اور بے شک میں نے جب بھی انھیں دعوت دی، تاکہ تو انھیں معاف کردے،انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور اڑ گئے اور تکبر کیا،بڑا تکبر کرنا۔
En
جب جب میں نے ان کو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے
(آیت 7) ➊ { وَاِنِّيْكُلَّمَادَعَوْتُهُمْلِتَغْفِرَلَهُمْ …:} اس آیت میں تھوڑا سا حصہ حذف ہے، یعنی میں نے جب بھی انھیں دعوت دی کہ (ایمان لے آئیں، تاکہ اس کے نتیجے میں) تو انھیں معاف فرما دے تو انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں، منہ سرکپڑوں میں لپیٹ لیے اور اپنی بات پر اڑ گئے…۔ یعنی ان کے پاس نوح علیہ السلام کی دعوت کو ردّ کرنے کا کوئی جواز نہ تھا اور نہ ہی آپ کے دلائل کا سامنا کرنے کی ہمت تھی، ادھر وہ شرک چھوڑنے پر بھی تیار نہیں تھے اور نہ اپنی بڑائی سے دستبردار ہونے پر تیار تھے۔ نوح علیہ السلام کی بات ماننے میں ان کی سرداری، بڑائی اور چودھراہٹ میں فرق آتا تھا، اس لیے ان کی کوشش یہ تھی کہ نہ نوح علیہ السلام کی بات کانوں میں پڑے اور نہ ان کی نظر ان پر پڑے۔ غرض کسی صورت بھی ان سے آمنا سامنا نہ ہونے پائے، مبادا وہ پھر تبلیغ شروع کر دیں، اس لیے جیسے بھی ہو سکے ہر صورت منہ سر چھپا کر ان کے پاس سے نکل جائیں۔ ➋ {وَاسْتَكْبَرُوااسْتِكْبَارًا:} نوح علیہ السلام کی قوم کا تکبر یہ تھا کہ انھوں نے حق بات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَيَدْخُلُالْجَنَّةَمَنْكَانَفِيْقَلْبِهِمِثْقَالُذَرَّةٍمِّنْكِبْرٍ،قَالَرَجُلٌإِنَّالرَّجُلَيُحِبُّأَنْيَكُوْنَثَوْبُهُحَسَنًاوَنَعْلُهُحَسَنَةً،قَالَإِنَّاللَّهَجَمِيْلٌيُحِبُّالْجَمَالَالْكِبْرُبَطَرُالْحَقِّوَغَمْطُالنَّاسِ][مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر وبیانہ: ۹۱]”جس کے دل میں ایک ذرّے کے برابر تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو (تو کیا یہ بھی تکبر ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ تکبر نہیں) اللہ خوبصورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق سے انکار کر دینا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔ 7۔ 2 تاکہ میری آواز سن سکیں۔ تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال دیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں 7۔ 3 یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔ 7۔ 4 قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ اور میں نے جب بھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف [4] کر دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں سے اپنے منہ ڈھانپ لیے، اپنی روش پر اڑ گئے اور تکبر کی انتہا کر دی
[4] یعنی اگر وہ اللہ پر ایمان لے آئیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں تو اللہ یقیناً ان کے گناہ معاف کر دے گا۔ لیکن ان بد بختوں نے میری بات سننا بھی گوارا نہ کیا۔ بلکہ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور دوسرا کام وہ یہ کرتے ہیں کہ جہاں کہیں مجھے دیکھتے ہیں اپنا منہ ڈھانپ لیتے ہیں کہ میں انہیں دیکھ کر بلا نہ لوں یا پھر انہیں مجھ سے اتنی نفرت ہے کہ وہ میری شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے اور اپنے منہ پر کپڑا ڈال لیتے ہیں۔ یہ ہے ان کی ضد اور نفرت کی انتہا انہوں نے تو تیرے احکام کے سامنے اکڑ جانے میں حد کر دی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔