(آیت 13،12) {اِنَّلَدَيْنَاۤاَنْكَالًا …: ”اَنْكَالًا“نِكْلٌ“} (نون کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، جانور کے پاؤں کی زنجیر اور لگام کے لوہے والے حصے کو کہتے ہیں۔ {”جَحِيْمًا“”جَحْمَةٌ“} (آگ کا سخت بھڑکنا) سے مشتق ہے۔(راغب) {”ذَاغُصَّةٍ“} جو گلے میں پھنس جائے، نہ نگل سکے نہ اگل سکے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ ہمارے پاس (ان لوگوں کے لیے) بیڑیاں [13] بھی ہیں اور دوزخ بھی
[13] یہ آسودہ حال لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت اور مخالفت میں پیش پیش ہیں۔ انہیں سزا دینے کے لئے ہمارے پاس بہت کچھ ہے۔ وزنی بیڑیاں بھی جن کے بوجھ کی وجہ سے ہل تک نہ سکیں گے۔ انہیں بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا کھانے کو تھوہر کا درخت ہو گا جو بھوک کی مجبوری کی وجہ سے کھانے کی کوشش کریں گے مگر اس سے گلے میں پھندا لگ جائے گا اور بڑی مشکل سے نیچے اترے گا۔ اس کے علاوہ دردناک سزا بھی ملے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔