(آیت 22) { قُلْاِنِّيْلَنْيُّجِيْرَنِيْمِنَاللّٰهِاَحَدٌ …:} یعنی آپ انھیں کہہ دیں کہ اگر میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکاروں یا اس کی نافرمانی کروں تو اللہ کی گرفت سے مجھے کوئی نہیں بچا سکے گا اور نہ مجھے اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ مل سکے گی، تو تم اس کی گرفت سے کیسے بچ سکو گے اور کس کی پناہ میں جاؤ گے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22۔ 1 اگر میں اس کی نافرمانی کروں اور وہ مجھے اس پر وہ عذاب دینا چاہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ آپ کہئے کہ: مجھے اللہ سے ہرگز کوئی بچا نہ سکے گا [20] اور نہ ہی میں اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ پا سکوں گا
[20] یعنی میرے تصرف اور اختیار کا تو یہ حال ہے کہ تم کو نفع یا نقصان پہنچانا تو دور کی بات ہے مجھے اپنے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں۔ فرض کرو جو ڈیوٹی اللہ نے میرے ذمہ لگا رکھی ہے میں اس میں کچھ کوتاہی کرتا ہوں تو میں بھی اللہ کی گرفت میں آسکتا ہوں مجھ میں یہ سکت نہیں کہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے بچا سکوں یا کہیں بھاگ کر ہی اس کی گرفت سے بچاؤ حاصل کر سکوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔