(آیت 7){ وَاَنَّهُمْظَنُّوْاكَمَاظَنَنْتُمْ …:} جن اپنی قوم کے لوگوں کو کافر انسانوں کے متعلق بتا رہے ہیں کہ شرک کے علاوہ ان انسانوں کا عقیدہ تمھاری طرح یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو قیامت کے دن دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو (نبی بنا کر) نہیں بھیجے گا۔ کفار میں ہمیشہ، خواہ وہ انسان ہوں یا جن، توحید، آخرت اور رسالت تینوں کا انکار پایا جاتا رہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ اور یہ کہ انسان بھی ایسا ہی خیال کرتے تھے جیسے تم کرتے ہو کہ اللہ کبھی کسی کو دوبارہ [6] نہ اٹھائے گا
[6] یہ ذومعنی فقرہ ہے اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ گویا جس طرح انسانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو رسالت اور آخرت دونوں کے منکر ہیں اسی طرح جنوں میں بھی ایسے لوگ موجود تھے۔ جب جنوں نے قرآن سن کر معلوم کیا کہ ان کے یہ دونوں عقیدے غلط تھے۔ چنانچہ ان عقائد سے دستبردار ہو کر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔