تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت تو قتل و غارت سے روک کے لیے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو۔
تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ گنتی میں، قوت میں تم کچھ نہ تھے، بہت ہی کم تھے۔ اس نے اپنی مہربانی سے تمہاری تعداد بڑھا دی اور تمہیں زور آور کر دیا۔ رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرو۔
عبرت کی آنکھوں سے ان کا انجام دیکھ لو جو تم سے پہلے ابھی ابھی گزرے ہیں جن کے ظلم و جبر کی وجہ سے، جن کی بد امنی اور فساد کی وجہ سے رب کے عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ اللہ کی نافرمانیوں میں رسولوں کے جھٹلانے میں مشغول رہے، دلیر بن گئے جس کے بدلے اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوئی۔ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی باقی نہیں رہی۔ نیست و نابود ہو گئے، مر مٹ گئے۔
دیکھو! میں تمہیں صاف بے لاگ ایک بات بتا دوں۔ تم میں سے ایک گروہ مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور ایک گروہ نے میرا انکار اور بری طرح مجھ سے کفر کیا۔ اب تم خود دیکھ لو گے کہ مدد ربانی کس کا ساتھ دیتی ہے اور اللہ کی نظروں سے کون گر جاتا ہے؟ تم رب کے فیصلے کے منتظر رہو۔ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا اور سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم خود دیکھ لو کہ اللہ والے با مراد ہوں گے اور دشمنان اللہ نامراد ہوں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا تقعُدوا}: للناس {بكلِّ صراطٍ}؛ أي: طريق من الطرق التي يكثُرُ سلوكها؛ تحذِّرون الناس منها، و {توعِدونَ}: من سلكها، {وتَصُدُّون عن سبيل الله}: من أراد الاهتداء به، {وتبغونَها عِوَجاً}؛ أي: تبغون سبيل الله تكون معوجَّة، وتميلونها اتِّباعاً لأهوائكم، وقد كان الواجب عليكم وعلى غيركم الاحترام والتعظيم للسبيل التي نصبها الله لعباده، ليسلكوها إلى مرضاته ودار كرامته ورحمهم بها أعظمَ رحمةٍ، وتَصَدَّون لنصرتها والدعوة إليها والذبِّ عنها، لا أن تكونوا أنتم قطاع طريقها الصّادِّين الناس عنها؛ فإنَّ هذا كفرٌ لنعمة الله ومحادَّة لله وجعل أقوم الطرق وأعدلها مائلةً، وتشنِّعون على من سلكها، {واذكُروا}: نعمة الله عليكم {إذ كُنتُم قليلاً فكثَّرَكم}؛ أي: نمَّاكم بما أنعم عليكم من الزوجات والنسل والصحة، وأنه ما ابتلاكم بوباء أو أمراض من الأمراض المقلِّلة لكم، ولا سلَّط عليكم عدوًّا يجتاحُكم، ولا فرَّقكم في الأرض، بل أنعم عليكم باجتماعكم وإدرار الأرزاق وكثرة النسل. {وانظروا كيف كان عاقبةُ المفسدين}: فإنكم لا تجدون في جموعهم إلاَّ الشتات، ولا في ربوعهم إلاَّ الوَحْشة والانبتات، ولم يورثوا ذِكْراً حسناً، بل أُتْبِعوا في هذه الدُّنيا لعنةً ويوم القيامة [أشد] خزياً وفضيحة.