تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
ہمارے دور کے بعض لوگوں نے عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنھم کے صحیح قول کو چھوڑ کر ایک تابعی سعید بن جبیر کے قول کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے اور وجہ یہ بیان کی ہے کہ سورۂ مزمل کے آغاز کے مضمون سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی، جب کہ آخری آیت میں جہاد اور زکوٰۃ کا ذکر ہے جو مدینہ میں فرض ہوئے، اس لیے اس کے اوّل و آخر میں دس سال کی مدت کا فاصلہ ہی ہونا چاہیے۔ حالانکہ یہ بات ہی غلط ہے کہ مکی سورتوں میں جہاد یا زکوٰۃ کا ذکر نہیں، اگرچہ عملاً جہاد مدینہ میں شروع ہوا اور زکوٰۃ کا نصاب وغیرہ مدینہ میں مقرر ہوا مگر مکی سورتوں میں جہاد کا ذکر بھی ہے اور زکوٰۃ کا بھی۔ مزید دیکھیے اسی آیت کا فائدہ (۷) اور (۸)۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سال تک تقریباً دو تہائی رات یا نصف یا ثلث قیام کرتے رہے اور صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے اتباع میں اتنا قیام کرتی رہی، گھڑیاں موجود نہیں تھیں، اسی خیال سے کہ حکم کی تعمیل میں کوتاہی نہ ہو جائے زیادہ سے زیادہ قیام کی کوشش کرتے مگر رات کے نصف یا ثلث کا صحیح اندازہ ان کے بس کی بات نہیں تھی، اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو دن رات کا خالق ہے اور جسے دن رات کا خوب اندازہ ہے کہ رات کبھی لمبی ہوتی ہے کبھی چھوٹی، کبھی گرمی میں آتی ہے کبھی سردی میں، وہ خوب جانتا ہے کہ تم ہمیشہ یہ عمل ہرگز نہیں کر سکو گے، اس لیے اس نے مہربانی فرما کر آسانی فرما دی، اب جتنا آسانی سے قیام کر سکتے ہو کرو۔
➌ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہرگز یہ طاقت نہیں رکھتے کہ ہمیشہ رات کا دو ثلث یا نصف یا ثلث قیام کر سکیں تو پھر بعض بزرگوں کے متعلق جو حکایات بیان کی جاتی ہیں کہ انھوں نے چالیس (۴۰) سال تک عشاء اور فجر کی نماز ایک وضو سے پڑھی، ان کے متعلق غور کرنا چاہیے کہ جس کام کی طاقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ میں بھی ہر گز نہیں وہ ان لوگوں میں کیسے آگئی؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رات کو گیارہ یا تیرہ رکعات پڑھتے تھے، مگر ان بزرگوں کا کمال بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ہر رات ہزار ہزار رکعات پڑھتے تھے۔ اب یا تو ان حکایات کو جھوٹا ماننا پڑے گا یا ماننا پڑے گا کہ ان بزرگوں کی پوری کوشش تھی کہ ہر کام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھ کر دکھائیں۔
➍ {فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ: ”أَيْ فَصَلُّوْا مَا تَيَسَّرَ لَكُمْ مِّنْ قِيَامِ اللَّيْلِ“} ”یعنی رات کا قیام جتنا آسانی سے ہو سکتا ہے اتنی نماز پڑھو۔“ قراء ت کا لفظ بول کر نماز مراد لی گئی ہے، جیسا کہ اس کے دوسرے ارکان مثلاً قیام، رکعت اور سجدہ بول کر نماز مراد لی جاتی ہے۔ تو مطلب یہ کہ جتنا قیام آسانی سے کر سکتے ہو کرو۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ” جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لو“ کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں ضروری نہیں کہ سورۂ فاتحہ ہی پڑھی جائے، آسانی سے جو آیت بھی پڑھ سکتا ہے پڑھ لے، نماز ہوجائے گی، مگر یہ بات درست نہیں۔ یہاں یہ ذکر ہی نہیں کہ نماز میں آسانی سے جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھ لو، بلکہ آیت کے سیاق سے صاف ظاہر ہے کہ {” مِنَ الْقُرْاٰنِ “} سے مراد رات کا قیام ہے، یعنی تم اتنا لمبا قیام نہیں کر سکتے تو آسانی سے جتنا قیام کر سکتے ہو کر لو۔ نماز کے متعلق جز بول کر کل مراد لینا عام ہے۔ مثلاً قیام، رکعت، سجدہ سب نماز کے اجزا ہیں، مگر ان میں سے ہر لفظ بول کر پوری نماز مراد لی جاتی ہے۔ {” فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ “} میں بھی قرآن بول کر نماز مراد لی گئی ہے۔ صاحب روح المعانی آلوسی حنفی لکھتے ہیں: {”أَيْ فَصَلُّوْا مَا تَيَسَّرَ لَكُمْ مِّنْ قِيَامِ اللَّيْلِ عُبِّرَ عَنِ الصَّلَاةِ بِالْقِرَاءَةِ كَمَا عُبِّرَ عَنْهَا بِسَائِرِ أَرْكَانِهَا“} ”یعنی تم جتنا آسانی سے رات کا قیام کر سکتے ہو کرو، یہاں قراء ت بول کر نماز مراد لی گئی ہے، جس طرح باقی ارکانِ نماز بول کر نماز مراد لی جاتی ہے۔“ اگر صرف الفاظ کو لیا جائے تو یہ معنی ہو گا کہ تم اتنے لمبے قیام کی طاقت ہر گز نہیں رکھتے، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو، خواہ نماز میں یا نماز کے بغیر، اتنا ہی رات کو پڑھ لیا کرو۔ صاحب روح المعانی نے اس معنی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، مگر پہلا معنی ہی زیادہ درست ہے۔
رہ گئی یہ بات کہ کوئی بھی آیت پڑھ لیں تو نماز ہو جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد اس کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے صحیحین میں اور تقریباً حدیث کی ہر کتاب میں موجود ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ] [بخاري، الأذان، باب و جوب القراءۃ…: ۷۵۶۔ مسلم: ۳۹۴] ”جو شخص سورۂ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز ہی نہیں ہے۔“ ہاں اگر کسی شخص کو سورۂ فاتحہ بھی یاد نہیں تو وہ {”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَإِلاَّ بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ“} پڑھتا رہے اور رکوع میں چلا جائے۔ [دیکھیے أبو داوٗد، الصلاۃ، باب ما یجزیٔ الأمي…: ۸۳۲ و حسنہ الألباني]
➎ {عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى …:} قیام اللیل میں تخفیف کی وجہ پہلے یہ بیان فرمائی تھی کہ رات کے دو ثلث، نصف یا ثلث کے اندازے کے ساتھ ہمیشہ اتنا لمبا قیام کرنا تمھاری طاقت سے باہر ہے، اس لیے جتنا قیام آسانی سے کر سکتے ہو کرو۔ اب طاقت سے باہر ہونے کی تین وجہیں بیان فرمائیں جو ہر شخص کو پیش آسکتی ہیں، پہلی وجہ بیماری ہے، اس میں بڑھاپا اور ہرقسم کی جسمانی معذوری شامل ہے۔ دوسری وجہ اللہ کا فضل یعنی رزق تلاش کرنے کے لیے سفر ہے، اس میں طلب علم، زیارتِ احباب اور دوسرے تمام جائز مقاصد کے لیے سفر شامل ہے۔ تیسری وجہ اللہ کی راہ میں لڑائی ہے، اس میں جنگ کے علاوہ اس کی تیاری اور پہرا سبھی کچھ شامل ہے۔ یہ اسباب بیان کرنے کے بعد دوبارہ فرمایا: «فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» یعنی ان عذروں کی وجہ سے جتنا قیام آسانی سے کر سکو کرو۔
➏ {” تَيَسَّرَ مِنْهُ “} کی تعیین میں وہ حدیث بہت مناسب معلوم ہوتی ہے جو عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِيْنَ وَ مَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِيْنَ وَ مَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِيْنَ] [أبو داوٗد، تفریع أبواب شھر رمضان، باب تحزیب القرآن: ۱۳۹۸، وصححہ الألباني] ”جو شخص دس آیات کے ساتھ قیام کرے وہ غافلوں سے نہیں لکھا جاتا، جو سو آیات کے ساتھ قیام کرے وہ قانتین(عبادت گزاروں) میں لکھا جاتا ہے اور جو ہزار آیات کے ساتھ قیام کرے وہ بڑے خزانے والوں میں لکھا جاتا ہے۔“ اس آیت اور حدیث سے تخفیف کے باوجود کم از کم دس آیات کے ساتھ قیام اللیل کی تاکید صاف ظاہر ہو رہی ہے۔
➐ { ” وَ اٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “} (اور کچھ دوسرے لوگ اللہ کی راہ میں لڑائی کر رہے ہوں گے) کے متعلق حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے، کیونکہ یہ آیت بلکہ ساری سورت مکہ میں اتری جب کہ جہاد شروع نہیں ہوا تھا، اس وقت یہ پیش گوئی غیب کی ایک خبر ہے جو ایک نبی ہی کے ذریعے سے دی جاتی ہے۔
➑ {” وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ “} سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ مکہ میں فرض ہو چکی تھی، اگرچہ مختلف چیزوں کے نصاب کی تعیین مدینہ میں جا کر ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ قیام اللیل جتنا آسانی سے ہو سکے کرو، مگر فرض نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی ہر گز نہ کرو۔
➒ {وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا …:} زکوٰۃ کے بعد قرض حسنہ سے مراد نفلی صدقات ہیں، پھر زکوٰۃ ہو یا نفلی صدقات یا خیر کا کوئی بھی عمل وہ قیامت کے دن دس گنا سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ کی صورت میں واپس ملیں گے۔
➓ {وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ:} یعنی کوئی بھی عمل ہو اس کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو، عمل پر پھول مت جاؤ۔ سورۂ ذاریات میں متقین کے متعلق فرمایا: «كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ (17) وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ» [الذاریات: ۱۷،۱۸] ”وہ رات کو بہت کم سوتے تھے اور سحریوں کے وقت استغفار کرتے تھے۔“ ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو تین دفعہ استغفار کرتے۔ [مسلم، المساجد و مواضع الصلاۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ: ۵۹۱]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[19] اس آیت سے از خود معلوم ہو جاتا ہے کہ اس حکم کے بعد قیام اللیل فرض نہیں رہا۔ نہ اس میں قرآن کی کوئی مقررہ مقدار پڑھنے کی قید ہے۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز تہجد فرض تھی وہ بھی اس آیت کی رو سے نہیں بلکہ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت: ﴿وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ﴾ [79:17] کی رو سے تھی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کسب حلال کی خاطر سفر کرنے کو بھی ایک معقول عذر اور قتال فی سبیل اللہ کے برابر قرار دیا۔ جس سے کسب حلال کی انتہائی فضیلت معلوم ہوئی۔
البتہ جب کوئی شخص اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو جتنی چاہے قراءت لمبی کر سکتا ہے۔
[22] انسان کے کام آنے والا وہی مال ہے جو اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کہتا ہے کہ یہ میرا مال ہے، یہ میرا مال ہے۔ حالانکہ اس کا مال وہی ہے جو اس نے کھا کر یا پہن کر استعمال کر لیا یا اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔ اور جو مال وہ چھوڑ مراتو اس کا مال نہیں ہے وہ تو وارثوں کا ہے۔ اس ارشاد مبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھائے اور پہنے ہوئے مال کو بھی اپنا مال قرار دیا وہ اپنا ضرور ہے۔ اور شائد اس کے متعلق اللہ کے ہاں باز پرس بھی نہ ہو۔ مگر انسان کے کام صرف وہی مال آئے گا جسے اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا یا حاجت مندوں کی احتیاج کو دور کیا، یہی وہ مال ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ اجر عطا کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔
[23] استغفار سے صرف یہی فائدہ حاصل نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ازراہ کرم استغفار کرنے والے کے گناہ معاف فرما دیتا ہے بلکہ اس سے کئی طرح کے دنیوی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ نوح کا حاشیہ نمبر 5
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے کہ ’ اے نبی! آپ کا اور آپ کے اصحاب کی ایک جماعت کا کبھی دو تہائی رات تک قیام میں مشغول رہنا، کبھی آدھی رات اسی میں گزرنا، کبھی تہائی رات تک تہجد پڑھنا اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے گو تمہارا مقصد ٹھیک اس وقت کو پورا کرنا نہیں ہوتا اور ہے بھی وہ مشکل کام۔ ‘ کیونکہ رات دن کا صحیح اندازہ اللہ ہی کو ہے کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں کبھی رات چھوٹی دن بڑا، کبھی دن چھوٹا رات بڑی، اللہ جانتا ہے کہ اس کو بنانے کی طاقت تم میں نہیں تو اب رات کی نماز اتنی ہی پڑھو جتنی تم باآسانی پڑھ سکو کوئی وقت مقرر نہیں کہ فرضاً اتنا وقت تو لگانا ہی ہو گا۔
یہاں صلٰوۃ کی تعبیر قرأت سے کی ہے جیسے سورۃ سبحان میں کی ہے «وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ’ نہ تو بہت بلند کر نہ بالکل پست کر۔‘
اور صحیح مسلم شریف میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ بالکل ادھوری محض ناکارہ ناقص اور ناتمام ہے۔“ } ۱؎ [صحیح مسلم:385]
صحیح ابن خزیمہ میں بھی ان ہی کی روایت سے ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔ } ۱؎ [صحیح ابن خریمه:490:صحیح] (پس ٹھیک قول جمہور کا ہی ہے کہ ہر نماز کی ہر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا لازمی اور متعین ہے)۔
یہ آیت بلکہ یہ پوری سورت مکی ہے، مکہ شریف میں نازل ہوئی اس وقت جہاد فرض نہیں تھا بلکہ مسلمان نہایت پست حالت میں تھے پھر غیب کی یہ خبر دینا اور اسی طرح ظہور میں بھی آنا کہ مسلمانوں جہاد میں پوری طرح مشغول ہوئے یہ نبوت کی اعلیٰ اور بہترین دلیل ہے۔ تو ان معذورات کے باعث تمہیں رخصت دی جاتی ہے کہ جتنا قیام تم سے با آسانی کیا جا سکے کر لیا کرو۔
پس بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حافظ قرآن کا رات کی نماز میں کچھ نہ کچھ قیام کرنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کے نزدیک حق و واجب تھا، ایک حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جو صبح تک سویا رہتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جس کے کان میں شیطان پیشاب کر جاتا ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:1144] اس کا تو ایک تو یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو عشاء کے فرض بھی نہ پڑھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو رات کو نفلی قیام نہ کرے۔
سنن کی حدیث میں ہے { اے قرآن والو وتر پڑھا کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1416،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری روایت میں ہے { جو وتر نہیں پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1419،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسن بصری رحمہ اللہ کے قول سے بھی زیادہ غریب قول ابوبکر بن عبدالعزیز حنبلی رحمہ اللہ کا ہے جو کہتے ہیں کہ رمضان کے مہینے کا قیام فرض ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (یہ یاد رہے کہ صحیح مسلک یہی ہے کہ تہجد کی نماز نہ تو رمضان میں واجب ہے، نہ غیر رمضان میں۔ رمضان کی بابت بھی حدیث شریف میں صاف آ چکا ہے «وَقِیَامَ لَیُلِهٖ تَطَوُّعاً» یعنی اللہ نے اس کے قیام کو نفلی قرار دیا ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)
طبرانی کی حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں بہت مرفوعاً مروی ہے کہ { گو سو ہی آیتیں ہوں۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:10940:ضعیف] لیکن یہ حدیث بہت غریب ہے صرف معجم طبرانی میں ہی میں نے اسے دیکھا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما،عکرمہ مجاہد، حسن، قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف کا فرمان ہے کہ ”اس آیت نے اس سے پہلے کے حکم رات کے قیام کو منسوخ کر دیا۔“ ان دونوں حکموں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ اس میں جو اختلاف ہے اس کا بیان اوپر گزر چکا۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”پانچ نمازیں دن رات میں فرض ہیں۔“ اس نے پوچھا: اس کے سوا بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باقی سب نوافل ہیں۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:46]
پھر فرماتا ہے ’ اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ ‘ یعنی راہ اللہ صدقہ خیرات کرتے رہو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں بہت بہتر اور اعلیٰ اور پورا بدلہ دے گا۔
جیسے اور جگہ ہے «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرة:245] ’ ایسا کون ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے اور اللہ اسے بہت کچھ بڑھائے چڑھائے۔‘ تم جو بھی نیکیاں کر کے بھیجو گے وہ تمہارے لیے اس چیز سے جسے تم اپنے پیچھے چھوڑ کر جاؤ گے بہت ہی بہتر اور اجر و ثواب میں بہت ہی زیادہ ہے۔
ابو یعلیٰ موصلی کی روایت میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ایک مرتبہ پوچھا: ”تم میں سے ایسا کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے تو ایک بھی ایسا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: ”اور سوچ لو“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہی بات ہے فرمایا: ”سنو تمہارا مال وہ ہے جسے تم راہ اللہ دے کر اپنے لیے آگے بھیج دو اور جو چھوڑ جاؤ گے وہ تمہارا مال نہیں وہ تو تمہارے وارثوں کا مال ہے۔“ } یہ حدیث بخاری شریف اور نسائی میں بھی مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6442]
پھر فرمان ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو اور اپنے تمام کاموں میں استغفار کیا کرو جو استغفار کرے وہ مغفرت حاصل کر لیتا ہے کیونکہ اللہ مغفرت کرنے والا اور مہربانیوں والا ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ مزمل کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ذكر الله في أول هذه السورة أنَّه أمر رسولَه بقيام نصفِ الليل أو ثلثيه أو ثلثه ، والأصلُ أنَّ أمته أسوةٌ له في الأحكام، وذكر في هذا الموضع أنَّه امتثل ذلك هو وطائفةٌ معه من المؤمنين. ولما كان تحرير الوقت المأمور به مشقَّة على الناس؛ أخبر أنَّه سهَّل عليهم في ذلك غاية التسهيل؛ فقال: {والله يقدِّرُ الليلَ والنهارَ}؛ أي: يعلم مقاديرهما وما يمضي ويبقى منهما ، {علم أن لن تُحصوه}؛ أي: لن تعرِفوا مقداره من غير زيادةٍ ولا نقصٍ؛ لكون ذلك يستدعي انتباهاً وعناءً زائداً؛ أي: فخفَّف عنكم وأمركم بما تيسَّر عليكم سواء زاد على المقدَّر أو نَقَصَ، {فاقرؤوا ما تيسَّرَ من القرآن}؛ أي: ممَّا تعرفون ولا يشقُّ عليكم، ولهذا كان المصلِّي بالليل مأموراً بالصلاة ما دام نشيطاً؛ فإذا فَتَرَ أو كسل أو نعس؛ فليسترحْ ليأتيَ الصلاةَ بطمأنينةٍ وراحةٍ.
ثم ذكر بعضَ الأسباب المناسبة للتخفيف، فقال: {علم أن سيكونُ منكم مرضى}: يشقُّ عليهم صلاة نصف الليل أو ثلثيه أو ثلثه، فليصلِّ المريض ما يسهُلُ عليه، ولا يكون أيضاً مأموراً بالصَّلاة قائماً عند مشَّقة ذلك، بل لو شقَّت عليه الصلاةُ النافلةُ؛ فله تركُها، وله أجرُ ما كان يعمل صحيحاً. {وآخرون يضرِبون في الأرض يبتغونَ من فضل الله}؛ أي: وعلم أنَّ منكم مسافرين يسافرون للتجارة؛ ليستغنوا عن الخلق، ويتكفَّفوا عنهم ؛ أي: فالمسافر حالُهُ تناسِبُ التخفيف، ولهذا خفَّف عنه في صلاة الفرض، فأبيح له جمعُ الصلاتين في وقتٍ واحدٍ وقصرُ الصَّلاة الرُّباعية. وكذلك {آخرون يقاتِلون في سبيل اللهِ فاقرؤوا ما تيسَّرَ منه}: فذكر تعالى تخفيفين؛ تحفيفاً للصحيح المقيم يراعي فيه نشاطه من غير أن يُكَلَّفَ عليه تحرير الوقت، بل يتحرَّى الصلاة الفاضلة، وهي ثلث الليل بعد نصفه الأول، وتخفيفاً للمريض والمسافر، سواء كان سفرُه للتجارة أو لعبادةٍ من جهادٍ أو حجٍّ أو غيره ؛ فإنَّه [أيضاً] يراعي ما لا يكلِّفه؛ فلله الحمد والثناء؛ حيث لم يجعلْ علينا في الدين من حرج، بل سهَّل شرعه، وراعى أحوال عباده ومصالح دينهم وأبدانهم ودنياهم.
ثم أمر العباد بعبادتين هما أمُّ العبادات وعمادُها: إقامة الصلاة التي لا يستقيمُ الدين إلاَّ بها، وإيتاءُ الزَّكاة التي هي برهانُ الإيمان وبها تحصُلُ المواساة للفقراء والمساكين، فقال: {وأقيموا الصلاة}؛ أي: بأركانها وحدودها وشروطها وجميع مكمِّلاتها ، {وأقرِضوا الله قرضاً حسناً}؛ أي: خالصاً لوجه الله بنيَّة صادقةٍ وتثبيتٍ من النفس ومال طيِّبٍ، ويدخُلُ في هذا الصدقة الواجبة والمستحبَّة.
ثم حثَّ على عموم الخير وأفعاله، فقال: {وما تقدِّموا لأنفسكم من خيرٍ تجِدوه عند الله هو خيراً وأعظم أجراً}: الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائةِ ضعفٍ إلى أضعافٍ كثيرة. وليعلمْ أنَّ مثقال ذرَّةٍ في هذه الدار من الخير يقابله أضعافُ أضعافِ الدُّنيا وما عليها في دار النعيم المقيم من اللذَّات والشَّهوات، وأنَّ الخير والبرَّ في هذه الدنيا مادةُ الخير والبرِّ في دار القرار وبذرُه وأصلُه وأساسُه. فوا أسفاه على أوقاتٍ مضت في الغفلات! ووا حسرتاه على أزمانٍ تقضَّت في غير الأعمال الصالحات! ووا غوثاه من قلوبٍ لم يؤثِّرْ فيها وعظُ بارئها ولم ينجَعْ فيها تشويق من هو أرحم بها من نفسها! فلك اللهم الحمدُ وإليك المشتكى وبك المستغاث ولا حول ولا قوَّة إلاَّ بك.
{واستغفروا الله إنَّ الله غفورٌ رحيمٌ}: وفي الأمر بالاستغفار بعد الحثِّ على أفعال الطاعة والخير فائدةٌ كبيرةٌ، وذلك أنَّ العبد لا يخلو من التقصير فيما أُمِرَ به: إما أنْ لا يفعلَه أصلاً، أو يفعله على وجهٍ ناقصٍ، فأُمِرَ بترقيع ذلك بالاستغفار؛ فإنَّ العبد يذنِبُ آناء الليل والنهار؛ فمتى لم يتغمَّدْه الله برحمته ومغفرته؛ فإنَّه هالكٌ.