(آیت 10) {فَقُلْتُاسْتَغْفِرُوْارَبَّكُمْ …:} چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، (ظاہر ہے ایمان لانے کے بعد ہی بخشش مانگنے کا مرحلہ آتا ہے) یقینا وہ بہت ہی بخشنے والا ہے۔ {”كَانَ“} دوام اور استمرار کے لیے ہے، یعنی بخشنا اور معاف کرنا ہمیشہ سے اس کی صفت رہی ہے، پھر کسی واسطے یا وسیلے سے مانگنے کی کیا ضرورت ہے، اپنے رب سے خود ہی معافی مانگ لو، وہ تمھیں بخش دے گا۔ جب معافی مل گئی تو آخرت میں سزا سے بچ جاؤ گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 یعنی ایمان اور اطاعت کا راستہ اپنالو، اور اپنے رب سے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ لو۔ 10۔ 2 وہ توبہ کرنے والوں کے لئے بڑا رحیم و غفار ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ اور کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگ لو، بلا شبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَقُلْتُاسْتَغْفِرُوْا﴾ یعنی میں نے انھیں کہا کہ تم جن گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہو، ان کو چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ سے ان گناہوں کی بخشش طلب کرو۔ ﴿ اِنَّهٗكَانَغَفَّارًا﴾ جو کوئی توبہ کر کے اس سے بخشش طلب کرتا ہے، وہ اسے کثرت سے بخشتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کی بخشش اور اس پر جو ثواب مترتب ہوتا ہے اور جو عذاب دور ہوتا ہے، اس کی ترغیب دی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو دنیا کی فوری بھلائی کے ذریعے سے ترغیب دی، چنانچہ فرمایا: ﴿ یُّرْسِلِالسَّمَآءَؔعَلَیْكُمْمِّؔدْرَارًا﴾ یعنی وہ تم پر لگاتار بارش برسائے گا جو وادیوں اور ٹیلوں کو سیراب کر دے گی، شہروں اور بندوں کو زندگی عطا کرے گی۔﴿ وَّیُمْدِدْؔكُمْبِاَمْوَالٍوَّبَنِیْنَ﴾ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمھارے اموال میں، جن کے ذریعے سے تم دنیا کی ہر وہ چیز حاصل کرتے ہو، جس کی تمھیں طلب ہوتی ہے، اور تمھاری اولاد میں کثرت عطا کرے گا ﴿وَیَجْعَلْلَّـكُمْجَنّٰتٍوَّیَجْعَلْلَّـكُمْاَنْ٘هٰرًا﴾”اور تمھارے لیے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کردے گا۔“ یہ دنیا کی لذتوں اور اس کے مطالب کی انتہا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فقلتُ استَغْفِروا ربَّكم}؛ أي: اتركوا ما أنتم عليه من الذنوب واستغفروا الله منها؛ {إنَّه كان غفاراً}: كثير المغفرة لمن تاب واستغفر، فرغَّبهم بمغفرة الذُّنوب وما يترتب عليها من الثواب واندفاع العقاب، ورغَّبهم أيضاً بخير الدُّنيا العاجل، فقال: {يرسِلِ السماءَ عليكم مِدراراً}؛ أي: مطراً متتابعاً يروي الشعاب والوهاد، ويحيي البلاد والعباد، {ويُمْدِدْكُم بأموال وبنينَ}؛ أي: يكثر أموالكم التي تدركون بها ما تطلبون من الدُّنيا وأولادكم، {ويجعل لكم جناتٍ ويجعل لكم أنهاراً}: وهذا من أبلغ ما يكون من لَذَّاتِ الدُّنيا ومطالبها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔