یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿٪۳۱﴾
اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو اور کھائو اور پیو اور حد سے نہ گزرو، بے شک وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
اے اوﻻد آدم! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو۔ اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو۔ بےشک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 31) ➊ {خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ ……: } زینت سے مراد لباس ہے، یعنی طواف اور نماز میں پردے کی چیزوں کو چھپانا فرض ہے، مرد کے لیے کمر سے گھٹنوں تک (اور نماز میں اس کے ساتھ کندھے پر کچھ لباس کا ہونا) اور عورت کے لیے چہرہ اور ہاتھوں کے سوا سارا بدن۔ باریک کپڑا جس سے بدن اور بال نظر آئیں معتبر نہیں، یعنی نہ ہونے کے برابر ہے۔ (موضح) البتہ جمعہ کے دن خاص طور پر غسل، خوش بو اور اپنے بہترین لباس پہننے کا حکم دیا۔ جمعہ مسلمانوں کی ہفتہ وار عید ہے۔ عید الفطر اور عید الاضحیٰ سالانہ عیدیں ہیں، ان میں تو بدرجہ اولیٰ اس کا اہتمام ہونا چاہیے۔
➋ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورت بیت اﷲ کا طواف ننگی ہو کر کرتی تھی اور کہتی کہ کون مجھے طواف کے لیے کپڑا دے گا، اس کو وہ شرم گاہ پر ڈال لیتی اور کہتی:
{اَلْيَوْمَ يَبْدُوْ بَعْضُهٗ أَوْ كُلُّهٗ}
{وَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا اُحِلُّهٗ}
”آج اس کا کچھ حصہ یا سارے کا سارا ظاہر ہو جائے گا اور اس میں سے جو ظاہر ہو گا میں اسے (دیکھنا کسی کے لیے) حلال قرار نہیں دیتی۔“ [مسلم، التفسیر، باب فی قولہ تعالٰی: «خذوا زينتكم عند كل مسجد» : ۳۰۲۸] کئی مرد بھی ننگے طواف کرتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس حج (یعنی۹ ہجری) میں، جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے پہلے ان کو امیر بنا کر بھیجا تھا، مجھے قربانی کے دن چند آدمیوں کے ہمراہ بھیجا کہ میں لوگوں میں اعلان کر دوں کہ اس سال کے بعد نہ کوئی مشرک حج کرے گا اور نہ کوئی شخص ننگا ہو کر طواف کرے گا۔ [بخاری، الحج، باب لا یطوف بالبیت عریان……: ۱۶۲۲]
➌ {وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا:} جب اوپر کی آیت میں قسط (عدل و انصاف) کا حکم دیا، تو دوسری چیزوں کے ساتھ لباس اور کھانے پینے میں بھی ” قسط“ کا حکم ہو گیا، اس لیے ان میں بھی اسراف سے منع فرما دیا۔ (کبیر) اسراف یہ ہے کہ آدمی حلال کو حرام ٹھہرا لے، جیسا کہ مشرکین کرتے تھے، یا اہل تصوف کرتے ہیں، یا حلال سے تجاوز کر کے حرام کھائے یا حرام کام میں خرچ کرے کہ یہ تھوڑا بھی اسراف ہے۔ اسراف، یعنی حد سے نکلنا کسی بھی چیز میں ناپسندیدہ ہے، خصوصاً کھانے پینے میں بے احتیاطی تو اکثر بیماریوں کی جڑ اور دنیا و آخرت دونوں میں نقصان دہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، پیو، پہنو اور صدقہ کرو بغیر اسراف کے اور بغیر تکبر کے۔“ [بخاری، اللباس، باب قول اﷲ تعالٰی: { قل من حرم زينة اﷲ التي……} قبل ح: ۵۷۸۳، تعلیقًا] جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ سے ایک لمبی حدیث مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اپنی تہ بند پنڈلی تک اٹھاؤ، اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اور تہ بند لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر میں سے ہے اور اﷲ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ [أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء فی إسبال الأزار: ۴۰۸۴۔ ترمذی: ۱۷۸۳ و صححہ الألبانی] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ـ ”جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا کھینچے اﷲ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔“ [بخاری، اللباس، باب قول اﷲ تعالٰی: { قل من حرم زينة اﷲ التي……:} ۵۷۸۳، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما] معلوم ہوا صرف تہ بند ہی نہیں کوئی بھی کپڑا جان بوجھ کر ٹخنوں سے نیچے لٹکانا تکبر اور حرام ہے، بے اختیار یا بے دھیانی میں لٹک جائے تو الگ بات ہے۔
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ابن آدم نے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا، ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں، اگر ضرور ہی کھانا ہے تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے ہے۔“ [أحمد: 132/4، ح: ۱۷۱۹۱۔ ترمذی: ۲۳۸۰، صحیح] ہاں کبھی کبھار یا زیادہ دیر کا بھوکا ہو تو زیادہ کھا سکتا ہے، جیسا کہ احادیث سے بعض مواقع پر ثابت ہے۔
➋ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورت بیت اﷲ کا طواف ننگی ہو کر کرتی تھی اور کہتی کہ کون مجھے طواف کے لیے کپڑا دے گا، اس کو وہ شرم گاہ پر ڈال لیتی اور کہتی:
{اَلْيَوْمَ يَبْدُوْ بَعْضُهٗ أَوْ كُلُّهٗ}
{وَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا اُحِلُّهٗ}
”آج اس کا کچھ حصہ یا سارے کا سارا ظاہر ہو جائے گا اور اس میں سے جو ظاہر ہو گا میں اسے (دیکھنا کسی کے لیے) حلال قرار نہیں دیتی۔“ [مسلم، التفسیر، باب فی قولہ تعالٰی: «خذوا زينتكم عند كل مسجد» : ۳۰۲۸] کئی مرد بھی ننگے طواف کرتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس حج (یعنی۹ ہجری) میں، جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے پہلے ان کو امیر بنا کر بھیجا تھا، مجھے قربانی کے دن چند آدمیوں کے ہمراہ بھیجا کہ میں لوگوں میں اعلان کر دوں کہ اس سال کے بعد نہ کوئی مشرک حج کرے گا اور نہ کوئی شخص ننگا ہو کر طواف کرے گا۔ [بخاری، الحج، باب لا یطوف بالبیت عریان……: ۱۶۲۲]
➌ {وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا:} جب اوپر کی آیت میں قسط (عدل و انصاف) کا حکم دیا، تو دوسری چیزوں کے ساتھ لباس اور کھانے پینے میں بھی ” قسط“ کا حکم ہو گیا، اس لیے ان میں بھی اسراف سے منع فرما دیا۔ (کبیر) اسراف یہ ہے کہ آدمی حلال کو حرام ٹھہرا لے، جیسا کہ مشرکین کرتے تھے، یا اہل تصوف کرتے ہیں، یا حلال سے تجاوز کر کے حرام کھائے یا حرام کام میں خرچ کرے کہ یہ تھوڑا بھی اسراف ہے۔ اسراف، یعنی حد سے نکلنا کسی بھی چیز میں ناپسندیدہ ہے، خصوصاً کھانے پینے میں بے احتیاطی تو اکثر بیماریوں کی جڑ اور دنیا و آخرت دونوں میں نقصان دہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، پیو، پہنو اور صدقہ کرو بغیر اسراف کے اور بغیر تکبر کے۔“ [بخاری، اللباس، باب قول اﷲ تعالٰی: { قل من حرم زينة اﷲ التي……} قبل ح: ۵۷۸۳، تعلیقًا] جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ سے ایک لمبی حدیث مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اپنی تہ بند پنڈلی تک اٹھاؤ، اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اور تہ بند لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر میں سے ہے اور اﷲ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ [أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء فی إسبال الأزار: ۴۰۸۴۔ ترمذی: ۱۷۸۳ و صححہ الألبانی] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ـ ”جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا کھینچے اﷲ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔“ [بخاری، اللباس، باب قول اﷲ تعالٰی: { قل من حرم زينة اﷲ التي……:} ۵۷۸۳، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما] معلوم ہوا صرف تہ بند ہی نہیں کوئی بھی کپڑا جان بوجھ کر ٹخنوں سے نیچے لٹکانا تکبر اور حرام ہے، بے اختیار یا بے دھیانی میں لٹک جائے تو الگ بات ہے۔
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ابن آدم نے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا، ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں، اگر ضرور ہی کھانا ہے تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے ہے۔“ [أحمد: 132/4، ح: ۱۷۱۹۱۔ ترمذی: ۲۳۸۰، صحیح] ہاں کبھی کبھار یا زیادہ دیر کا بھوکا ہو تو زیادہ کھا سکتا ہے، جیسا کہ احادیث سے بعض مواقع پر ثابت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
31۔ 1 آیت میں زینت سے مراد لباس ہے۔ اس کا سبب نزول بھی مشرکین کے ننگے طواف سے متعلق ہے۔ اس لئے انہیں کہا گیا ہے کہ لباس پہن کر اللہ کی عبادت کرو اور طواف کرو۔ 31۔ 2 اِسْرَافُ، (حد سے نکل جانا) کسی چیز میں حتیٰ کے کھانے پینے میں بھی ناپسندیدہ ہے، ایک حدیث میں نبی نے فرمایا ' جو چاہو کھاؤ اور جو چاہے پیو جو چاہے پہنو البتہ دو باتوں سے گریز کرو۔ اسراف اور تکبر سے (صحیح مسلم، صحیح بخاری)، بعض سلف کا قول ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے (وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ) 7۔ الاعراف:31) اس آدھی آیت میں ساری طب جمع فرما دی ہے (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں زینت سے وہ لباس مراد ہے جو آرائش کے لیے پہنا جائے۔ جس سے ان کے نزدیک نماز اور طواف کے وقت تزئین کا حکم نکلتا ہے۔ اس آیت سے نماز میں ستر عورت کے وجوب پر بھی استدلال کیا گیا ہے بلکہ احادیث کی رو سے ستر عورت گھٹنوں سے لے کر ناف تک کے حصے کو ڈھانپنا ہر حال میں ضروری ہے چاہے آدمی خلوت میں ہی ہو۔ (فتح القدیر) جمعہ اور عیدین کے دن خوشبو کا استعمال بھی مستحب ہے کہ یہ بھی زینت کا ایک حصہ ہے۔ (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
31۔ اے بنی آدم! جب بھی کسی مسجد میں جاؤ تو آراستہ [29] ہو کر جاؤ اور کھاؤ، پیو لیکن اسراف [30] نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
[29] نمازی کے لباس میں کتنے کپڑے ہوں:۔
یہاں زینت سے مراد لباس ہے اور یہ لباس صاف ستھرا اور پاکیزہ ہونا چاہیے تاکہ زینت کا باعث ہو اس لباس میں کون کون سا کپڑا شامل ہونا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔ عمرو بن ابی سلمہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صرف) ایک کپڑے میں نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمتوں میں کندھوں پر ڈال لیا تھا۔ [بخاري۔ كتاب الصلوٰة، باب عقد الازار على القفا فى الصلوة]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کچھ نہ ہو۔“ [بخاري۔ كتاب الصلوة، باب إذا صلى فى الثوب الواحد فليجعل على عاتقيه]
3۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ سیدۃ عائشہؓ کے پاس ایک پردہ تھا جسے انہوں نے اپنے گھر میں ایک طرف لٹکایا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ پردہ دیکھ کر) فرمایا: ”یہ اپنا پردہ یہاں سے ہٹا لو اس کی تصویریں میری نماز میں حارج ہوتی ہیں۔“ [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب ان صلى فى ثوب مصلب او تصاوير]
4۔ ابو مسلمہ سعید بن یزید ازدی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالکؓ سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیتے تھے؟“ سیدنا انسؓ نے کہا: ”ہاں۔“ [بخاري، كتاب الصلوة، باب الصلوة فى النعال]
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
1۔ کم از کم ایک کپڑے میں بھی نماز ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ اتنا بڑا ہو کہ مخالف سمتوں میں کندھوں پر ڈالنے کے بعد بھی دونوں طرف پنڈلیوں تک بدن ڈھانپ سکتا ہو۔
2۔ دونوں کندھوں پر کپڑا ہونا ضروری ہے، سر پر کوئی کپڑا ہونا ضروری نہیں ہے۔
3۔ کوئی کپڑا ایسے نقش و نگار والا یا تصویروں والا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی طرف سے توجہ ہٹا کر اپنی طرف مبذول کر لے۔
4۔ زیادہ کپڑوں کی کوئی حد نہیں، پگڑی یا ٹوپی وغیرہ کا تو ذکر کیا، جوتوں سمیت بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے بشرطیکہ اس کا تلا صاف ستھرا ہو اور جوتوں سمیت نماز گھروں میں بھی پڑھی جا سکتی ہے اور مساجد میں بھی جیسا کہ بالخصوص نیا جوتا پہنتے وقت شکرانہ کے نوافل پڑھے جاتے ہیں۔ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسے واضح احکام کے باوجود بعض لوگوں نے ننگے سر نماز پڑھنے کو وجہ نزاع بنا لیا ہے ایک فریق اس انتہا کو چلا گیا کہ ننگے سر نماز ہوتی ہی نہیں اور دوسرا فریق دوسری انتہا کو چلا گیا اس نے اس مسئلے کو محض جواز تک محدود نہ رکھا بلکہ اسے اپنا شعار بنا لیا۔ پہلے فریق کی غلط روش تو واضح ہے کیونکہ حالت احرام میں ساری نمازیں اور طواف وغیرہ بھی ننگے سر ہی ادا ہوتے ہیں اگر ننگے سر نماز ہو ہی نہیں سکتی تو حالت احرام میں یقیناً سر پر کوئی کپڑا رکھنے کی تاکید کر دی جاتی۔ جیسا کہ عورتوں کے لیے ایسا ہی حکم ہے رہا دوسرا فریق تو اس کی وجہ استدلال درج ذیل حدیث ہے
1۔ عمرو بن ابی سلمہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صرف) ایک کپڑے میں نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمتوں میں کندھوں پر ڈال لیا تھا۔ [بخاري۔ كتاب الصلوٰة، باب عقد الازار على القفا فى الصلوة]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کچھ نہ ہو۔“ [بخاري۔ كتاب الصلوة، باب إذا صلى فى الثوب الواحد فليجعل على عاتقيه]
3۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ سیدۃ عائشہؓ کے پاس ایک پردہ تھا جسے انہوں نے اپنے گھر میں ایک طرف لٹکایا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ پردہ دیکھ کر) فرمایا: ”یہ اپنا پردہ یہاں سے ہٹا لو اس کی تصویریں میری نماز میں حارج ہوتی ہیں۔“ [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب ان صلى فى ثوب مصلب او تصاوير]
4۔ ابو مسلمہ سعید بن یزید ازدی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالکؓ سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیتے تھے؟“ سیدنا انسؓ نے کہا: ”ہاں۔“ [بخاري، كتاب الصلوة، باب الصلوة فى النعال]
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
1۔ کم از کم ایک کپڑے میں بھی نماز ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ اتنا بڑا ہو کہ مخالف سمتوں میں کندھوں پر ڈالنے کے بعد بھی دونوں طرف پنڈلیوں تک بدن ڈھانپ سکتا ہو۔
2۔ دونوں کندھوں پر کپڑا ہونا ضروری ہے، سر پر کوئی کپڑا ہونا ضروری نہیں ہے۔
3۔ کوئی کپڑا ایسے نقش و نگار والا یا تصویروں والا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی طرف سے توجہ ہٹا کر اپنی طرف مبذول کر لے۔
4۔ زیادہ کپڑوں کی کوئی حد نہیں، پگڑی یا ٹوپی وغیرہ کا تو ذکر کیا، جوتوں سمیت بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے بشرطیکہ اس کا تلا صاف ستھرا ہو اور جوتوں سمیت نماز گھروں میں بھی پڑھی جا سکتی ہے اور مساجد میں بھی جیسا کہ بالخصوص نیا جوتا پہنتے وقت شکرانہ کے نوافل پڑھے جاتے ہیں۔ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسے واضح احکام کے باوجود بعض لوگوں نے ننگے سر نماز پڑھنے کو وجہ نزاع بنا لیا ہے ایک فریق اس انتہا کو چلا گیا کہ ننگے سر نماز ہوتی ہی نہیں اور دوسرا فریق دوسری انتہا کو چلا گیا اس نے اس مسئلے کو محض جواز تک محدود نہ رکھا بلکہ اسے اپنا شعار بنا لیا۔ پہلے فریق کی غلط روش تو واضح ہے کیونکہ حالت احرام میں ساری نمازیں اور طواف وغیرہ بھی ننگے سر ہی ادا ہوتے ہیں اگر ننگے سر نماز ہو ہی نہیں سکتی تو حالت احرام میں یقیناً سر پر کوئی کپڑا رکھنے کی تاکید کر دی جاتی۔ جیسا کہ عورتوں کے لیے ایسا ہی حکم ہے رہا دوسرا فریق تو اس کی وجہ استدلال درج ذیل حدیث ہے
ننگے سر نماز کا مسئلہ:
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ ”جابرؓ (بن عبد اللہ) نے ایک تہبند میں نماز پڑھی جسے اپنی گدی پر باندھ لیا اور ان کے کپڑے تپائی پر رکھے ہوئے تھے کسی (عبادہ بن ولید) نے ان سے کہا تم (کپڑے ہوتے ہوئے) ایک تہبند میں نماز پڑھتے ہو؟“ جابرؓ کہنے لگے: ”یہ اس لیے کہ تیرے جیسا بے وقوف مجھے دیکھ لے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم لوگوں میں سے کس کے پاس دو کپڑے تھے؟“ [بخاري۔ كتاب الصلوة، باب عقد الازار على القفا فى الصلوة]
اس حدیث سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
1۔ سیدنا جابر بن عبد اللہؓ جنہوں نے کپڑے پاس ہوتے ہوئے صرف ایک کپڑے میں (یعنی ننگے سر) نماز ادا کی، ان کا یہ روزمرہ کا معمول نہیں تھا۔ ورنہ سائل کو ایسا سوال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
2۔ سیدنا جابرؓ نے یہ کام عمداً اس لیے کیا کہ ناواقف لوگوں پر واضح ہو جائے کہ صرف ایک کپڑے میں بھی نماز جائز ہے اگرچہ سر ننگا ہی رہے۔
3۔ سیدنا جابرؓ نے اس کی وجہ بھی بتا دی کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اکثر لوگوں کے پاس دو کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے۔ ان تصریحات کا ماحصل یہ ہے کہ جواز کی حد تک ننگے سر نماز ادا کرنے میں نہ کوئی کلام ہے اور نہ قباحت لیکن اگر ٹوپی یا عمامہ وغیرہ موجود ہو تو اسے پہننا ہی افضل ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا معمول تھا کیونکہ سر ڈھانپنا بھی زینت کا ایک حصہ ہے، لہٰذا ننگے سر نماز پڑھنا شعار نہ بنا لیا جائے۔ ہاں کپڑوں کی موجودگی میں بھی کبھی کبھار کسی ضرورت یا مصلحت کی غرض سے ننگے سر نماز ادا کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
اس حدیث سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
1۔ سیدنا جابر بن عبد اللہؓ جنہوں نے کپڑے پاس ہوتے ہوئے صرف ایک کپڑے میں (یعنی ننگے سر) نماز ادا کی، ان کا یہ روزمرہ کا معمول نہیں تھا۔ ورنہ سائل کو ایسا سوال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
2۔ سیدنا جابرؓ نے یہ کام عمداً اس لیے کیا کہ ناواقف لوگوں پر واضح ہو جائے کہ صرف ایک کپڑے میں بھی نماز جائز ہے اگرچہ سر ننگا ہی رہے۔
3۔ سیدنا جابرؓ نے اس کی وجہ بھی بتا دی کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اکثر لوگوں کے پاس دو کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے۔ ان تصریحات کا ماحصل یہ ہے کہ جواز کی حد تک ننگے سر نماز ادا کرنے میں نہ کوئی کلام ہے اور نہ قباحت لیکن اگر ٹوپی یا عمامہ وغیرہ موجود ہو تو اسے پہننا ہی افضل ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا معمول تھا کیونکہ سر ڈھانپنا بھی زینت کا ایک حصہ ہے، لہٰذا ننگے سر نماز پڑھنا شعار نہ بنا لیا جائے۔ ہاں کپڑوں کی موجودگی میں بھی کبھی کبھار کسی ضرورت یا مصلحت کی غرض سے ننگے سر نماز ادا کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
[30] کھانے پینے میں اسراف کا نقصان:۔
بعض اطباء کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مختصر سے جملہ میں طب کا آدھا علم بیان فرما دیا ہے کیونکہ اکثر امراض خوراک کی زیادتی یا اس میں بے احتیاطی ہی سے پیدا ہوتی ہیں۔ اسراف کا مطلب بسیار خوری بھی ہو سکتا ہے۔ وقت بے وقت کھانا اور بد پرہیزی بھی۔ یہ تو اسراف کے طبعی نقصانات ہیں اور جو اخلاقی نقصانات ہیں وہ اس سے بھی زیادہ ہیں مثلاً جو انسان اپنے ہی کھانے پینے کی فکر رکھے گا دوسروں سے احسان کرنا تو درکنار وہ دوسروں کے جائز حقوق بھی ادا کرنے کے قابل نہ رہے گا۔ پھر مال کے ضیاع سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شدت سے منع فرمایا ہے اور اس کے نتائج بڑے دور رس ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
برہنہ ہو کر طواف ممنوع قرار دے دیا گیا ٭٭
اس آیت میں مشرکین کا رد ہے۔ وہ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے جیسے کہ پہلے گزرا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ { ننگے مرد دن کو طواف کرتے اور ننگی عورتیں رات کو، اس وقت عورتیں کہا کرتی تھیں کہ آج اس کے خاص جسم کا کل حصہ یا کچھ حصہ گو ظاہر ہو لیکن کسی کو وہ اس کا دیکھنا جائز نہیں کرتیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3028]
پس اس کے برخلاف مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے کہ اپنا لباس پہن کر مسجدوں میں جائیں، اللہ تعالیٰ زینت کے لینے کا حکم دیتا ہے اور زینت سے مراد لباس ہے اور لباس وہ ہے جو اعضاء مخصوصہ کو چھپا لے اور جو اس کے سوا ہو مثلاً اچھا کپڑا وغیرہ۔
ایک حدیث میں ہے کہ { یہ آیت جوتیوں سمیت نماز پڑھنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:146/3:ضعیف] لیکن ہے یہ غور طلب اور اس کی صحت میں بھی کلام ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ آیت اور جو کچھ اس کے معنی میں سنت میں وارد ہے، اس سے نماز کے وقت زینت کرنا مستحب ثابت ہوتا ہے۔ خصوصاً جمعہ اور عید کے دن، اور خوشبو لگانا بھی مسنون طریقہ ہے۔ اس لیے کہ وہ زینت میں سے ہی ہے اور مسواک کرنا بھی۔ کیونکہ وہ بھی زینت کو پورا کرنے میں داخل ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سب سے افضل لباس سفید کپڑا ہے۔
جیسے کہ مسند احمد کی صحیح حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { سفید کپڑے پہنو، وہ تمہارے تمام کپڑوں سے افضل ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ سب سرموں میں بہتر سرمہ اثمد ہے، وہ نگاہ کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:994،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سنن کی ایک اور حدیث میں ہے: { سفید کپڑوں کو ضروری جانو اور انہیں پہنو، وہ بہت اچھے اور بہت پاک صاف ہیں، انہی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ { ننگے مرد دن کو طواف کرتے اور ننگی عورتیں رات کو، اس وقت عورتیں کہا کرتی تھیں کہ آج اس کے خاص جسم کا کل حصہ یا کچھ حصہ گو ظاہر ہو لیکن کسی کو وہ اس کا دیکھنا جائز نہیں کرتیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3028]
پس اس کے برخلاف مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے کہ اپنا لباس پہن کر مسجدوں میں جائیں، اللہ تعالیٰ زینت کے لینے کا حکم دیتا ہے اور زینت سے مراد لباس ہے اور لباس وہ ہے جو اعضاء مخصوصہ کو چھپا لے اور جو اس کے سوا ہو مثلاً اچھا کپڑا وغیرہ۔
ایک حدیث میں ہے کہ { یہ آیت جوتیوں سمیت نماز پڑھنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:146/3:ضعیف] لیکن ہے یہ غور طلب اور اس کی صحت میں بھی کلام ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ آیت اور جو کچھ اس کے معنی میں سنت میں وارد ہے، اس سے نماز کے وقت زینت کرنا مستحب ثابت ہوتا ہے۔ خصوصاً جمعہ اور عید کے دن، اور خوشبو لگانا بھی مسنون طریقہ ہے۔ اس لیے کہ وہ زینت میں سے ہی ہے اور مسواک کرنا بھی۔ کیونکہ وہ بھی زینت کو پورا کرنے میں داخل ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سب سے افضل لباس سفید کپڑا ہے۔
جیسے کہ مسند احمد کی صحیح حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { سفید کپڑے پہنو، وہ تمہارے تمام کپڑوں سے افضل ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ سب سرموں میں بہتر سرمہ اثمد ہے، وہ نگاہ کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:994،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سنن کی ایک اور حدیث میں ہے: { سفید کپڑوں کو ضروری جانو اور انہیں پہنو، وہ بہت اچھے اور بہت پاک صاف ہیں، انہی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
طبرانی میں مروی ہے کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے ایک چادر ایک ہزار کو خریدی تھی , نمازوں کے وقت اسے پہن لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آدھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام طب کو اور حکمت کو جمع کر دیا . ارشاد ہے: کھاؤ پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ”جو چاہے کھا، جو چاہے پی لیکن دو باتوں سے بچو، اسراف اور تکبر سے۔“
ایک مرفوع حدیث میں ہے: { کھاؤ پیو، پہنو اوڑھو لیکن صدقہ بھی کرتے رہو اور تکبر اور اسراف سے بچتے رہو۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے کے جسم پر دیکھے۔ } ۱؎ [مسند احمد:181/2:حسن]
آپ فرماتے ہیں: { کھاؤ اور پہنو اور صدقہ کرو اور اسراف سے اور خود نمائی سے رکو۔ } ۱؎ [سنن نسائی:2560، قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرماتے ہیں: { انسان اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرتا۔ انسان کو چند لقمے جس سے اس کی پیٹھ سیدھی رہے، کافی ہیں۔ اگر یہ بس میں نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ اپنے پیٹ کے تین حصے کر لے۔ ایک کھانے کے لئے، ایک پانی کے لئے، ایک سانس کے لئے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2380، قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرماتے ہیں: { یہ بھی اسراف ہے کہ تو جو چاہے، کھائے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3352، قال الشيخ الألباني:موضوع] لیکن یہ حدیث غریب ہے۔
مشرکین جہاں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے وہاں زمانہ حج میں چربی کو بھی اپنے اوپر حرام جانتے تھے۔ اللہ نے دونوں باتوں کے خلاف حکم نازل فرمایا۔ یہ بھی اسراف ہے کہ اللہ کے حلال کردہ کھانے کو حرام کر لیا جائے۔ اللہ کی دی ہوئی حلال روزی بیشک انسان کھائے پئے۔ حرام چیز کا کھانا بھی اسراف ہے۔ اللہ کی مقرر کردہ حرام حلال کی حدوں سے گزر نہ جاؤ۔ نہ حرام کو حلال کرو، نہ حلال کو حرام کہو۔ ہر ایک حکم کو اسی کی جگہ پر رکھو۔ ورنہ مسرف اور دشمن رب بن جاؤ گے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ”جو چاہے کھا، جو چاہے پی لیکن دو باتوں سے بچو، اسراف اور تکبر سے۔“
ایک مرفوع حدیث میں ہے: { کھاؤ پیو، پہنو اوڑھو لیکن صدقہ بھی کرتے رہو اور تکبر اور اسراف سے بچتے رہو۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے کے جسم پر دیکھے۔ } ۱؎ [مسند احمد:181/2:حسن]
آپ فرماتے ہیں: { کھاؤ اور پہنو اور صدقہ کرو اور اسراف سے اور خود نمائی سے رکو۔ } ۱؎ [سنن نسائی:2560، قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرماتے ہیں: { انسان اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرتا۔ انسان کو چند لقمے جس سے اس کی پیٹھ سیدھی رہے، کافی ہیں۔ اگر یہ بس میں نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ اپنے پیٹ کے تین حصے کر لے۔ ایک کھانے کے لئے، ایک پانی کے لئے، ایک سانس کے لئے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2380، قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرماتے ہیں: { یہ بھی اسراف ہے کہ تو جو چاہے، کھائے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3352، قال الشيخ الألباني:موضوع] لیکن یہ حدیث غریب ہے۔
مشرکین جہاں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے وہاں زمانہ حج میں چربی کو بھی اپنے اوپر حرام جانتے تھے۔ اللہ نے دونوں باتوں کے خلاف حکم نازل فرمایا۔ یہ بھی اسراف ہے کہ اللہ کے حلال کردہ کھانے کو حرام کر لیا جائے۔ اللہ کی دی ہوئی حلال روزی بیشک انسان کھائے پئے۔ حرام چیز کا کھانا بھی اسراف ہے۔ اللہ کی مقرر کردہ حرام حلال کی حدوں سے گزر نہ جاؤ۔ نہ حرام کو حلال کرو، نہ حلال کو حرام کہو۔ ہر ایک حکم کو اسی کی جگہ پر رکھو۔ ورنہ مسرف اور دشمن رب بن جاؤ گے۔