فَتَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ رِسَالَۃَ رَبِّیۡ وَ نَصَحۡتُ لَکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿۷۹﴾
تو وہ ان سے واپس لوٹا اور اس نے کہا اے میری قوم! بلاشبہ یقینا میں نے تمھیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمھاری خیرخواہی کی اور لیکن تم خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔
پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے
اس وقت (صالح علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے، اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچادیا تھا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم لوگ خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 79){ فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ......:} یہ اسی قسم کا خطاب تھا جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مشرک مقتولین سے کیا تھا۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۴۳) کی تفسیر۔ دوسرے تمام انبیاء کے ذکر میں {”رِسٰلٰتِ رَبِّيْ “} جمع کا لفظ ہے اور یہاں{ ” رِسَالَةَ رَبِّيْ “} واحد ہے۔ بقاعی نے فرمایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایک ہی معجزہ تھا، یعنی اونٹنی۔(نظم الدرر) (واﷲ اعلم)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
79۔ 1 یہ یا تو ہلاکت سے قبل کا خطاب ہے یا پھر ہلاکت کے بعد اسی طرح کا خطاب ہے، جس طرح رسول اللہ نے جنگ بدر ختم ہونے کے بعد جنگ بدر میں مشرکین کی لاشوں سے خطاب فرمایا تھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
79۔ پھر صالح یہ کہتا ہوا ان کے ہاں سے چلے گئے: ”اے قوم! میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیرخواہی [84] بھی کی لیکن تم تو خیرخواہی کرنے والوں کو پسند ہی نہیں کرتے“
[84] ہجرت سے پہلے اپنی قوم کو خطاب:۔
حجر جیسے متمدن شہر کے کھنڈرات دیکھنے ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہو گی مگر ان میں سے صرف ایک سو بیس آدمی سیدنا صالحؑ پر ایمان لائے تھے اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالحؑ کو عذاب کی آمد کے وقت سے مطلع کر دیا تھا چنانچہ انہوں نے ان پیروکاروں کو لے کر فلسطین کا رخ کیا اور جاتے جاتے اپنی قوم کے لوگوں سے نہایت افسوس سے یہ خطاب کیا کہ میں نے تو تمہیں اللہ کا پیغام بھی پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیر خواہی کی بھی انتہائی کوشش کی تھی لیکن تم ان باتوں کا مذاق ہی اڑاتے رہے اب تم جانو تمہارا کام۔ یہ کہہ کر آپ شہر سے باہر نکلے ہی تھے کہ اس قوم پر عذاب نازل ہو گیا فلسطین پہنچ کر آپ اپنے ساتھیوں سمیت رملہ کے قریب آباد ہو گئے اور کچھ عرصہ بعد اسی مقام پر وفات پائی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صالح علیہ السلام ہلاکت کے اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں ٭٭
قوم کی ہلاکت دیکھ کر افسوس و حسرت اور آخری ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر پیغمبر حق صالح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ نہ تمہیں رب کی رسالت نے فائدہ پہنچایا، نہ میری خیر خواہی ٹھکانے لگی۔ تم اپنی بےسمجھی سے دوست کو دشمن سمجھ بیٹھے اور آخر اس روز بد کو دعوت دے لی۔
چنانچہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب بدری کفار پر غالب آئے، وہیں تین دن تک ٹھہرے رہے۔ پھر رات کے آخری وقت اونٹنی پر زین کس کر آپ تشریف لے چلے اور جب اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں ان کافروں کی لاشیں ڈالی گئی تھیں تو آپ ٹھہر گئے اور فرمانے لگے: اے ابوجہل، اے عتبہ، اے شیبہ، اے فلاں، اے فلاں! بتاؤ رب کے وعدے تم نے درست پائے؟ میں نے تو اپنے رب کے فرمان کی صداقت اپنی آنکھوں دیکھ لی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان جسموں سے باتیں کر رہے ہیں جو مردار ہو گئے؟ آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں جو کچھ ان سے کہہ رہا ہوں، اسے یہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں لیکن جواب کی طاقت نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3976]
سیرت کی کتابوں میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: تم نے میرا خاندان ہونے کے باوجود میرے ساتھ وہ برائی کی کہ کسی خاندان نے اپنے پیغمبر کے ساتھ نہ کی۔ تم نے میرے ہم قبیلہ ہونے کے باوجود مجھے جھٹلایا اور دوسرے لوگوں نے مجھے سچا سمجھا۔ تم نے رشتہ داری کے باوجود مجھے دیس سے نکال دیا اور دوسرں نے مجھے اپنے ہاں جگہ دی۔ افسوس! تم اپنے ہو کر مجھ سے برسر جنگ رہے اور دوسروں نے میری امداد کی۔ پس تم اپنے نبی کے بدترین قبیلے ہو۔ } ۱؎ [سیرة ابن هشام:212/2:معضل ضعیف]
یہی صالح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ میں نے تو ہمدردی کی انتہا کر دی، اللہ کے پیغام کی تبلیغ میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن آہ! نہ تم نے اس سے کوئی فائدہ اٹھایا، نہ حق کی پیروی کی، نہ اپنے خیرخواہ کی مانی۔ بلکہ اسے اپنا دشمن سمجھا۔
بعض مفسرین کا قول ہے کہ ہر نبی جب دیکھتا کہ اب میری امت پر عام عذاب آنے والا ہے، انہیں چھوڑ کر نکل کھڑا ہوتا اور حرم مکہ میں پناہ لیتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
چنانچہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب بدری کفار پر غالب آئے، وہیں تین دن تک ٹھہرے رہے۔ پھر رات کے آخری وقت اونٹنی پر زین کس کر آپ تشریف لے چلے اور جب اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں ان کافروں کی لاشیں ڈالی گئی تھیں تو آپ ٹھہر گئے اور فرمانے لگے: اے ابوجہل، اے عتبہ، اے شیبہ، اے فلاں، اے فلاں! بتاؤ رب کے وعدے تم نے درست پائے؟ میں نے تو اپنے رب کے فرمان کی صداقت اپنی آنکھوں دیکھ لی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان جسموں سے باتیں کر رہے ہیں جو مردار ہو گئے؟ آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں جو کچھ ان سے کہہ رہا ہوں، اسے یہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں لیکن جواب کی طاقت نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3976]
سیرت کی کتابوں میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: تم نے میرا خاندان ہونے کے باوجود میرے ساتھ وہ برائی کی کہ کسی خاندان نے اپنے پیغمبر کے ساتھ نہ کی۔ تم نے میرے ہم قبیلہ ہونے کے باوجود مجھے جھٹلایا اور دوسرے لوگوں نے مجھے سچا سمجھا۔ تم نے رشتہ داری کے باوجود مجھے دیس سے نکال دیا اور دوسرں نے مجھے اپنے ہاں جگہ دی۔ افسوس! تم اپنے ہو کر مجھ سے برسر جنگ رہے اور دوسروں نے میری امداد کی۔ پس تم اپنے نبی کے بدترین قبیلے ہو۔ } ۱؎ [سیرة ابن هشام:212/2:معضل ضعیف]
یہی صالح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ میں نے تو ہمدردی کی انتہا کر دی، اللہ کے پیغام کی تبلیغ میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن آہ! نہ تم نے اس سے کوئی فائدہ اٹھایا، نہ حق کی پیروی کی، نہ اپنے خیرخواہ کی مانی۔ بلکہ اسے اپنا دشمن سمجھا۔
بعض مفسرین کا قول ہے کہ ہر نبی جب دیکھتا کہ اب میری امت پر عام عذاب آنے والا ہے، انہیں چھوڑ کر نکل کھڑا ہوتا اور حرم مکہ میں پناہ لیتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد میں ہے کہ { حج کے موقعہ پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی عسفان پہنچے تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ آپ نے جواب دیا: وادی عسفان۔ فرمایا: میرے سامنے سے ہود اور صالح علیہما السلام ابھی ابھی گزرے، اونٹنیوں پر سوار تھے جن کی نکیلیں کھجور کے پتوں کی تھیں۔ کمبلوں کے تہ بند بندھے ہوئے اور موٹی چادریں اوڑھے ہوئے تھے۔ لبیک پکارتے ہوئے بیت اللہ شریف کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ } ۱؎ [مسند احمد:232/1:ضعیف]
یہ حدیث غریب ہے۔ صحاح ستہ میں نہیں۔
یہ حدیث غریب ہے۔ صحاح ستہ میں نہیں۔