ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 205

وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفۡسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً وَّ دُوۡنَ الۡجَہۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ وَ لَا تَکُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۲۰۵﴾
اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی سے اور خوف سے اور بلند آواز کے بغیر الفاظ سے صبح و شام یاد کر اور غافلوں سے نہ ہو۔
اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح وشام یاد کرتے رہو اور (دیکھنا) غافل نہ ہونا
اور اے شخص! اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ صبح اور شام اور اہل غفلت میں سے مت ہونا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 205) {وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ …: بِالْغُدُوِّ } سے مراد فجرسے لے کر سورج طلوع ہونے تک کا وقت ہے اور { الْاٰصَالِ } {اَصِيْلٌ} کی جمع ہے، جیسے {اَيْمَانٌ يَمِيْنٌ} کی جمع ہے، اس سے مراد عصر سے لے کر مغرب تک کا وقت ہے۔ ان اوقات میں دل کی حاضری کے ساتھ اللہ کا ذکر غفلت دور کرنے میں بے حد مفید ہے۔ بعض اوقات صبح و شام بول کر ہر وقت بھی مراد لیا جاتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی تاکید اور اس کے آداب بیان ہوئے ہیں: (1) { فِيْ نَفْسِكَ } ذکر دل کے ساتھ کرے، صرف زبان چل رہی ہو اور دل حاضر نہ ہو تو خاص فائدہ نہیں۔ (2) { تَضَرُّعًا } ذکر خوب عاجزی کے ساتھ اور گڑ گڑا کر کیا جائے۔ (3) { خِيْفَةً } اللہ کا خوف دل پر طاری ہو اور اپنی عملی کوتاہی اور اللہ تعالیٰ کی گرفت کا ڈر ہو۔ (4) { دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ } اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ آواز کے بغیر ہو، کیونکہ یہ اخلاص سے قریب اور ریا سے دور ہے۔ دوسرا یہ کہ ذکر اور قرآن کی تلاوت نہ بالکل آہستہ ہو نہ بہت بلند آواز سے، بلکہ درمیانی آواز کے ساتھ پڑھا جائے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۱۰) اور جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ تہجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز کچھ بلند کرنے اور عمر رضی اللہ عنہ کو کچھ پست کرنے کا حکم دیا تھا۔ [أبوداوٗد، التطوع، باب فی رفع الصوت…: ۱۳۲۹] دونوں صورتوں میں دل کی حاضری کے ساتھ زبان سے الفاظ کا ادا ہونا بھی ضروری ہے، صرف دل میں ذکر کو فکر کہتے ہیں، ذکر نہیں۔ اگر کوئی شخص نماز صرف دل سے پڑھتا جائے، زبان سے الفاظ ادا نہ کرے تو اس کی نماز نہیں ہو گی۔ (5) { وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ } ذکر ہر وقت جاری رہے، خصوصاً صبح و شام کے اوقات میں اور کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

205۔ اور (اے نبی) اپنے پروردگار کو صبح و شام [203] دل ہی دل میں عاجزی، خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز سے یاد کیا کیجئے اور ان لوگوں سے نہ ہو جائیے جو غفلت [204] میں پڑے ہوئے ہیں
[203] تلاوت قرآن کے آداب:۔
صبح و شام سے مراد یہ دونوں مخصوص وقت بھی ہو سکتے ہیں اور صبح و شام کی نمازیں بھی اور صبح و شام بطور محاورہ استعمال ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہر وقت اللہ کو یاد کرتے رہنا یا دل میں اس کی یاد رکھنا چاہیے۔ اسی طرح ذکر سے مراد قرآن کریم کی تلاوت بھی ہو سکتی ہے کیونکہ سب سے بڑا ذکر تو خود قرآن کریم ہے اور نمازیں بھی ہو سکتی ہیں جن میں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے اور ہر وقت دل میں یاد رکھنا بھی مراد ہو سکتا ہے اور جس ذکر میں دل اور زبان دونوں مشغول ہوں تو دل میں عاجزی اور خضوع ہونا چاہیے اور آواز پست ہونا چاہیے خواہ یہ ذکر جہراً ہی کیا جا رہا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا یہی تقاضا ہے۔
[204] سب سے بڑی غفلت تو یہی ہے کہ انسان یہ بھول جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے اور اس دنیا میں جو دار الامتحان ہے اسے اللہ کا بندہ بن کر ہی رہنا چاہیے۔ نیز یہ بھول جائے کہ آخرت میں اس کے سب اعمال پر جواب طلبی اور مواخذہ ہو گا۔ دنیا میں جب بھی کوئی فتنہ و فساد پیدا ہوا ہے تو اسی قسم کی غفلت سے پیدا ہوا ہے اسی لیے مسلمانوں کو بار بار تاکید کی جا رہی ہے کہ انہیں کسی وقت بھی ایسی غفلت میں نہ رہنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہنا چاہیے جو اس غفلت کا صحیح علاج ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ کی یاد بکثرت کرو مگر خاموشی سے ٭٭
اللہ تعالیٰ یہاں حکم فرماتا ہے کہ صبح شام اس کو بکثرت یاد کر۔ اور جگہ بھی ہے «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ» ۱؎ [50-ق:39]‏‏‏‏ یعنی ’ اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کیا کرو، سورج طلوع اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔ ‘
یہ آیت مکیہ ہے اور یہ حکم معراج سے پہلے کا ہے۔
«غدو» کہتے ہیں دن کے ابتدائی حصے کو۔ «اصال» جمع ہے «اصیل» کی، جیسے کہ ایمان جمع ہے یمین کی۔
حکم دیا کہ رغبت، لالچ اور ڈر خوف کے ساتھ اللہ کی یاد اپنے دل میں، اپنی زبان سے کرتے رہو۔ چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے مستحب یہی ہے کہ پکار کے ساتھ اور چلا چلا کر اللہ کا ذکر نہ کیا جائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی چپکے چپکے کر لیا کریں یا دور ہے کہ ہم پکار پکار کر آوازیں دیں؟ تو اللہ تعالیٰ جل و علا نے یہ آیت اتاری «وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ» ۱؎ [2-البقرة:186]‏‏‏‏ ’ جب میرے بندے تجھ سے میری بابت سوال کریں تو جواب دے کہ میں بہت ہی نزدیک ہوں۔ دعا کرنے والے کی دعا کو جب بھی وہ مجھ سے دعا کرے، قبول فرما لیا کرتا ہوں۔ ‘
بخاری و مسلم میں ہے کہ { لوگوں نے ایک سفر میں باآواز بلند دعائیں کرنی شروع کیں تو آپ نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر ترس کھاؤ۔ تم کسی بہرے کو، یا کسی غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکارتے ہو، وہ تو بہت ہی پست آواز سننے والا اور بہت ہی قریب ہے۔ تمہاری سواری کی گردن جتنی تم سے قریب ہے، اس سے بھی زیادہ وہ تم سے نزدیک ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6610]‏‏‏‏
ہو سکتا ہے کہ مراد اس آیت سے بھی وہی ہو جو آیت «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110]‏‏‏‏ یعنی ’ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔ ‘ سے ہے۔
مشرکین قرآن سن کر قرآن کو، جبرئیل کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور خود اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے لگتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ نہ تو آپ اس قدر بلند آواز سے پڑھیں کہ مشرکین چڑ کر بکنے جھکنے لگیں، نہ اس قدر پست آواز سے پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ اس کے درمیان کا راستہ ڈھونڈ نکالیں یعنی نہ بہت بلند، نہ بہت آہستہ۔ یہاں بھی فرمایا کہ بہت بلند آواز سے نہ ہو اور غافل نہ بننا۔
امام ابن جریر اور ان سے پہلے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں قرآن کے سننے والے کو جو خاموشی کا حکم تھا، اسی کو دہرایا جا رہا ہے کہ اللہ کا ذکر اپنی زبان سے اپنے دل میں کیا کرو۔
لیکن یہ بعید ہے اور انصاف کے منافی ہے جس کا حکم فرمایا گیا ہے اور مراد اس سے یا تو نماز میں ہے، یا نماز اور خطبے میں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اس وقت خاموشی بہ نسبت ذکر ربانی کے افضل ہے خواہ وہ پوشیدہ ہو خواہ ظاہر، پس ان دونوں کی متابعت نہیں کی گئی۔ اس لیے مراد اس سے بندوں کو صبح شام ذکر کی کثرت کی رغبت دلانا ہے تاکہ وہ غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔
(‏‏‏‏ان دونوں بزرگوں کے علاوہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ تفسیر بیضاوی وغیرہ میں بھی یہی ہے اور دونوں آیات کے ظاہری ربط کا تقاضا بھی یہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» )
اسی لیے فرشتوں کی تعریف بیان ہوئی کہ وہ دن رات اللہ کی تسبیح میں لگے رہتے ہیں، بالکل تھکتے نہیں۔ پس فرماتا ہے کہ جو تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ ان کا ذکر اس لیے کیا کہ اس کثرت عبادت و اطاعت میں ان کی اقتدا کی جائے، اسی لیے ہمارے لیے بھی شریعت نے سجدہ مقرر کیا، فرشتے بھی سجدہ کرتے رہتے ہیں۔
حدیث شریف میں ہے: { تم اسی طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جیسے کہ فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں باندھتے ہیں کہ وہ پہلے اول صف کو پورا کرتے ہیں اور صفوں میں ذرا سی بھی گنجائش اور جگہ باقی نہیں چھوڑتے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:430]‏‏‏‏
اس آیت پر اجماع کے ساتھ سجدہ واجب ہے۔ پڑھنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی۔ قرآن میں تلاوت کا پہلا سجدہ یہی ہے۔
ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو سجدے کی آیات میں شمار کیا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:1056، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
الحمدللہ! تفسیر سورۃ الاعراف ختم ہوئی۔