ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 51

الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمۡ لَہۡوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ۚ فَالۡیَوۡمَ نَنۡسٰہُمۡ کَمَا نَسُوۡا لِقَآءَ یَوۡمِہِمۡ ہٰذَا ۙ وَ مَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۵۱﴾
وہ جنھوں نے اپنے دین کو دل لگی اور کھیل بنا لیا اور انھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا تو آج ہم انھیں بھلا دیں گے، جیسے وہ اپنے اس دن کی ملاقات کو بھول گئے اور جیسے وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔
جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے
جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہو ولعب بنا رکھا تھا اور جن کو دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔ سو ہم (بھی) آج کے روز ان کا نام بھول جائیں گے جیسا کہ وه اس دن کو بھول گئے اور جیسا یہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) ➊ {فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ ……:} آیت کے شروع میں کافروں کی علامات بیان کی گئی ہیں جنھوں نے اپنے دین کو دل لگی اور کھیل بنا لیا اور انھیں دنیوی زندگی کی فراوانی اور خوشحالی نے آخرت کے بارے میں دھوکے میں رکھا اور انھوں نے آخرت کو بھلا دیا اور اسی نسیان کے نتیجے میں انھیں نظر انداز کر دیا گیا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ بندے سے ملے گا اور فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے یہ نہیں کیا کہ تجھے عزت بخشی؟ تجھے سردار بنایا؟ تیری شادی کی؟ تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ تابع کر دیے اور تجھے کھلا چھوڑ دیا کہ لوگوں کا سردار بنے اور ان کی آمدنی کا چوتھا حصہ ٹیکس لے؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: تو تو نے یقین کیا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں! اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: پھر میں بھی تجھے بھلا رہا ہوں جیسے تو نے مجھے بھلا دیا۔ [مسلم، الزہد والرقائق، باب الدنیا سجن المؤمن وجنۃ الکافر: ۲۹۲۸، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] یہاں نسیان کا معنی چھوڑ دینا ہے، کیونکہ اﷲ تعالیٰ تو بھولتا ہی نہیں، فرمایا: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى» [طٰہٰ: ۵۲] میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ یعنی اﷲ تعالیٰ انھیں جہنم میں ڈال کر ان کی کوئی خبر نہیں لیں گے۔ یہاں بھلانے کے بدلے کو بھلانا فرمایا ہے، یعنی خواہ کتنا ہی پکاریں ان پر رحم نہیں کیا جائے گا۔
➋ { كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هٰذَا:} معلوم ہوا کہ دین کو لہو و لعب بنانے والے اور آیاتِ الٰہی کا انکار کرنے والے وہی ہوتے ہیں جو آخرت اور اﷲ تعالیٰ کی ملاقات کو بھول جاتے ہیں اور دنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اس قسم کے بندے سے پوچھے گا کیا میں نے تمہیں بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ تمہیں عزت اور اکرام سے نہیں نوازا تھا اور کیا اونٹ اور گھوڑے تیرے تابع نہیں کردیئے تھے؟ کیا تو سرداری کرتے ہوئے لوگوں سے چونگی وصول نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا کیوں نہیں؟ یا اللہ یہ سب باتیں صحیح ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا، کیا تو میری ملاقات کا یقین رکھتا تھا؟ وہ کہے گا نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا ' پس جس طرح تو مجھے بھولا رہا آج میں بھی تمہیں بھول جاتا ہوں (صحیح مسلم) قرآن کریم کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین کو لہو و لعب بنانے والے وہی ہوتے ہیں جو دنیا کے فریب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں سے چونکہ آخرت کی فکر اور اللہ کا خوف نکل جاتا ہے۔ اس لئے وہ دین میں بھی اپنی طرف سے جو چاہتے ہیں اضافہ کرلیتے ہیں احکام اور فرائض پر عمل کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ لہذا آج ہم انہیں ایسے ہی بھلا دیں گے جیسے انہوں نے اس ملاقات [50] کے دن کو بھلا رکھا تھا اور ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے
[50] کھیل تماشا ہی کو اپنا دین سمجھنے والے:۔
جو انسان روز آخرت پر اور اللہ کے سامنے جواب دہی پر ایمان نہیں رکھتا اس کی زندگی ایمان رکھنے والوں سے یکسر مختلف ہوتی ہے اس کی زندگی کا منتہائے مقصود صرف یہ رہ جاتا ہے کہ دنیا میں جس قدر عیش و عشرت کر سکتا ہے کر لے، جس جائز یا ناجائز طریقے سے مال آتا ہے آئے۔ ان کی نظروں میں یہ دنیا بس ایک تفریح گاہ رہ جاتی ہے جس میں ہر شخص کو اپنی حیثیت کے مطابق عیش و عشرت اور سیر و تفریح کر کے اس دنیا سے رخصت ہونا چاہیے۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں سے سلوک بھی ان کے نظریہ کے مطابق کیا جائے گا۔ انہوں نے روز آخرت کو اور اللہ کے سامنے جوابدہی کو بھلایا تو اللہ بھی انہیں ایسے ہی بھلا دے گا وہ آگ میں جل رہے ہوں تو جلتے رہیں بھوکے پیاسے ہیں تو بھوکے پیاسے ہی رہیں انہیں نہ کچھ کھانے کو ملے گا نہ پینے کو۔ تاکہ دنیا میں جو عیاشیاں کر چکے ہیں ان کا رد عمل بھی دیکھ لیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جیسی کرنی ویسی بھرنی ٭٭
دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے، کنبے والے جیسے باپ، بیٹے، بھائی، بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔ وہ بحکم الٰہی انہیں جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ کفار پر حرام ہے۔
{ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ کس چیز کا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل خیرات پانی ہے۔ دیکھو جہنمی اہل جنت سے اسی کا سوال کریں گے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:2673:اسنادہ فیه جهالة]‏‏‏‏
مروی ہے کہ { جب ابوطالب موت کی بیماری میں مبتلا ہوا تو قریشیوں نے اس سے کہا: کسی کو بھیج کر اپنے بھتیجے سے کہلواؤ کہ وہ تمہارے پاس جنتی انگور کا ایک خوشہ بھجوا دے تاکہ تیری بیماری جاتی رہے۔ جس وقت قاصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے۔ سنتے ہی فرمانے لگے: اللہ نے جنت کی کھانے پینے کی چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:166/3:مرسل]‏‏‏‏
پھر ان کی بدکرداری بیان فرمائی کہ یہ لوگ دین حق کو ایک ہنسی کھیل سمجھے ہوئے تھے۔ دنیا کی زینت اور اس کے بناؤ چناؤ میں ہی عمر بھر مشغول رہے۔ یہ چونکہ اس دن کو بھول بسر گئے تھے۔ اس کے بدلے ہم بھی ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے جو کسی بھول جانے والے کا معاملہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھولنے سے پاک ہے، اس کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی۔ فرماتا ہے: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى» ۱؎ [20-طه:52]‏‏‏‏ ’ نہ وہ بہکے، نہ بھولے۔ ‘
یہاں جو فرمایا: یہ صرف مقابلہ کیلئے ہے۔ جیسے فرمان ہے: «نَسُوا اللَّـهَ فَنَسِيَهُمْ» ۱؎ [9-التوبة:67]‏‏‏‏
اور جیسے دوسری آیت میں ہے «قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى» ۱؎ [20-طه:126]‏‏‏‏
فرمان ہے «وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا» ۱؎ [45-الجاثية:34]‏‏‏‏ ’ تیرے پاس ہماری نشانیاں آئی تھیں جنہیں تو بھلا بیٹھا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ ‘ وغیرہ۔
پس یہ بھلائیوں سے بالقصد بھلا دیئے جائیں گے۔ ہاں برائیاں اور عذاب برابر ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلایا، ہم نے انہیں آگ میں چھوڑا، رحمت سے دور کیا جیسے یہ عمل سے دور تھے۔
صحیح حدیث میں ہے: { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ یا عزت آبرو نہیں دی تھی؟ کیا گھوڑے اور اونٹ تیرے مطیع نہیں کئے تھے؟ اور کیا تجھے قسم قسم کی راحتوں میں آزاد نہیں رکھا تھا؟ بندہ جواب دے گا کہ ہاں پروردگار! بیشک تو نے ایسا ہی کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر کیا تو میری ملاقات پر ایمان رکھتا تھا؟ وہ جواب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پس میں بھی آج تجھے ایسا ہی بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھول گیا تھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2968]‏‏‏‏