اس آیت کی تفسیر آیت 26 میں تا آیت 28 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
27۔ 1 یعنی اطاعت اور اعمال صالحہ کے باوجود اللہ کی عظمت و جلالت کے پیش نظر اس کی گرفت سے لرزاں وترساں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اللہ کی رحمت ہمیں اپنے دامن میں نہیں ڈھانک لے گی ہمارے یہ اعمال نجات کے لیے کافی نہیں ہوں گے جیسا کہ اس مفہوم کی حدیث پہلے گزر چکی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ اور جو اپنے پروردگار کے عذاب [17] سے ڈرتے رہتے ہیں
[17] روز جزا و سزا کی تصدیق کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں۔ پھر اسی تصدیق کے نتیجہ میں وہ ہر اس کام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جس پر اللہ کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اور انہیں ہر وقت یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں ہماری کو تاہیاں ہماری نیکیوں سے بڑھ نہ جائیں۔ جو ہمیں اللہ کے عذاب کا مستحق بنا دیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالَّذِیْنَهُمْمِّنْعَذَابِرَبِّهِمْمُّشْفِقُوْنَ﴾ یعنی اپنے رب کے عذاب سے خائف اور ڈرتے ہیں اس لیے وہ ہر اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے قریب کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّعَذَابَرَبِّهِمْغَیْرُمَاْمُوْنٍ﴾”بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونےوالی چیز نہیں ہے۔“ یہ وہ عذاب ہے جس سے ڈرا جاتا اور بچا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين هم من عذاب ربِّهم مشفِقون}؛ أي: خائفون وجِلون، فيتركون لذلك كلَّ ما يقرِّبهم من عذاب الله. {إنَّ عذاب ربِّهم غيرُ مأمونٍ}؛ أي: هو العذاب الذي يُخشى ويُحذر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔