ترجمہ و تفسیر — سورۃ المعارج (70) — آیت 1

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ﴿۱﴾
ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کے متعلق سوا ل کیا جو واقع ہونے والا ہے۔ En
ایک طلب کرنے والے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہے گا
En
ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا جو واضح ہونے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2،1) ➊ { سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ…:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ ایک پوچھنے والے نے عذاب کے متعلق سوال کیا ہے (کہ وہ کب آئے گا؟) اس صورت میں باء بمعنی {عَنْ} ہو گی اور مراد وہ کفریہ سوال ہے جو وہ بار بار عذاب کو جھٹلانے اور مذاق کرنے کے لیے کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [الملک: ۲۵] اور وہ کہتے ہیں کہ وہ(عذاب کا) وعدہ کب پورا ہو گا، اگر تم سچے ہو؟ دوسرا معنی یہ ہے کہ ایک مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے۔ اس سے مراد کفار کے سرکش لوگوں کی وہ دعا ہے جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ اے اللہ! محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر یہ حق ہے تو توُ ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔ (دیکھیے انفال: ۳۲) اور کفار کا وہ مطالبہ بھی مراد ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے رہتے تھے کہ ہم پر جلد از جلد عذاب لے آؤ، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ» [العنکبوت: ۵۳] اور یہ لوگ آپ سے جلدی عذاب لانے کا سوال کرتے ہیں۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، پوچھنے والا عذاب کے متعلق پوچھتا ہے کہ وہ کب آئے گا؟ مانگنے والا مطالبہ کرتا ہے کہ عذاب لے آؤ، تو سن لو کہ وہ عذاب کافروں پر ضرور آ کر رہے گا اور کوئی اسے ہٹا نہیں سکے گا، مگر وہ اپنے وقت پر آئے گا۔ آپ ان کے مطالبے پر نہ اس کے جلدی آنے کا سوال کریں اور نہ ان کے مذاق اڑانے پر کسی قسم کی بے صبری کامظاہرہ کریں، وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں اور ہمیں وہ بالکل قریب نظر آرہا ہے۔
➋ { لِلْكٰفِرِيْنَ لَيْسَ لَهٗ دَافِعٌ: لِلْكٰفِرِيْنَ } یا تو { وَاقِعٍ } کے متعلق ہے، یعنی وہ عذاب کافروں پر واقع ہونے والا ہے، کوئی اسے ہٹا نہیں سکتا، یا { دَافِعٌ } کے متعلق ہے، یعنی کافروں سے اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

ایک سوال کرنے والے نے (1) اس عذاب کا سوال کیا جو واضح ہونے والا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ کسی طلب کرنے والے نے اس عذاب کا مطالبہ کیا جو واقع ہو کے رہے گا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کافروں کا عذاب الٰہی طلب کرنا ٭٭
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ‏‏‏‏۱؎ [22-الحج:47]‏‏‏‏ یعنی ’ یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا ‘، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔
نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے، یعنی آخرت میں۔
ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ‏‏‏‏۱؎ [8-الإنفال:32]‏‏‏‏ یعنی ’ الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا ‘۔
ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے ‘۔
معارج سے مراد ٭٭
«‏‏‏‏مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [70-المعارج:3]‏‏‏‏ کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق درجوں والا ہے، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں فضل و کرم اور نعمت و رحم والا، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔
روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ { جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں }، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «‏‏‏‏يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27]‏‏‏‏ کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے ‘، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صفتہ العرش میں ذکر کیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔‏‏‏‏
یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ‘۔
دوسرا قول یہ ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔‏‏‏‏ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے ـ
تیسرا قول یہ ہے کہ یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔
چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔‏‏‏‏
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا }، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف]‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]‏‏‏‏
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ { جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا }۔
پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ { گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے }۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987]‏‏‏‏
ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18]‏‏‏‏، یعنی ’ بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں ‘۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ’ یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں ‘، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ معاندینِ حق کی جہالت کو، اور استہزا کے طور پر ان کے عذاب الٰہی کو مشکل اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہوئے عذاب کے لیے جلدی مچانے کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ یعنی دعا کرنے والے نے دعا کی اور نصرت طلب کرنے والے نے نصرت طلب کی ﴿بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ۰۰لِّلْ٘كٰفِرِیْنَ عذاب کی جو واقع ہوکر رہے گا کافروں پر۔ ان کے کفر و عناد کی بنا پر، عذاب کے مستحق ہونے کی وجہ سے ﴿ لَ٘یْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ۰۰مِّنَ اللّٰهِ متکبر اور سرکش مشرکین میں سے جس کسی نے جلد عذاب کی خواہش کی ہے، کوئی اس عذاب کو اس کے نازل ہونے سے قبل روک سکتا ہے نہ اس کے نازل ہونے کے بعد اس کو اٹھا سکتا ہے۔
یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئیں جب نضر بن حارث قرشی وغیرہ اہل تکذیب نے دعا کرتے ہوئے کہا﴿ اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (الأنفال: 32/8)اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ضرور واقع ہو گا، یا تو اس دنیا ہی میں جلد ان پر عذاب بھیج دیا جائے گا یا آخرت میں (مبتلا کرنے کے لیے) اس عذاب کو ان سے مؤخر کیا جائے گا۔
اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی ہوتی، اس کی عظمت، اس کی وسعت سلطنت اور اس کے اسماء و صفات کو پہچانا ہوتا تو وہ کبھی جلدی نہ مچاتے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے اور ادب اختیار کرتے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا جو ان کے اقوال قبیحہ کی ضد ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ذِی الْمَعَارِجِؕ۰۰ تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ اِلَیْهِ یعنی وہ بلندی، جلال، اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انھیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔
یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یا بد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتی ہیں، انھیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے، یہ ارواح اللہ تعالیٰ کے حضور تحیہ و سلام پیش کرتی ہیں اس کے قرب سے سرفراز ہوتی ہیں اور اس کے قرب سے بہجت و سرور حاصل کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ثنا و اکرام، بھلائی اور بڑائی حاصل ہو گی۔
رہیں فساق و فجار کی ارواح تو وہ عروج کرتی ہیں جب وہ آسمان پر پہنچتیں ہیں تو آنے کی اجازت طلب کرتی ہیں، مگر ان کو اجازت نہیں دی جاتی اور ان کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مسافت کا ذکر فرمایا جس کو طے کر کے فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتے ہیں، نیز یہ کہ وہ ان اسباب کے ذریعے سے ایک دن میں عروج کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسان کیے ہیں اور اوپر چڑھنے میں ان کی لطافت، خفت اور سرعت رفتار ان کی اعانت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عام عادی رفتار کے مطابق، یہ مسافت ابتدائے عروج سے لے کر اس حد تک جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور ملأ اعلیٰ تک، پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔
یہ عظیم بادشاہی، یہ وسیع کائنات، علوی اور سفلی، اس کی تخلیق اور تدبیر کا انتظام، وہی بلند و برتر کرتا ہے۔ پس وہ ان کے ظاہری و باطنی احوال کا علم رکھتا ہے، وہ ان کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور اسے اس جگہ کا علم ہے جہاں ان کو سونپا جانا ہے، اس نے اپنی رحمت، احسان اور رزق ان تک پہنچایا جو ان سب پر عام اور سب کو شامل ہے۔ اس نے ان پر حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کو جاری کیا۔پس شدت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کی عظمت کے بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور انھوں نے اس کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے، پس انھوں نے عجز ثابت کرنے اور امتحان کے طور پر عذاب کے لیے جلدی مچائی … پاک ہے حلم اور درگزر کرنے والی ہستی جس نے ان کو ڈھیل دے رکھی مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑا، انھوں نے اس کو اذیت پہنچائی مگر اس نے ان کے بارے میں صبر کیا، ان کو معاف کر دیا اور ان کو رزق عطا کیا۔
یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک احتمال ہے، پس یہ عروج اور چڑھنا اس دنیا میں ہے کیونکہ آیت کریمہ کا پہلا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندوں پر اپنی عظمت، جلال اور کبریائی ظاہر کرے گا جو اس کی معرفت کی سب سے بڑی دلیل ہے وہ فرشتوں اور ارواح کو تدابیر الٰہیہ اور امور ربانیہ کے ساتھ چڑھتے اترتے مشاہدہ کریں گے۔یہ اس روز ہوگا جس کا اندازہ اس کی لمبائی اور شدت کی بنا پر پچاس ہزار سال ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ مومنوں پر تخفیف فرمائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى مبيِّناً لجهل المعاندين واستعجالهم لعذاب الله استهزاءً وتعنُّتاً وتعجيزاً: {سأل سائلٌ} أي: دعا داعٍ واستفتح مستفتح، {بعذابٍ واقعٍ للكافرينَ}: لاستحقاقهم له بكفرِهم وعنادِهم. {ليس له دافع من الله}؛ أي: ليس لهذا العذاب الذي استعجلَ به مَنِ استعجلَ من متمرِّدي المشركين أحدٌ يدفعه قبل نزوله أو يرفعه بعد نزوله، وهذا حين دعا النَّضْر بن الحارث القرشيُّ أو غيره من المكذِّبين ، فقال: {اللهمَّ إنْ كان هذا هو الحقَّ من عندِكَ فأمطِرْ علينا حجارةً من السماء أو ائتنا بعذابٍ أليم ... } [إلى آخر الآيات]؛ فالعذابُ لا بدَّ أن يقع عليهم من الله؛ فإمَّا أن يُعَجَّلَ لهم في الدُّنيا، وإمَّا أن يُدَّخَرَ لهم في الآخرة؛ فلو عرفوا الله وعرفوا عظمته وسعة سلطانه وكمال أسمائِهِ وصفاتِهِ؛ لما استعجلوا، ولاستسلموا وتأدَّبوا، ولهذا ذكر تعالى من عظمته ما يضادُّ أقوالهم القبيحة، فقال: {ذي المعارج. تَعْرُجُ الملائكةُ والرُّوح إليه}؛ أي: ذي العلوِّ والجلال والعظمة والتَّدبير لسائر الخلق، الذي تَعْرُجُ إليه الملائكة بما جعلها على تدبيره، وتَعْرُجُ إليه الرُّوح، وهذا اسم جنس يشمل الأرواح كلَّها؛ بَرَّها وفاجِرَها، وهذا عند الوفاة، فأمَّا الأبرار؛ فتعرج أرواحُهم إلى الله، فيؤذن لهم من سماءٍ إلى سماءٍ، حتى تنتهي إلى السماء التي فيها اللهُ عزَّ وجلَّ، فتحيي ربَّها وتسلِّم عليه وتحظى بقربه، وتبتهج بالدنوِّ منه، ويحصُلُ لها منه الثناء والإكرام والبرُّ والإعظام، وأمَّا أرواحُ الفجَّار؛ فتعرج، فإذا وصلت إلى السماء؛ استأذنتْ، فلا يؤذَنُ لها، وأعيدت إلى الأرض.

ثم ذكر المسافةَ التي تَعْرُجُ فيها الملائكةُ والرُّوح إلى الله، وأنَّها تعرج في يوم بما يَسِّر لها من الأسباب وأعانها عليه من اللَّطافة والخفَّة وسرعة السير، مع أنَّ تلك المسافة على السير المعتاد مقدار خمسين ألف سنةٍ، من ابتداء العروج إلى وصولها ما حُدَّ لها، وما تنتهي إليه من الملأ الأعلى؛ فهذا المُلْك العظيم والعالم الكبير علويُّه وسفليُّه جميعه قد تولَّى خلقه وتدبيره العليُّ الأعلى، فعلم أحوالهم الظاهرة والباطنة، [وَعَلِمَ] مستقرَّهم ومستودَعَهم، وأوصلهم من رحمته وبرِّه وإحسانه ما عمَّهم وشَمَلَهم، وأجرى عليهم حكمه القدريَّ وحكمه الشرعيَّ وحكمه الجزائيَّ؛ فبؤساً لأقوام جهلوا عظمته ولم يقدروه حقَّ قدره، فاستعجلوا بالعذاب على وجه التعجيز والامتحان. وسبحان الحليم الذي أمهلهم وما أهملهم، وآذَوْه فصبر عليهم وعافاهم ورَزَقَهم!

هذا أحدُ الاحتمالات في تفسير هذه الآية الكريمة، فيكون هذا العروجُ والصعودُ في الدنيا؛ لأنَّ السِّياق الأول يدلُّ عليه. ويُحتمل أنَّ هذا في يوم القيامةِ، وأنَّ الله [تبارك و] تعالى يظهِرُ لعباده في يوم القيامةِ من عظمته وجلاله وكبريائه، ما هو أكبر دليل على معرفتِهِ مما يشاهدونه من عروج الأملاك والأرواح، صاعدةً ونازلةً بالتدابير الإلهيّة والشؤون الربَّانيَّة في ذلك اليوم الذي مقداره خمسين ألف سنة من طوله وشدَّته، لكنَّ الله تعالى يخفِّفه على المؤمن.