ترجمہ و تفسیر — سورۃ المدثر (74) — آیت 10

عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ غَیۡرُ یَسِیۡرٍ ﴿۱۰﴾
کافروں پر آسان نہیں۔ En
(یعنی) کافروں پر آسان نہ ہوگا
En
جو کافروں پر آسان نہ ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10){عَلَى الْكٰفِرِيْنَ غَيْرُ يَسِيْرٍ:} پہلے{ يَوْمٌ عَسِيْرٌ } (وہ ایک مشکل دن ہے) فرمایا، پھر فرمایا: «‏‏‏‏عَلَى الْكٰفِرِيْنَ غَيْرُ يَسِيْرٍ» ‏‏‏‏ جو کافروں پر آسان نہیں ہے۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشکل ہوتا ہی وہ ہے جو آسان نہ ہو، تو اس صراحت کامطلب کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ اس مشکل دن میں کوئی نہ کوئی آسانی بھی ہو سکتی ہے، یا ممکن ہے شروع میں مشکل ہو مگر پھر آسانی ہو جائے، اس لیے فرمایا کفار کے لیے تو اس دن کوئی آسانی نہیں، نہ شروع میں نہ بعد میں۔ ہاں، اہلِ ایمان کے لیے آسانی ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ» ‏‏‏‏ [الأنبیاء: ۱۰۳] وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انھیں غمگین نہیں کرے گی۔ اور اگر شروع میں کچھ شدت محسوس ہوئی بھی تو بعد میں آسانی ہو جائے گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 یعنی قیامت کا دن کافروں پر بھاری ہوگا کیونکہ اس روز کفر کا نتیجہ انہیں بھگتنا ہوگا، جو جرم وہ دنیا میں کرتے رہے ہونگے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ کافروں کے لیے آسان [7] نہ ہو گا
[7] عقیدہ قیامت اور اس کا تصور :۔
اس آیت میں وضاحت یہ ہے کہ جس دن صور پھونکا جائے گا یعنی قیامت آجائے گی تو یہ دن کافروں کے لئے بڑا سخت ہو گا۔ جس کا واضح نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دن مومنوں کے لیے سخت نہیں ہو گا اور مومنوں کا غالباً یہاں اس لیے ذکر نہیں کیا گیا کہ اس دن کے آنے سے پہلے ہی مومنوں کو دنیا سے اٹھا لیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ: ﴿لا تقوم الساعة الاعليٰ شرار الخلق﴾ یعنی قیامت صرف بد ترین لوگوں پر قائم ہو گی۔ [مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب لاتزال طائفۃ من امتی]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔