اور اے آدم ! تو اور تیری بیوی اس جنت میں رہو، پس دونوں کھائو جہاں سے چاہو اور اس درخت کے قریب مت جائو کہ دونوں ظالموں سے ہو جاؤ گے۔
اور ہم نے آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوش جان کرو مگر اس درخت کے پاس نہ جاؤ ورنہ گنہگار ہو جاؤ گے
اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ پھر جس جگہ سے چاہو دونوں کھاؤ، اور اس درخت کے پاس مت جاؤ ورنہ تم دونوں ﻇالموں میں سے ہوجاؤ گے
(آیت 19) {وَيٰۤاٰدَمُاسْكُنْاَنْتَوَزَوْجُكَالْجَنَّةَ ……:} اس کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ (۳۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 یعنی صرف اس درخت کو چھوڑ کر جہاں سے اور جتنا چاہو کھاؤ۔ ایک درخت کا پھل کھانے کی پابندی آزمائش کے طور عائد کی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ ”اور اے آدم! تو اور تیری بیوی دونوں [16] اس جنت میں رہو اور جہاں سے جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے“
[16] ابلیس کو تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے نکال دیا اور آدمؑ کے بعد اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے فرمایا کہ یہ جنت تمہارا مسکن ہے یہاں سے جو چا ہو اور جتنا چاہو کھاؤ پیو البتہ اس ایک درخت کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ یہ درخت کون سا تھا؟ اس کی صراحت نہیں کی گئی اور نہ اس کی ضرورت ہی تھی۔ اس حکم سے مقصود صرف آدم و حوا علیہما السلام کی آزمائش تھی کہ وہ کہاں تک اللہ کا یہ حکم بجا لاتے ہیں اور شیطان جو اپنی چھاتی پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ میں آدمؑ اور اس کی اولاد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا کیا یہ اس کی چالوں میں آتے ہیں یا نہیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ٭٭
ابلیس کو نکال کر آدم و حواء علیہم السلام کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے، انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو، انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کرا دوں۔ چنانچہ جھوٹ، افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا: میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا: تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے «يُبَيِّنُاللَّهُلَكُمْأَنتَضِلُّواْ»۱؎[4-النساء:176] مطلب یہ ہے کہ «أَنلَّاتَضِلُّواْ» اور آیت میں ہے «وَأَلْقَىفِىالاٌّرْضِرَوَاسِىَأَنتَمِيدَبِكُمْ»۱؎[16-النحل:15] «أَنتَمِيدَبِكُمْ» یہاں بھی یہی مطلب ہے۔ «مَلَكَيْنِ» کی دوسری قرأت «مَلِكَيْنِ» بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت «لام» کے زبر کے ساتھ ہے۔ پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو، میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں، ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں۔ تم اسے کھا لو، بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے۔ «قَاسَمَ» گو باب «مفاعلہ» سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں «قَاسَمَ» آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لیے۔ اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں آدم علیہ السلام آ گئے۔ سچ ہے! مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔