(آیت 10تا14) {وَلَايَسْـَٔلُحَمِيْمٌحَمِيْمًا …:} کوئی دوست کسی دوست کو نہیں پوچھے گا، اس لیے نہیں کہ وہ دکھائی نہیں دے رہا ہو گا، بلکہ {”يُبَصَّرُوْنَهُمْ“} ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جا رہے ہوں گے اور آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ نہ پوچھنے کی وجہ یہ ہو گی کہ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی، مجرم دنیا میں جن جن پر اپنی جان قربان کرتا تھا اس دن سب کو، بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو اپنی جان بچانے کے لیے عذابِالٰہی کے حوالے کر دینا پسند کرے گا۔ اس مقام پر رشتہ داروں کی ترتیب میں پہلے ان کا ذکر کیاجو سب سے زیادہ محبوب ہیں، یعنی بیٹے، بیوی، بھائی، خاندان اور سورۂ عبس (۳۴تا۳۶) میں اس کا الٹ ہے۔ {”فَصِيْلَتِهِ“} خاندان، کنبہ، کیونکہ وہ قبیلے سے جدا ہوتا ہے۔ {”تُـْٔوِيْهِ“”اٰوٰييُؤْوِيْ“} (افعال) جگہ دینا، پناہ دینا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ اس دن کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب ان بڑے بڑے اجرام پر یہ گھبراہٹ اور بے قراری طاری ہو گی تو اس کمزور بندے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کی کمر کو گناہوں کے بوجھ نے بوجھل کر رکھا ہو گا؟ کیا وہ اس لائق نہ ہو گا کہ اس کا دل اکھڑ جائے، اس کی عقل و خرد زائل ہو جائے اور وہ ہر ایک سے غافل ہو جائے؟ اس لیےفرمایا:
﴿ وَلَایَسْـَٔلُحَمِیْمٌحَمِیْمًاۚۖ۰۰یُّبَصَّرُوْنَهُمْ﴾ (حَمِیْمٌ) سے مراد قریبی ہے، یعنی قریبی دوست، وہ اپنے دوست کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں اتنی گنجائش نہ ہو گی کہ وہ اس کا حال پوچھ سکے، نہ وہ ان امور کے بارے میں پوچھ سکے گا جو ان کی آپس کی معاشرت اور محبت کے متعلق ہوں گے، بس اسے اپنے آپ کا غم ہو گا۔ ﴿ یَوَدُّالْمُجْرِمُ﴾ جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہو چکا ہو گا، خواہش کرے گا ﴿ لَوْیَفْتَدِیْمِنْعَذَابِیَوْمِىِٕذٍۭبِبَنِیْهِ ۰۰ وَصَاحِبَتِهٖ﴾”کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔“﴿ وَاَخِیْهِۙ۰۰وَفَصِیْلَتِهِ﴾”اور اپنا بھائی اور اپنا خاندان“ یعنی اپنی قرابت ﴿الَّتِیْتُــــْٔوِیْهِ﴾”جس میں وہ رہتا تھا۔“ یعنی دنیا کے اندر عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں۔ پس قیامت کے اندر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش ہی کر سکے گا۔ بلکہ اگر عذاب کا مستحق جو کچھ زمین میں ہے، سب فدیے میں دے کر عذاب سے بچنا چاہے، تب بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فإذا كان هذا الانزعاج والقلق لهذه الأجرام الكبيرة الشديدة؛ فما ظنُّك بالعبد الضعيف الذي قد أثقل ظهره بالذنوب والأوزار؟! أليس حقيقياً أن ينخلِعَ قلبُه و [ينزعجَ] لبُّه ويذهلَ عن كلِّ أحدٍ؟! ولهذا قال: {ولا يسألُ حميمٌ حميماً يُبَصِّرونَهم}؛ أي: يشاهدُ الحميمُ - وهو القريب - حميمَه؛ فلا يبقى في قلبه متَّسع لسؤاله عن حاله ولا فيما يتعلَّق بعشرتهم ومودَّتهم ولا يهمُّه إلاَّ نفسُه. {يودُّ المجرِمُ}: الذي حقَّ عليه العذاب {لو يفتدي من عذاب يومِئِذٍ ببنيهِ. وصاحبتِهِ}؛ أي: زوجته، {وأخيه. وفصيلته}؛ أي: قرابته، {التي تُؤْويه}؛ أي: التي جرت عادتها في الدنيا أن تتناصَرَ ويعينَ بعضها بعضاً؛ ففي [يوم] القيامةِ لا ينفع أحدٌ أحداً، ولا يشفع أحدٌ إلاَّ بإذن الله، بل لو يفتدي المجرمُ المستحقُّ للعذاب بجميع ما في الأرض ثم ينجيه ذلك؛ لم ينفعه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔