(آیت 20) {قُلْاِنَّمَاۤاَدْعُوْارَبِّيْ …:} یعنی تمھیں جتنا بھی ناگوار ہو اور تم روکنے کے لیے جتنے بھی جمع ہو جاؤ، میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکاروں گا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروں گا۔ندائے غیر اللہ کی حرمت کی آیات کے لیے دیکھیں گزشتہ آیت (۱۸) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
20۔ 1 یعنی جب سب آپ کی عداوت پر اتر آئے ہیں تو آپ کہہ دو کہ میں تو صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اسی سے پناہ طلب کرتا ہوں اور اسی پر بھروسہ کرتا ہوں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ: میں تو صرف اپنے پروردگار کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک [18] نہیں کرتا
[18] یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ہجوم کرنے والے کافروں سے کہیے کہ میں کوئی قابل اعتراض باتیں تو نہیں کہہ رہا میں تو صرف یہی کہتا ہوں کہ مشکل کے اوقات میں یا کسی حاجت کے موقع پر صرف اپنے پروردگار کو پکارتا ہوں اور صرف اسی کو پکارتا ہوں۔ اس لیے کہ میں صرف اسی کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھتا ہوں اس میں لڑنے جھگڑنے کی کیا بات ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔