(آیت 32) {وَالَّذِيْنَهُمْلِاَمٰنٰتِهِمْ …:} امانت و عہد کی حفاظت ایمان کی اور خیانت و بدعہدی نفاق کی علامت ہے، جیسا کہ نفاق کی علامات والی مشہور حدیث میں ہے۔ [دیکھیے بخاري: ۳۳۔ مسلم: ۵۸] {”أَمَانَاتٌ“} کو جمع لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ صرف مال ہی نہیں بلکہ ہر اس امانت کی حفاظت کرتے ہیں جس کی ادائیگی اللہ تعالیٰ یا بندوں کی طرف سے ان کے ذمے ہے۔ اس میں نماز، روزہ اور دوسری فرض عبادات اور واجب حقوق العباد سب شامل ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
32۔ 1 یعنی ان کے پاس جو لوگوں کی امانتیں ہیں اس میں وہ خیانت نہیں کرتے اور لوگوں سے جو عہد کرتے ہیں انہیں توڑتے نہیں بلکہ ان کی پاسداری کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
32۔ اور جو اپنی امانتوں [19] اور اپنے عہد کا پاس رکھتے ہیں
[19] اس آیت کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۃ مومنون کی آیت نمبر 8 کا حاشیہ
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔