تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، پوچھنے والا عذاب کے متعلق پوچھتا ہے کہ وہ کب آئے گا؟ مانگنے والا مطالبہ کرتا ہے کہ عذاب لے آؤ، تو سن لو کہ وہ عذاب کافروں پر ضرور آ کر رہے گا اور کوئی اسے ہٹا نہیں سکے گا، مگر وہ اپنے وقت پر آئے گا۔ آپ ان کے مطالبے پر نہ اس کے جلدی آنے کا سوال کریں اور نہ ان کے مذاق اڑانے پر کسی قسم کی بے صبری کامظاہرہ کریں، وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں اور ہمیں وہ بالکل قریب نظر آرہا ہے۔
➋ { لِلْكٰفِرِيْنَ لَيْسَ لَهٗ دَافِعٌ: ” لِلْكٰفِرِيْنَ “} یا تو {” وَاقِعٍ “} کے متعلق ہے، یعنی وہ عذاب کافروں پر واقع ہونے والا ہے، کوئی اسے ہٹا نہیں سکتا، یا {” دَافِعٌ “} کے متعلق ہے، یعنی کافروں سے اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔
ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [8-الإنفال:32] یعنی ’ الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا ‘۔
ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے ‘۔
روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ { جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں }، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“
یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ’ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ‘۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ
تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔
چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ }، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ { گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے }۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:987]
ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“
پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18]، یعنی ’ بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں ‘۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ’ یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں ‘، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيِّناً لجهل المعاندين واستعجالهم لعذاب الله استهزاءً وتعنُّتاً وتعجيزاً: {سأل سائلٌ} أي: دعا داعٍ واستفتح مستفتح، {بعذابٍ واقعٍ للكافرينَ}: لاستحقاقهم له بكفرِهم وعنادِهم. {ليس له دافع من الله}؛ أي: ليس لهذا العذاب الذي استعجلَ به مَنِ استعجلَ من متمرِّدي المشركين أحدٌ يدفعه قبل نزوله أو يرفعه بعد نزوله، وهذا حين دعا النَّضْر بن الحارث القرشيُّ أو غيره من المكذِّبين ، فقال: {اللهمَّ إنْ كان هذا هو الحقَّ من عندِكَ فأمطِرْ علينا حجارةً من السماء أو ائتنا بعذابٍ أليم ... } [إلى آخر الآيات]؛ فالعذابُ لا بدَّ أن يقع عليهم من الله؛ فإمَّا أن يُعَجَّلَ لهم في الدُّنيا، وإمَّا أن يُدَّخَرَ لهم في الآخرة؛ فلو عرفوا الله وعرفوا عظمته وسعة سلطانه وكمال أسمائِهِ وصفاتِهِ؛ لما استعجلوا، ولاستسلموا وتأدَّبوا، ولهذا ذكر تعالى من عظمته ما يضادُّ أقوالهم القبيحة، فقال: {ذي المعارج. تَعْرُجُ الملائكةُ والرُّوح إليه}؛ أي: ذي العلوِّ والجلال والعظمة والتَّدبير لسائر الخلق، الذي تَعْرُجُ إليه الملائكة بما جعلها على تدبيره، وتَعْرُجُ إليه الرُّوح، وهذا اسم جنس يشمل الأرواح كلَّها؛ بَرَّها وفاجِرَها، وهذا عند الوفاة، فأمَّا الأبرار؛ فتعرج أرواحُهم إلى الله، فيؤذن لهم من سماءٍ إلى سماءٍ، حتى تنتهي إلى السماء التي فيها اللهُ عزَّ وجلَّ، فتحيي ربَّها وتسلِّم عليه وتحظى بقربه، وتبتهج بالدنوِّ منه، ويحصُلُ لها منه الثناء والإكرام والبرُّ والإعظام، وأمَّا أرواحُ الفجَّار؛ فتعرج، فإذا وصلت إلى السماء؛ استأذنتْ، فلا يؤذَنُ لها، وأعيدت إلى الأرض.
ثم ذكر المسافةَ التي تَعْرُجُ فيها الملائكةُ والرُّوح إلى الله، وأنَّها تعرج في يوم بما يَسِّر لها من الأسباب وأعانها عليه من اللَّطافة والخفَّة وسرعة السير، مع أنَّ تلك المسافة على السير المعتاد مقدار خمسين ألف سنةٍ، من ابتداء العروج إلى وصولها ما حُدَّ لها، وما تنتهي إليه من الملأ الأعلى؛ فهذا المُلْك العظيم والعالم الكبير علويُّه وسفليُّه جميعه قد تولَّى خلقه وتدبيره العليُّ الأعلى، فعلم أحوالهم الظاهرة والباطنة، [وَعَلِمَ] مستقرَّهم ومستودَعَهم، وأوصلهم من رحمته وبرِّه وإحسانه ما عمَّهم وشَمَلَهم، وأجرى عليهم حكمه القدريَّ وحكمه الشرعيَّ وحكمه الجزائيَّ؛ فبؤساً لأقوام جهلوا عظمته ولم يقدروه حقَّ قدره، فاستعجلوا بالعذاب على وجه التعجيز والامتحان. وسبحان الحليم الذي أمهلهم وما أهملهم، وآذَوْه فصبر عليهم وعافاهم ورَزَقَهم!
هذا أحدُ الاحتمالات في تفسير هذه الآية الكريمة، فيكون هذا العروجُ والصعودُ في الدنيا؛ لأنَّ السِّياق الأول يدلُّ عليه. ويُحتمل أنَّ هذا في يوم القيامةِ، وأنَّ الله [تبارك و] تعالى يظهِرُ لعباده في يوم القيامةِ من عظمته وجلاله وكبريائه، ما هو أكبر دليل على معرفتِهِ مما يشاهدونه من عروج الأملاك والأرواح، صاعدةً ونازلةً بالتدابير الإلهيّة والشؤون الربَّانيَّة في ذلك اليوم الذي مقداره خمسين ألف سنة من طوله وشدَّته، لكنَّ الله تعالى يخفِّفه على المؤمن.