاع۔ ہر انسان ماں کے پیٹ سے اکیلا آتا ہے، مال و اولاد، فوج و لشکر اور سامان وغیرہ کچھ ساتھ نہیں لاتا، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ» [الأنعام: ۹۴] ”اور بے شک تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آگئے، جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔“ دوسرا یہ کہ میں نے اکیلے ہی اسے پیدا کیا اور اسے یہ سب کچھ عطا کیا، اسے پیدا کرنے میں یا یہ مال و اولاد عطا کرنے میں کوئی دوسرا میرے ساتھ شریک نہ تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الآيات نزلت في الوليد بن المغيرة ، المعاند للحقِّ، المبارز لله ولرسوله بالمحاربة والمشاقَّة، فذمَّه الله ذمًّا لم يذمَّ به غيره، وهذا جزاءُ كلِّ مَنْ عانَد الحقَّ ونابذه؛ أنَّ له الخزيَ في الدُّنيا ولَعذاب الآخرة أخزى، فقال:
{ذَرْني ومَن خلقتُ وحيداً}؛ أي: خلقته منفرداً بلا مال ولا أهل ولا غيره، فلم أزل أربِّيه وأعطيه، فجعلت {له مالاً ممدوداً}؛ أي: كثيراً، {و} جعلتُ له {بنينَ}؛ أي: ذكوراً، {شهوداً}؛ أي: حاضرين عنده على الدَّوام، يتمتَّع بهم ويقضي بهم حوائِجَه ويستنصِرُ بهم، {ومهَّدْتُ له تمهيداً}؛ أي: مكَّنته من الدُّنيا وأسبابها حتى انقادَتْ له مطالِبُه وحصل له ما يشتهي ويريدُ. {ثم}: مع هذه النعم والإمدادات {يَطْمَعُ أن أزيدَ}؛ أي: يطمع أن ينال نعيم الآخرة كما نال نعيم الدنيا، {كلاَّ}؛ أي: ليس الأمر كما طمع، بل هو بخلاف مقصوده ومطلوبه، وذلك {إنَّه كان لآياتنا عنيداً}: عرفها ثم أنكرها، ودعتْه إلى الحقِّ فلم يَنْقَدْ لها، ولم يكفِهِ أنَّه أعرض عنها وتولَّى ، بل جعل يحاربُها ويسعى في إبطالها، ولهذا قال عنه: {إنَّه فَكَّر}؛ أي: في نفسه. {وقدَّر}: ما فكَّر فيه؛ ليقولَ قولاً يبطِلُ به القرآن، {فقُتِلَ كيف قدَّر. ثم قُتِلَ كيف قدَّر}؛ لأنَّه قدَّر أمراً ليس في طوره، وتسوَّر على ما لا ينالُه هو ولا أمثاله، {ثم نَظَرَ}: ما يقول، {ثم عَبَسَ وبَسَرَ}: في وجهه وظاهره نفرةً عن الحقِّ وبُغضاً له، {ثم أدبر}؛ أي: تولَّى، {واستكبر}: نتيجة سعيه الفكريِّ والعمليِّ والقوليِّ، {فقال إنْ هذا إلاَّ سحرٌ يُؤْثَرُ. إنْ هذا إلاَّ قولُ البشرِ}؛ أي: ما هذا كلام الله، بل كلام البشر، وليس أيضاً كلام البشر الأخيار، بل كلام الأشرار منهم والفجَّار من كل كاذبٍ سحَّارٍ، فتبًّا له! ما أبعده من الصواب! وأحراه بالخسارة والتَّباب! كيف يدور في الأذهان أو يتصوَّره ضميرُ أيِّ إنسان أن يكون أعلى الكلام وأعظمه كلام الربِّ الكريم الماجد العظيم يشبِهُ كلام المخلوقين الفقراء الناقصين؟! أم كيف يتجرَّأ هذا الكاذب العنيد على وصفه بهذا الوصف لكلام الله تعالى ؛ فما حقُّه إلاَّ العذاب الشديد [والنكال]، ولهذا قال تعالى: {سأُصْليه سَقَرَ. وما أدراك ما سَقَرُ. لا تُبْقي ولا تَذَرُ}؛ أي: لا تبقي من الشدَّة ولا على المعذَّب شيئاً إلا وبَلَغَتْه. {لوَّاحةٌ للبشر}؛ أي: تلوحهم وتُصليهم في عذابها وتقلقهم بشدَّة حرِّها وقَرِّها. {عليها تسعةَ عشرَ}: من الملائكة، خزنة لها، غلاظٌ شدادٌ لا يعصون الله ما أمرهم ويفعلون ما يُؤمرون.