ذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ خَلَقۡتُ وَحِیۡدًا ﴿ۙ۱۱﴾
چھوڑ مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔
En
ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا
En
مجھے اور اسے چھوڑ دے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 11) ➊ {ذَرْنِيْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو جھٹلانے میں سب سے پیش پیش مکہ کے بڑے بڑے سردار تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی خوش حالی اور دنیوی نعمتیں عطا فرمائی ہوئی تھیں، مگر انھوں نے مال و اولاد، جاہ و حشمت اور اقتدار پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا دیا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے بجائے اسے جادو اور انسانی کلام قرار دیا۔ ان لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دیں، میں جانوں اور یہ جانیں، ان کا بندو بست میں خود کروں گا۔
ان آیات سے اکثر مفسرین نے اگرچہ ایک خاص شخص ولید بن مغیرہ مراد لیا ہے، مگر {” وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا “} میں {” مَنْ “} کا لفظ واحد ہونے کے باوجود معنی کے لحاظ سے عام ہے اور آیت میں مذکور مال و دولت اور اولاد و اقتدار صرف ولید ہی کے پاس نہ تھا اور نہ ہی وہ اکیلا قرآن کو جادو اور انسانی کلام قرار دیتا تھا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے اکثر متکبرین کا یہی حال تھا،اس لیے ان آیات میں ان سب کو تنبیہ کی گئی ہے۔ ہاں، یہ درست ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ پر بھی صادق آتی ہیں اور وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو ان آیات سے مراد ہیں اور ان آیات کے اس کے متعلق نازل ہونے کا مطلب بھی یہی ہے، مگر وہ اکیلا ان آیات کا مصداق نہیں بلکہ ان سے ولید بن مغیرہ کے علاوہ ان صفات والے تمام متکبر مراد ہیں، خواہ وہ مکہ کے رہنے والے ہوں یا دنیا کے کسی دوسرے خطہ میں رہنے والے ہوں۔
➋ { ” خَلَقْتُ وَحِيْدًا “} کے دو معانی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ میں نے اسے اس حال میں پیدا کیا کہ وہ اکیلا تھا، نہ اس کی خدمت میں حاضر رہنے والے بیٹے تھے اور نہ کوئی مال و متاع۔ ہر انسان ماں کے پیٹ سے اکیلا آتا ہے، مال و اولاد، فوج و لشکر اور سامان وغیرہ کچھ ساتھ نہیں لاتا، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ» [الأنعام: ۹۴] ”اور بے شک تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آگئے، جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔“ دوسرا یہ کہ میں نے اکیلے ہی اسے پیدا کیا اور اسے یہ سب کچھ عطا کیا، اسے پیدا کرنے میں یا یہ مال و اولاد عطا کرنے میں کوئی دوسرا میرے ساتھ شریک نہ تھا۔
ان آیات سے اکثر مفسرین نے اگرچہ ایک خاص شخص ولید بن مغیرہ مراد لیا ہے، مگر {” وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا “} میں {” مَنْ “} کا لفظ واحد ہونے کے باوجود معنی کے لحاظ سے عام ہے اور آیت میں مذکور مال و دولت اور اولاد و اقتدار صرف ولید ہی کے پاس نہ تھا اور نہ ہی وہ اکیلا قرآن کو جادو اور انسانی کلام قرار دیتا تھا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے اکثر متکبرین کا یہی حال تھا،اس لیے ان آیات میں ان سب کو تنبیہ کی گئی ہے۔ ہاں، یہ درست ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ پر بھی صادق آتی ہیں اور وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو ان آیات سے مراد ہیں اور ان آیات کے اس کے متعلق نازل ہونے کا مطلب بھی یہی ہے، مگر وہ اکیلا ان آیات کا مصداق نہیں بلکہ ان سے ولید بن مغیرہ کے علاوہ ان صفات والے تمام متکبر مراد ہیں، خواہ وہ مکہ کے رہنے والے ہوں یا دنیا کے کسی دوسرے خطہ میں رہنے والے ہوں۔
➋ { ” خَلَقْتُ وَحِيْدًا “} کے دو معانی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ میں نے اسے اس حال میں پیدا کیا کہ وہ اکیلا تھا، نہ اس کی خدمت میں حاضر رہنے والے بیٹے تھے اور نہ کوئی مال و متاع۔ ہر انسان ماں کے پیٹ سے اکیلا آتا ہے، مال و اولاد، فوج و لشکر اور سامان وغیرہ کچھ ساتھ نہیں لاتا، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ» [الأنعام: ۹۴] ”اور بے شک تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آگئے، جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔“ دوسرا یہ کہ میں نے اکیلے ہی اسے پیدا کیا اور اسے یہ سب کچھ عطا کیا، اسے پیدا کرنے میں یا یہ مال و اولاد عطا کرنے میں کوئی دوسرا میرے ساتھ شریک نہ تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 یہ کلمہ وعید و تہدید ہے کہ اسے، جسے میں نے ماں کے پیٹ میں اکیلا پیدا کیا، اس کے پاس مال تھا نہ اولاد، اور مجھے اکیلا چھوڑ دو، یعنی میں خود ہی اس سے نمٹ لوں گا، کہتے ہیں کہ یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ کفر و طغیان میں بہت بڑھا ہوا تھا، اس لئے اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ واللہ عالم۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ مجھے چھوڑ دیجیے اور اسے جسے میں نے اکیلا [8] پیدا کیا
[8] اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ جب وہ پیدا ہوا تو بالکل خالی ہاتھ پیدا ہوا تھا۔ اس کے پاس کوئی مال و دولت، عز و جاہ یا لاؤ لشکر کچھ بھی نہ تھا۔ یہ تو اسے بعد میں اس دنیا میں ملا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اس شخص کی مخالفت کی آپ مطلق پروا نہ کیجیے اور اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیجیے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭
جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا ‘۔