ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 60

قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِہٖۤ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶۰﴾
اس کی قوم میں سے سرداروں نے کہا بے شک ہم یقینا تجھے کھلی گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔ En
تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں
En
ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے کہا کہ ہم تم کو صریح غلطی میں دیکھتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 60){ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ ……:} کھلی گمراہی میں اس لیے کہ اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر ہمیں ایک نئے دین (توحید) کی طرف کھینچنا چاہتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے واقعات میں یہ بات قرآن نے نمایاں طور پر بیان فرمائی ہے کہ ان کی دعوتِ توحید کی مخالفت کرنے والوں میں امراء کا طبقہ ہر زمانے میں پیش پیش رہا ہے، کیونکہ انقلابی دعوت کا پہلا نشانہ یہی لوگ بنتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

60۔ 1 شرک اس طرح انسانی عقل کو ماؤف کردیتا ہے کہ انسان کو ہدایت، گمراہی اور گمراہی۔ ہدایت نظریاتی ہے۔ چناچہ قوم نوح کی بھی یہی قلبی ماہیت ہوئی، ان کو حضرت نوح ؑ، جو اللہ کی توحید کی طرف اپنی قوم کو دعوت دے رہے تھے، نعوذباللہ گمراہ نظر آتے تھے۔: تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا۔ کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ اس کی قوم کے سرداروں [64] نے کہا: ”ہم تو تجھے ہی صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں“
[64] سرداروں کی مخالفت کی وجوہ:۔
انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی مخالفت میں عموماً سرداران قوم ہی پیش پیش ہوا کرتے ہیں اس کی بڑی وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ نبی کی دعوت قبول کر لیں تو انہیں ان مناصب یا اس مقام سے دستبردار ہونا پڑتا ہے جو معاشرے میں انہیں حاصل ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں جب نبی یہ دعوت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی کار ساز حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو اس سے از خود ان کے بتوں کی توہین ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کی اپنی عقلوں اور آباء و اجداد کی عقلوں کی بھی توہین ہو جاتی ہے۔ لہٰذا یہ سردار قسم کے لوگ انبیاء علیہم السلام کی دعوت پر فوراً بھڑک اٹھتے ہیں اور یہی وہ طبقہ ہوتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا اس طرح ان کا خبث باطن کھل کر سامنے آجاتا ہے پھر صرف یہی نہیں کہ یہ لوگ خود دعوت قبول نہیں کرتے بلکہ عام طبقہ کو بھی اس راہ سے روکتے اور قبول دعوت پر طرح طرح کی پابندیاں لگا دیتے ہیں اور ایسے لوگوں نے جو سیدنا نوحؑ کو جواب دیا تو ان کا استدلال یہ تھا کہ اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دینے اور کوئی اور دین اختیار کرنے سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے؟ لہٰذا صریح گمراہی میں ہم نہیں بلکہ تم ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

پھر تذکرہ انبیاء ٭٭
چونکہ سورت کے شروع میں سیدنا آدم علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا تھا۔ پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے۔ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کا ذکر ہوا کیونکہ سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (‏‏‏‏یعنی ادریس علیہ السلام یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم علیہ السلام۔
ائمہ نسب امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔
امام صاحب فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لیے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔
آدم اور نوح علیہم السلام کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گزرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اس طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہو گئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنا لیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنا لیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لیے۔ کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لیے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔
جب بت پرستی کا رواج ہو گیا، اللہ نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو بھیجا۔ آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔
قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے نوح علیہ السلام کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو، ہمیں اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔
کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔
نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں، تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیرخواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔
ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیرخواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کر سکتا۔
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو! میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا: ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی تھی اور حق رسالت ادا کر دیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی۔ پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یااللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو شاہد رہ، یااللہ! تو گواہ رہ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1218]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب نوح علیہ السلام نے ان سے یہ بات کہی تو انھوں نے حضرت نوح علیہ السلام کو بدترین جواب دیا ﴿قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ ان کی قوم کے سرداروں نے کہا۔ یعنی سرداروں اور دولت مند راہنماؤں نے کہا، حق کے سامنے تکبر کرنا اور انبیا و مرسلین کی اطاعت نہ کرنا، ہمیشہ سے ان کی عادت رہی ہے ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰ٘لٍ مُّبِیْنٍ ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا انھوں نے اسی پر بس نہیں کی.... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے..... کہ انھوں نے انبیا و رسل کی اطاعت نہیں کی بلکہ وہ جناب نوح سے تکبر کے ساتھ پیش آئے اور ان کی عیب چینی کی اور ان کو گمراہی سے منسوب کیا پھر انھوں نے آں جناب کو مجرد گمراہ کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسی گمراہی سے منسوب کیا جو ہر ایک پر واضح ہوتی ہے۔ یہ انکار حق اور عناد کی بدترین قسم ہے جو کمزور لوگوں میں عقل و فہم نہیں چھوڑتی یہ وصف تو قوم نوح پر منطبق ہوتا ہے جو بتوں کو خدا مانتے ہیں جن کو انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے پتھروں کو تراش کر بنایا ہے۔ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کے کوئی کام آسکتے ہیں۔ انھوں نے ان خداؤں کو وہی مقام دے دیا جو اس کائنات کو پیدا کرنے والے کا مقام ہے اور ان کے تقرب کے حصول کی خاطر مختلف عبادات ان کے لیے مقرر کر دیں۔ اگر ان کا ذہن نہ ہوتا جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوتی ہے تو ان کے بارے میں یہی فیصلہ ہوتا کہ فاتر العقل لوگ ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں بلکہ ان سے زیادہ عقل مند ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما قال لهم هذه المقالة؛ ردُّوا عليه أقبح ردٍّ، فقال {الملأ من قومِهِ}؛ أي: الرؤساء الأغنياء المتبوعون، الذين قد جرت العادة باستكبارهم على الحقِّ وعدم انقيادهم للرسل: {إنا لنراك في ضلال مبين}: فلم يكفِهِم قبَّحَهُمُ اللهُ أنهم لم ينقادوا له، بل استكبروا عن الانقياد له، وقدحوا فيه أعظم قدح، ونسبوه إلى الضلال، ولم يكتفوا بمجرَّد الضلال، حتَّى جعلوه ضلالاً مبيناً واضحاً لكلِّ أحدٍ!! وهذا من أعظم أنواع المكابرة، التي لا تروج على أضعف الناس عقلاً، وإنَّما هذا الوصف منطبقٌ على قوم نوح، الذين جاؤوا إلى أصنام قد صوَّروها ونحتوها بأيديهم من الجمادات التي لا تسمع ولا تبصِرُ ولا تغني عنهم شيئاً، فنزَّلوها منزلة فاطر السماوات، وصرفوا لها ما أمكنهم من أنواع القُرُبات، فلولا أنَّ لهم أذهاناً تقوم بها حُجَّة الله عليهم؛ لَحُكِمَ عليهم بأن المجانين أهدى منهم، بل هم أهدى منهم وأعقل.