اس آیت کی تفسیر آیت 18 میں تا آیت 20 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 یعنی اسے فرش کی طرح بچھا دیا ہے تم اس پر اسی طرح چلتے پھرتے ہو جیسے اپنے گھر میں بچھے ہوئے فرش پر چلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ اور اللہ ہی نے تمہارے لیے زمین کو (فرش کی طرح) بچھا [11] دیا
[11] پھر اس زمین میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔ تم اس پر مکان بناؤ۔ باغات لگاؤ، چلو پھرو، لیٹو، بیٹھو، ہر طرف کشادہ راہیں ہیں۔ اگر ایک شخص کے پاس وسائل ہوں تو ساری دنیا کے گرد گھوم سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاللّٰهُجَعَلَلَكُمُالْاَرْضَبِسَاطًا﴾”اور اللہ ہی نے زمین کو تمھارے لیے فرش بنایا۔“ یعنی زمین کو استفادے کی خاطر پھیلا کر تیار کر دیا ﴿لِّتَسْلُكُوْامِنْهَاسُبُلًافِجَاجًا﴾”تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں میں چلو پھرو۔“ پس اگر اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلایا نہ ہوتا تو یہ سب کچھ ممکن نہ ہوتا بلکہ زمین پر کھیتی باڑی کرنا، باغ لگانا، زراعت کرنا، عمارتیں تعمیر کرنا اور سکونت اختیار کرنا بھی ممکن نہ ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والله جعل لكم الأرض بساطاً}؛ أي: مبسوطةً مهيئة للانتفاع بها، {لِتَسْلُكوا منها سُبُلاً فِجاجاً}: فلولا أنَّه بسطها؛ لما أمكن ذلك، بل ولا أمكنهم حرثها وغرسها وزرعها والبناء والسكون على ظهرها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔