ترجمہ و تفسیر — سورۃ المدثر (74) — آیت 11

ذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیۡدًا ﴿ۙ۱۱﴾
چھوڑ مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ En
ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا
En
مجھے اور اسے چھوڑ دے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) ➊ {ذَرْنِيْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو جھٹلانے میں سب سے پیش پیش مکہ کے بڑے بڑے سردار تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی خوش حالی اور دنیوی نعمتیں عطا فرمائی ہوئی تھیں، مگر انھوں نے مال و اولاد، جاہ و حشمت اور اقتدار پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا دیا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے بجائے اسے جادو اور انسانی کلام قرار دیا۔ ان لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دیں، میں جانوں اور یہ جانیں، ان کا بندو بست میں خود کروں گا۔
ان آیات سے اکثر مفسرین نے اگرچہ ایک خاص شخص ولید بن مغیرہ مراد لیا ہے، مگر { وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا } میں { مَنْ } کا لفظ واحد ہونے کے باوجود معنی کے لحاظ سے عام ہے اور آیت میں مذکور مال و دولت اور اولاد و اقتدار صرف ولید ہی کے پاس نہ تھا اور نہ ہی وہ اکیلا قرآن کو جادو اور انسانی کلام قرار دیتا تھا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے اکثر متکبرین کا یہی حال تھا،اس لیے ان آیات میں ان سب کو تنبیہ کی گئی ہے۔ ہاں، یہ درست ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ پر بھی صادق آتی ہیں اور وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو ان آیات سے مراد ہیں اور ان آیات کے اس کے متعلق نازل ہونے کا مطلب بھی یہی ہے، مگر وہ اکیلا ان آیات کا مصداق نہیں بلکہ ان سے ولید بن مغیرہ کے علاوہ ان صفات والے تمام متکبر مراد ہیں، خواہ وہ مکہ کے رہنے والے ہوں یا دنیا کے کسی دوسرے خطہ میں رہنے والے ہوں۔
➋ { خَلَقْتُ وَحِيْدًا } کے دو معانی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ میں نے اسے اس حال میں پیدا کیا کہ وہ اکیلا تھا، نہ اس کی خدمت میں حاضر رہنے والے بیٹے تھے اور نہ کوئی مال و متاع۔ ہر انسان ماں کے پیٹ سے اکیلا آتا ہے، مال و اولاد، فوج و لشکر اور سامان وغیرہ کچھ ساتھ نہیں لاتا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ» [الأنعام: ۹۴] اور بے شک تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آگئے، جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ دوسرا یہ کہ میں نے اکیلے ہی اسے پیدا کیا اور اسے یہ سب کچھ عطا کیا، اسے پیدا کرنے میں یا یہ مال و اولاد عطا کرنے میں کوئی دوسرا میرے ساتھ شریک نہ تھا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 یہ کلمہ وعید و تہدید ہے کہ اسے، جسے میں نے ماں کے پیٹ میں اکیلا پیدا کیا، اس کے پاس مال تھا نہ اولاد، اور مجھے اکیلا چھوڑ دو، یعنی میں خود ہی اس سے نمٹ لوں گا، کہتے ہیں کہ یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ کفر و طغیان میں بہت بڑھا ہوا تھا، اس لئے اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ واللہ عالم۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ مجھے چھوڑ دیجیے اور اسے جسے میں نے اکیلا [8] پیدا کیا
[8] اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ جب وہ پیدا ہوا تو بالکل خالی ہاتھ پیدا ہوا تھا۔ اس کے پاس کوئی مال و دولت، عز و جاہ یا لاؤ لشکر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ تو اسے بعد میں اس دنیا میں ملا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اس شخص کی مخالفت کی آپ مطلق پروا نہ کیجیے اور اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیجیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا: ﴿ ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ اور اسے عطا کیے ﴿ بَنِیْنَ بیٹے ﴿ شُ٘هُوْدًا جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًا میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّپھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَ خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔
﴿ كَلَّا یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًا وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُ٘تِلَ كَیْفَ قَدَّرَ پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدْبَرَ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسْتَكْبَرَ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا: ﴿ فَقَالَ اِنْ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ۰۰ اِنْ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْ٘بَشَرِ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔
ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟
پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُ ہم عنقریب اس کو سقر میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّ٘احَةٌ لِّ٘لْ٘بَشَرِ چمڑی جھلسا دینے والی ہے یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه الآيات نزلت في الوليد بن المغيرة ، المعاند للحقِّ، المبارز لله ولرسوله بالمحاربة والمشاقَّة، فذمَّه الله ذمًّا لم يذمَّ به غيره، وهذا جزاءُ كلِّ مَنْ عانَد الحقَّ ونابذه؛ أنَّ له الخزيَ في الدُّنيا ولَعذاب الآخرة أخزى، فقال:

{ذَرْني ومَن خلقتُ وحيداً}؛ أي: خلقته منفرداً بلا مال ولا أهل ولا غيره، فلم أزل أربِّيه وأعطيه، فجعلت {له مالاً ممدوداً}؛ أي: كثيراً، {و} جعلتُ له {بنينَ}؛ أي: ذكوراً، {شهوداً}؛ أي: حاضرين عنده على الدَّوام، يتمتَّع بهم ويقضي بهم حوائِجَه ويستنصِرُ بهم، {ومهَّدْتُ له تمهيداً}؛ أي: مكَّنته من الدُّنيا وأسبابها حتى انقادَتْ له مطالِبُه وحصل له ما يشتهي ويريدُ. {ثم}: مع هذه النعم والإمدادات {يَطْمَعُ أن أزيدَ}؛ أي: يطمع أن ينال نعيم الآخرة كما نال نعيم الدنيا، {كلاَّ}؛ أي: ليس الأمر كما طمع، بل هو بخلاف مقصوده ومطلوبه، وذلك {إنَّه كان لآياتنا عنيداً}: عرفها ثم أنكرها، ودعتْه إلى الحقِّ فلم يَنْقَدْ لها، ولم يكفِهِ أنَّه أعرض عنها وتولَّى ، بل جعل يحاربُها ويسعى في إبطالها، ولهذا قال عنه: {إنَّه فَكَّر}؛ أي: في نفسه. {وقدَّر}: ما فكَّر فيه؛ ليقولَ قولاً يبطِلُ به القرآن، {فقُتِلَ كيف قدَّر. ثم قُتِلَ كيف قدَّر}؛ لأنَّه قدَّر أمراً ليس في طوره، وتسوَّر على ما لا ينالُه هو ولا أمثاله، {ثم نَظَرَ}: ما يقول، {ثم عَبَسَ وبَسَرَ}: في وجهه وظاهره نفرةً عن الحقِّ وبُغضاً له، {ثم أدبر}؛ أي: تولَّى، {واستكبر}: نتيجة سعيه الفكريِّ والعمليِّ والقوليِّ، {فقال إنْ هذا إلاَّ سحرٌ يُؤْثَرُ. إنْ هذا إلاَّ قولُ البشرِ}؛ أي: ما هذا كلام الله، بل كلام البشر، وليس أيضاً كلام البشر الأخيار، بل كلام الأشرار منهم والفجَّار من كل كاذبٍ سحَّارٍ، فتبًّا له! ما أبعده من الصواب! وأحراه بالخسارة والتَّباب! كيف يدور في الأذهان أو يتصوَّره ضميرُ أيِّ إنسان أن يكون أعلى الكلام وأعظمه كلام الربِّ الكريم الماجد العظيم يشبِهُ كلام المخلوقين الفقراء الناقصين؟! أم كيف يتجرَّأ هذا الكاذب العنيد على وصفه بهذا الوصف لكلام الله تعالى ؛ فما حقُّه إلاَّ العذاب الشديد [والنكال]، ولهذا قال تعالى: {سأُصْليه سَقَرَ. وما أدراك ما سَقَرُ. لا تُبْقي ولا تَذَرُ}؛ أي: لا تبقي من الشدَّة ولا على المعذَّب شيئاً إلا وبَلَغَتْه. {لوَّاحةٌ للبشر}؛ أي: تلوحهم وتُصليهم في عذابها وتقلقهم بشدَّة حرِّها وقَرِّها. {عليها تسعةَ عشرَ}: من الملائكة، خزنة لها، غلاظٌ شدادٌ لا يعصون الله ما أمرهم ويفعلون ما يُؤمرون.