ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 86

وَ لَا تَقۡعُدُوۡا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوۡعِدُوۡنَ وَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِہٖ وَ تَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ کُنۡتُمۡ قَلِیۡلًا فَکَثَّرَکُمۡ ۪ وَ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۸۶﴾
اور ہر راستے پر نہ بیٹھو کہ دھمکاتے ہو اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو ہر اس شخص کو جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔ اور یاد کرو جب تم بہت کم تھے تو اس نے تمھیں زیادہ کر دیا اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا؟ En
اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
En
اور تم سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان ﻻنے والے کو دھمکیاں دو اور اللہ کی راه سے روکو اور اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو۔ اور اس حالت کو یاد کرو جب کہ تم کم تھے پھر اللہ نے تم کو زیاده کردیا اور دیکھو کہ کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 86){ وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ ……:} یہ لوگ راستوں پر ناکے لگا کر لوگوں سے زبردستی ٹیکس وصول کرتے، کبھی ڈرا دھمکا کر ان کی بے عزتی کرتے اور ان کا سب کچھ ہی چھین لیتے۔ اگر کوئی شعیب علیہ السلام پر ایمان لانے کی طرف مائل نظر آتا تو اسے ہر طرح سے روکنے کی کوشش کرتے اور اسلام کے احکام میں طرح طرح کی خرابیاں نکال کر اور شبہات پیدا کرکے ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ یہ سیدھا نہیں بلکہ غلط راستہ ہے، جیسا کہ آج کل بھی نام کے وہ مسلمان دانش ور، صحافی، پروفیسر اور حکمران جو کفار سے مرعوب ہیں اسلام کے احکام کو وحشیانہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ شعیب علیہ السلام نے انھیں ان برائیوں سے روکا اور اﷲ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا کہ اس نے تمھاری تھوڑی سی نسل کو کس قدر بڑھایا اور انھیں مفسدین کے انجامِ بد سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین فرمائی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

86۔ 1 اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے اللہ کے راستے میں کجیاں تلاش کرنا۔ یہ ہر دور کے نافرمانوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے جس کے نمونے آجکل کے متجدین اور فرنگیت زدہ لوگوں میں نظر آتے ہیں۔ مثلاً لوگوں کو ستانے کے لئے بیٹھنا، جیسے عام طور پر اوباش قسم کے لوگوں کا شیوا ہے۔ یا حضرت شعیب ؑ کی طرف جانے والے راستوں پر بیٹھنا اور اس راہ پر چلنے والوں کو روکنا۔ یوں لوٹ مار کی غرض سے ناکوں پر بیٹھنا تاکہ آنے جانے والوں کا مال سلب کرلیں، یا بعض کے نزدیک محصول اور چونگی وصول کرنے کے لئے ان کے راستوں پر بیٹھنا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ سارے ہی مفہوم صحیح ہوسکتے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ وہ سب ہی کچھ کرتے ہوں۔ (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

86۔ اور (زندگی کی) ہر راہ پر راہزن بن کر [92] نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو دھمکاتے پھرو اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اسے اس کی راہ سے روکنے لگو اور اس سیدھی راہ میں کجی کے درپے ہو جاؤ۔ اور وہ وقت یاد کرو۔ جب تم تھوڑے تھے تو اللہ نے تمہیں زیادہ کر دیا۔ اور دیکھو کہ فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے
[92] ہیرا پھیریوں اور لوٹ مار کی قسمیں:۔
اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تجارتی راستوں پر بیٹھ کر ان قافلوں کو لوٹنے کے درپے نہ ہو جاؤ پھر یہ لوٹنا بھی کئی قسم کا ہوتا ہے۔ ایک تو عام صورت ہے کہ جیسی کوئی رہزن کسی کمزور کا مال چھین لیتا ہے دوسرے تجارتی منڈی میں پہنچنے سے پیشتر اس سے مال کا سودا کر لینا جبکہ اس راہ رو کو منڈی کے بھاؤ کی خبر نہ ہو اس طرح فریب کے ساتھ راہرو سے سستا مال لے لینا بھی لوٹنے کے مترادف ہے اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے اور تیسرا یہ کہ اپنی سیاسی پوزیشن کی بنا پر ان تاجروں کو بلیک میل نہ کیا کرو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نبی پر ایمان لانا چاہتے ہیں انہیں ڈراؤ دھمکاؤ نہیں یا ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کر کے نبی کی بتلائی ہوئی سیدھی راہ میں ٹیڑھ مت پیدا کرو جیسا کہ انبیاء کے مخالفین ہر زمانے میں ایسی حرکتیں کرتے اور چالیں چلتے آئے ہیں چنانچہ مشرکین مکہ نے بھی آپ کی راہ روکنے کے لیے ایسے تمام حربے استعمال کیے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قوم شعیب کی بداعمالیاں ٭٭
فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راستے میں دہشت گردی نہ پھیلاؤ، ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مال زبردستی نہ چھینو۔ میرے پاس ہدایت حاصل کرنے کے لئے جو آنا چاہتا ہے، اسے خوفزدہ کر کے روک دیتے ہو؟ ایمانداروں کو اللہ کی راہ پر چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو؟ راہ حق کو ٹیڑھا کر دینا چاہتے ہو؟ ان تمام برائیوں سے بچو۔
یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت تو قتل و غارت سے روک کے لیے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو۔
تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ گنتی میں، قوت میں تم کچھ نہ تھے، بہت ہی کم تھے۔ اس نے اپنی مہربانی سے تمہاری تعداد بڑھا دی اور تمہیں زور آور کر دیا۔ رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرو۔
عبرت کی آنکھوں سے ان کا انجام دیکھ لو جو تم سے پہلے ابھی ابھی گزرے ہیں جن کے ظلم و جبر کی وجہ سے، جن کی بد امنی اور فساد کی وجہ سے رب کے عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ اللہ کی نافرمانیوں میں رسولوں کے جھٹلانے میں مشغول رہے، دلیر بن گئے جس کے بدلے اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوئی۔ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی باقی نہیں رہی۔ نیست و نابود ہو گئے، مر مٹ گئے۔
دیکھو! میں تمہیں صاف بے لاگ ایک بات بتا دوں۔ تم میں سے ایک گروہ مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور ایک گروہ نے میرا انکار اور بری طرح مجھ سے کفر کیا۔ اب تم خود دیکھ لو گے کہ مدد ربانی کس کا ساتھ دیتی ہے اور اللہ کی نظروں سے کون گر جاتا ہے؟ تم رب کے فیصلے کے منتظر رہو۔ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا اور سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم خود دیکھ لو کہ اللہ والے با مراد ہوں گے اور دشمنان اللہ نامراد ہوں گے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُ٘لِّ صِرَاطٍ اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوْعِدُوْنَ ڈراتے ہو۔ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبْغُوْنَهَا عِوَجًا اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔
تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں۔ ﴿ وَاذْكُرُوْۤا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَؔكُمْ جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا یعنی تمھیں بیویاں، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانْ٘ظُ٘رُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا تقعُدوا}: للناس {بكلِّ صراطٍ}؛ أي: طريق من الطرق التي يكثُرُ سلوكها؛ تحذِّرون الناس منها، و {توعِدونَ}: من سلكها، {وتَصُدُّون عن سبيل الله}: من أراد الاهتداء به، {وتبغونَها عِوَجاً}؛ أي: تبغون سبيل الله تكون معوجَّة، وتميلونها اتِّباعاً لأهوائكم، وقد كان الواجب عليكم وعلى غيركم الاحترام والتعظيم للسبيل التي نصبها الله لعباده، ليسلكوها إلى مرضاته ودار كرامته ورحمهم بها أعظمَ رحمةٍ، وتَصَدَّون لنصرتها والدعوة إليها والذبِّ عنها، لا أن تكونوا أنتم قطاع طريقها الصّادِّين الناس عنها؛ فإنَّ هذا كفرٌ لنعمة الله ومحادَّة لله وجعل أقوم الطرق وأعدلها مائلةً، وتشنِّعون على من سلكها، {واذكُروا}: نعمة الله عليكم {إذ كُنتُم قليلاً فكثَّرَكم}؛ أي: نمَّاكم بما أنعم عليكم من الزوجات والنسل والصحة، وأنه ما ابتلاكم بوباء أو أمراض من الأمراض المقلِّلة لكم، ولا سلَّط عليكم عدوًّا يجتاحُكم، ولا فرَّقكم في الأرض، بل أنعم عليكم باجتماعكم وإدرار الأرزاق وكثرة النسل. {وانظروا كيف كان عاقبةُ المفسدين}: فإنكم لا تجدون في جموعهم إلاَّ الشتات، ولا في ربوعهم إلاَّ الوَحْشة والانبتات، ولم يورثوا ذِكْراً حسناً، بل أُتْبِعوا في هذه الدُّنيا لعنةً ويوم القيامة [أشد] خزياً وفضيحة.