ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا لِیَسۡکُنَ اِلَیۡہَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰہَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِیۡفًا فَمَرَّتۡ بِہٖ ۚ فَلَمَّاۤ اَثۡقَلَتۡ دَّعَوَا اللّٰہَ رَبَّہُمَا لَئِنۡ اٰتَیۡتَنَا صَالِحًا لَّنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۸۹﴾
وہی ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، تاکہ وہ اس کی طرف (جاکر) سکون حاصل کرے، پھر جب اس نے اس (عورت) کو ڈھانکا تو اس نے ہلکا سا حمل اٹھا لیا،پس اسے لے کر چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے دعا کی، جو ان کا رب ہے کہ بے شک اگر تو نے ہمیں تندرست بچہ عطا کیا تو ہم ضرور ہی شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔
وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
وه اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تم کو ایک تن واحد سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وه اس اپنے جوڑے سے انس حاصل کرے پھر جب میاں نے بیوی سے قربت کی تو اس کو حمل ره گیا ہلکا سا۔ سو وه اس کو لئے ہوئے چلتی پھرتی رہی، پھر جب وه بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اللہ سے جو ان کا مالک ہے دعا کرنے لگے کہ اگر تو نے ہم کو صحیح سالم اوﻻد دے دی تو ہم خوب شکر گزاری کریں گے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 190،189) ➊ {هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ …:} ایک جان، یعنی آدم علیہ السلام سے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی پہلی آیت۔
➋ {لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا …:} معلوم ہوا میاں بیوی کے تعلق کا اصل سکون و راحت ہے۔ دیکھیے سورۂ روم (۲۱) {” فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا “} جس مقصد کے لیے قرآن مجید نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ان سے بڑھ کر ادب، حیا، پردے اور پاکیزگی کے ساتھ وہ مطلب ادا کرنے والے اور لفظ ملنا مشکل ہیں۔ {” صَالِحًا “} یعنی صحیح و سالم بچہ، جس میں کوئی جسمانی نقص نہ ہو۔
اس آیت کی صحیح تفسیر جسے حافظ ابن کثیر اور دوسرے محققین نے اختیار فرمایا ہے، وہ ہے جو حسن بصری رحمہ اللہ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ بے شک شروع میں بطور تمہید آدم و حوا علیھما السلام کا ذکر ہے، مگر اس کے بعد {” فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا “} سے سلسلۂ کلام ان کی اولاد میں سے مشرکین کی طرف منتقل ہو گیا ہے اور اس کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں جن میں فرد کے ذکر سے سلسلۂ کلام جنس کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ بعد میں «{ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ }» وغیرہ یعنی تمام آیات میں آخر تک جمع کے الفاظ استعمال ہوئے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے جنس آدم مراد ہے۔ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہو کر شرک کا ارتکاب کیسے کر سکتے ہیں؟ بہت سے مفسرین نے ان سے مراد آدم اور حوا علیھما السلام لیے ہیں، ان کی بنیاد اس روایت پر ہے جو سمرہ رضی اللہ عنہ سے ترمذی اور حاکم وغیرہ میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حوا نے بچہ جنا تو ابلیس ان کے پاس آیا، ان کا کوئی لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا۔ ابلیس کہنے لگا: ”اس کا نام عبد الحارث رکھو تو یہ زندہ رہے گا۔“ چنانچہ انھوں نے بچے کا نام عبد الحارث رکھا اور وہ زندہ بچ گیا۔ یہ سب کچھ شیطان کے اشارے سے تھا۔“ لیکن حافظ ابن کثیر نے اس روایت کو ضعیف اور اسرائیلیات سے ماخوذ قرار دیا ہے اور اس کے ضعف کے تین اسباب بیان فرمائے ہیں، خصوصاً اس لیے بھی کہ اس میں شرک کی نسبت اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی آدم علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے۔ شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بھی سلسلہ ضعیفہ (۳۴۲) میں اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔ اس روایت کی سند میں موجود ایک راوی حسن بصری رحمہ اللہ نے وہ تفسیر فرمائی جو اوپر گزری اور صحیح سند کے ساتھ ان سے تفسیر طبری وغیرہ میں مروی ہے، اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس روایت کو صحیح سمجھتے تو خود اس کے خلاف ہر گز تفسیر نہ فرماتے۔ اس لیے وہی تفسیر درست ہے۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ ابن کثیر رحمہ اللہ وغیرہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اگر یہ سارا قصہ آدم و حوا علیھما السلام کے متعلق ہی تسلیم کر لیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ {” جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ “} میں استفہام انکاری ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں تندرست بچہ عطا کیا تو کیا آدم وحوا نے شرک کیا تھا؟ جیسا کہ مشرکین عرب ان کی طرف شرک کی نسبت کرتے ہیں، یعنی نہیں۔ یہ تاویل بھی درست ہے، کیونکہ یہاں تک تثنیہ کی ضمیریں ہیں، آگے جمع کے صیغے کے ساتھ مشرکین پر رد ہے۔
➌ { فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ:} اس سے مراد بالاتفاق کفار عرب ہیں، جیسا کہ بعد والی آیات سے ثابت ہو رہا ہے، یعنی جب اولاد کی امید ہوتی ہے تو مشرکین اللہ سے تندرست اولاد عطا کرنے کی دعا کرتے اور شکر گزار ہونے کا وعدہ کرتے ہیں، مگر جب ٹھیک ٹھاک تندرست اولاد عطا ہو جاتی ہے تو اسے غیر اللہ کی دین قرار دے دیتے ہیں، کوئی اسے عبد العزیٰ کہتا ہے، کوئی عبد المطلب، کوئی عبد ود اور کوئی عبد یغوث، یا کسی مردے کے نام کی نذر و نیاز دیتے ہیں، یا شکریہ ادا کرنے کے لیے بچے کو کسی قبر پر لے جا کر اس کا ماتھا وہاں ٹکاتے ہیں کہ ان کے بزرگوں کے طفیل یہ بچہ ملا ہے۔ یہ سب صورتیں اللہ کا شریک ٹھہرانے کی ہیں جو صرف مشرکین عرب ہی میں نہیں تھیں بلکہ مسلمان کہلانے والے بہت سے لوگوں میں اب بھی عام ہیں، چنانچہ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اللہ کو سب سے پیارے دو نام عبد اللہ یا عبد الرحمن یا اس سے ملتے جلتے نام یا شرک سے پاک نام رکھنے کے بجائے نبی بخش، حسین بخش، پیراں دتہ، عبد النبی، عبد الرسول اور بندۂ علی وغیرہ نام رکھتے ہیں۔ پھر وہ کسی کو کسی آستانے کا فقیر بنا دیتے ہیں، کسی کو کسی قبر کا مجاور بنا دیتے ہیں۔ کوئی اپنا نام سگ دربار غوثیہ رکھ لیتا ہے، کوئی سگ رسول یا سگ مدینہ۔ [إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ]
➋ {لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا …:} معلوم ہوا میاں بیوی کے تعلق کا اصل سکون و راحت ہے۔ دیکھیے سورۂ روم (۲۱) {” فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا “} جس مقصد کے لیے قرآن مجید نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ان سے بڑھ کر ادب، حیا، پردے اور پاکیزگی کے ساتھ وہ مطلب ادا کرنے والے اور لفظ ملنا مشکل ہیں۔ {” صَالِحًا “} یعنی صحیح و سالم بچہ، جس میں کوئی جسمانی نقص نہ ہو۔
اس آیت کی صحیح تفسیر جسے حافظ ابن کثیر اور دوسرے محققین نے اختیار فرمایا ہے، وہ ہے جو حسن بصری رحمہ اللہ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ بے شک شروع میں بطور تمہید آدم و حوا علیھما السلام کا ذکر ہے، مگر اس کے بعد {” فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا “} سے سلسلۂ کلام ان کی اولاد میں سے مشرکین کی طرف منتقل ہو گیا ہے اور اس کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں جن میں فرد کے ذکر سے سلسلۂ کلام جنس کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ بعد میں «{ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ }» وغیرہ یعنی تمام آیات میں آخر تک جمع کے الفاظ استعمال ہوئے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے جنس آدم مراد ہے۔ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہو کر شرک کا ارتکاب کیسے کر سکتے ہیں؟ بہت سے مفسرین نے ان سے مراد آدم اور حوا علیھما السلام لیے ہیں، ان کی بنیاد اس روایت پر ہے جو سمرہ رضی اللہ عنہ سے ترمذی اور حاکم وغیرہ میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حوا نے بچہ جنا تو ابلیس ان کے پاس آیا، ان کا کوئی لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا۔ ابلیس کہنے لگا: ”اس کا نام عبد الحارث رکھو تو یہ زندہ رہے گا۔“ چنانچہ انھوں نے بچے کا نام عبد الحارث رکھا اور وہ زندہ بچ گیا۔ یہ سب کچھ شیطان کے اشارے سے تھا۔“ لیکن حافظ ابن کثیر نے اس روایت کو ضعیف اور اسرائیلیات سے ماخوذ قرار دیا ہے اور اس کے ضعف کے تین اسباب بیان فرمائے ہیں، خصوصاً اس لیے بھی کہ اس میں شرک کی نسبت اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی آدم علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے۔ شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بھی سلسلہ ضعیفہ (۳۴۲) میں اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔ اس روایت کی سند میں موجود ایک راوی حسن بصری رحمہ اللہ نے وہ تفسیر فرمائی جو اوپر گزری اور صحیح سند کے ساتھ ان سے تفسیر طبری وغیرہ میں مروی ہے، اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس روایت کو صحیح سمجھتے تو خود اس کے خلاف ہر گز تفسیر نہ فرماتے۔ اس لیے وہی تفسیر درست ہے۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ ابن کثیر رحمہ اللہ وغیرہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اگر یہ سارا قصہ آدم و حوا علیھما السلام کے متعلق ہی تسلیم کر لیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ {” جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ “} میں استفہام انکاری ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں تندرست بچہ عطا کیا تو کیا آدم وحوا نے شرک کیا تھا؟ جیسا کہ مشرکین عرب ان کی طرف شرک کی نسبت کرتے ہیں، یعنی نہیں۔ یہ تاویل بھی درست ہے، کیونکہ یہاں تک تثنیہ کی ضمیریں ہیں، آگے جمع کے صیغے کے ساتھ مشرکین پر رد ہے۔
➌ { فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ:} اس سے مراد بالاتفاق کفار عرب ہیں، جیسا کہ بعد والی آیات سے ثابت ہو رہا ہے، یعنی جب اولاد کی امید ہوتی ہے تو مشرکین اللہ سے تندرست اولاد عطا کرنے کی دعا کرتے اور شکر گزار ہونے کا وعدہ کرتے ہیں، مگر جب ٹھیک ٹھاک تندرست اولاد عطا ہو جاتی ہے تو اسے غیر اللہ کی دین قرار دے دیتے ہیں، کوئی اسے عبد العزیٰ کہتا ہے، کوئی عبد المطلب، کوئی عبد ود اور کوئی عبد یغوث، یا کسی مردے کے نام کی نذر و نیاز دیتے ہیں، یا شکریہ ادا کرنے کے لیے بچے کو کسی قبر پر لے جا کر اس کا ماتھا وہاں ٹکاتے ہیں کہ ان کے بزرگوں کے طفیل یہ بچہ ملا ہے۔ یہ سب صورتیں اللہ کا شریک ٹھہرانے کی ہیں جو صرف مشرکین عرب ہی میں نہیں تھیں بلکہ مسلمان کہلانے والے بہت سے لوگوں میں اب بھی عام ہیں، چنانچہ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اللہ کو سب سے پیارے دو نام عبد اللہ یا عبد الرحمن یا اس سے ملتے جلتے نام یا شرک سے پاک نام رکھنے کے بجائے نبی بخش، حسین بخش، پیراں دتہ، عبد النبی، عبد الرسول اور بندۂ علی وغیرہ نام رکھتے ہیں۔ پھر وہ کسی کو کسی آستانے کا فقیر بنا دیتے ہیں، کسی کو کسی قبر کا مجاور بنا دیتے ہیں۔ کوئی اپنا نام سگ دربار غوثیہ رکھ لیتا ہے، کوئی سگ رسول یا سگ مدینہ۔ [إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
189۔ 1 ابتدا یعنی حضرت آدم ؑ سے۔ اسی لئے انسان اول اور ابو البشر کہا جاتا ہے۔ 189۔ 2 اس سے مراد حضرت حوا ہیں، جو حضرت آدم ؑ کی زوج بنیں۔ ان کی تخلیق حضرت آدم ؑ سے ہوئی، جس طرح کہ منھا کی ضمیر سے، جو نفس واحدۃ کی طرف راجع ہے اور واضح ہے (مزید دیکھئے سورت نساء کا حاشیہ) 189۔ 3 یعنی اس سے اطمینان و سکون حاصل کرے۔ اس لئے کہ ایک جنس اپنے ہی ہم جنس سے صحیح معنوں میں مانوس اور قریب ہوسکتی ہے جو سکون حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ قربت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً) 30۔ الروم:21) اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تم ہی میں سے (یا تمہاری جنس ہی میں سے) جوڑے پیدا کئے، تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے دل میں اس نے پیار محبت رکھ دی ' یعنی اللہ نے مرد اور عورت دونوں کے اندر ایک دوسرے کے جذبات اور کشش رکھی ہے، فطرت کے یہ تقاضے وہ جوڑا بن کر پورا کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے قرب و انس حاصل کرتے ہیں۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ جو باہمی پیار میاں بیوی کے درمیان ہوتا ہے وہ دنیا میں کسی اور کے ساتھ نہیں ہوتا۔ 189۔ 4 یعنی یہ نسل انسانی اس طرح بڑھی اور آگے چل کر جب ان میں سے ایک زوج یعنی میاں بیوی نے ایک دوسرے سے قربت کی۔ تَغشَّاھَا کے معنی بیوی سے ہمبستری۔ یعنی وطی کرنے کے لئے ڈھانپا۔ 189۔ 5 یعنی حمل کے ابتدائی ایام میں حتٰی کہ نطفے سے عَلَقَۃِاور عَلَقَۃ، ُ سے مُضَغَۃ، ُ بننے تک، حمل خفیف رہتا ہے محسوس نہیں ہوتا اور عورت کو زیادہ گرانی بھی نہیں ہوتی۔ 189۔ 6 بوجھل ہوجانے سے مراد بچہ پیٹ میں بڑا ہوجاتا ہے تو جوں جوں ولادت کا وقت قریب آتا جاتا ہے، والدین کے دل میں خطرات اور توہمات پیدا ہوتے جاتے ہیں (بالخصوص جب عورت کو اٹھرا کی بیماری ہو تو انسانی فطرت ہے کہ خطرات میں وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، چناچہ وہ دونوں اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اور شکر گزاری کا عہد کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
189۔ وہی تو ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی تاکہ اس کے ہاں سکون حاصل کرے۔ پھر جب کسی مرد نے اپنی بیوی سے صحبت کی تو اسے ہلکا سا حمل ہو گیا جس کے ساتھ وہ چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں اپنے پروردگار سے دعا کرنے لگے کہ: اگر تو ہمیں تندرست بچہ عطا کرے تو ہم یقیناً شکر کرنے والوں سے ہوں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک ہی باپ ایک ہی ماں اور تمام نسل آدم ٭٭
تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف آدم علیہ السلام سے ہی پیدا کیا , انہی سے ان کی بیوی حواء کو پیدا کیا . پھر ان دونوں سے نسل انسان جاری کی۔
جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ» ۱؎ [49-الحجرات:13] ’ لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے , پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب سے آگے ہے۔ ‘
سورۃ نساء کے شروع میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً» ۱؎ [4-النساء:1] ’ اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے۔ انہی سے ان کی بیوی کو پیدا کیا، پھر ان دونوں میاں بیوی سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے۔ ‘
یہاں فرماتا ہے کہ انہی سے ان کی بیوی کو بنایا تاکہ یہ آرام اٹھائیں۔ چنانچہ ایک اور آیت میں ہے: «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً» ۱؎ [30-الروم:21] ’ لوگو! یہ بھی اللہ کی ایک مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں بنا دیں تاکہ تم ان سے سکون و آرام حاصل کرو اور اس نے تم میں باہم محبت و الفت پیدا کر دی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاہت ہے جو میاں بیوی میں وہ پیدا کر دیتا ہے۔ ‘
اسی لیے جادوگروں کی برائی بیان کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ وہ اپنی مکاریوں سے میاں بیوی میں جدائی ڈلوا دیتے ہیں۔
عورت مرد کے ملاپ سے بحکم الٰہی عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے۔ جب تک وہ نطفے، خون اور لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے ہلکا سا رہتا ہے، وہ برابر اپنے کام کاج میں آمد و رفت میں لگی رہتی ہے، کوئی ایسی زیادہ تکلیف اور بار نہیں معلوم ہوتا اور اندر ہی اندر وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اسے تو یونہی کبھی کچھ وہم سا ہوتا ہے کہ شاید کچھ ہو۔ کچھ وقت یونہی گزر جانے کے بعد بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے، حمل ظاہر ہو جاتا ہے، بچہ پیٹ میں بڑا ہو جاتا ہے، طبیعت تھکنے لگتی ہے، اب ماں باپ دونوں اللہ سے دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں صحیح سالم بیٹا عطا فرمائے تو ہم شکر گزاری کریں گے۔
جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ» ۱؎ [49-الحجرات:13] ’ لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے , پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب سے آگے ہے۔ ‘
سورۃ نساء کے شروع میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً» ۱؎ [4-النساء:1] ’ اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے۔ انہی سے ان کی بیوی کو پیدا کیا، پھر ان دونوں میاں بیوی سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے۔ ‘
یہاں فرماتا ہے کہ انہی سے ان کی بیوی کو بنایا تاکہ یہ آرام اٹھائیں۔ چنانچہ ایک اور آیت میں ہے: «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً» ۱؎ [30-الروم:21] ’ لوگو! یہ بھی اللہ کی ایک مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں بنا دیں تاکہ تم ان سے سکون و آرام حاصل کرو اور اس نے تم میں باہم محبت و الفت پیدا کر دی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاہت ہے جو میاں بیوی میں وہ پیدا کر دیتا ہے۔ ‘
اسی لیے جادوگروں کی برائی بیان کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ وہ اپنی مکاریوں سے میاں بیوی میں جدائی ڈلوا دیتے ہیں۔
عورت مرد کے ملاپ سے بحکم الٰہی عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے۔ جب تک وہ نطفے، خون اور لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے ہلکا سا رہتا ہے، وہ برابر اپنے کام کاج میں آمد و رفت میں لگی رہتی ہے، کوئی ایسی زیادہ تکلیف اور بار نہیں معلوم ہوتا اور اندر ہی اندر وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اسے تو یونہی کبھی کچھ وہم سا ہوتا ہے کہ شاید کچھ ہو۔ کچھ وقت یونہی گزر جانے کے بعد بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے، حمل ظاہر ہو جاتا ہے، بچہ پیٹ میں بڑا ہو جاتا ہے، طبیعت تھکنے لگتی ہے، اب ماں باپ دونوں اللہ سے دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں صحیح سالم بیٹا عطا فرمائے تو ہم شکر گزاری کریں گے۔
ڈر لگتا ہے کہ کہیں کچھ اور بات نہ ہو جائے۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اور صحیح سالم انسانی شکل و صورت کا بچہ عطا فرمایا تو اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔
مفسرین نے اس جگہ بہت سے آثار و احادیث بیان کئے ہیں جنہیں میں یہاں نقل کرتا ہوں اور ان میں جو بات ہے، وہ بھی بیان کروں گا۔ پھر جو بات صحیح ہے، اسے بتاؤں گا۔ ان شاءاللہ۔
مسند احمد میں ہے کہ { جب حواء کو اولاد ہوئی تو ابلیس گھومنے لگا، ان کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے۔ شیطان نے سکھایا کہ اب اس کا نام عبدالحارث رکھ دے تو یہ زندہ رہے گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور یہی ہوا اور اصل میں یہ شیطانی حرکت تھی اور اسی کا حکم تھا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3077، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ میں کہتا ہوں، اس حدیث میں کئی کمزوریاں ہیں: ایک تو یہ کہ اس کے ایک راوی عمر بن ابراہیم مصری کی بابت امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ راوی ایسا نہیں کہ اس سے حجت پکڑی جائے، گو امام ابن معین رحمہ اللہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ لیکن ابن مردویہ رحمہ اللہ نے اسے معمر سے، اس نے اپنے باپ سے، اس نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرے یہ کہ یہی روایت موقوفاً سمرہ کے اپنے قول سے مروی ہوئی ہے جو کہ مرفوع نہیں۔
ابن جریر رضی اللہ عنہ میں خود سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے کہ ”آدم علیہ السلام نے اپنے لڑکے کا نام عبدالحارث رکھا۔“
تیسرے اس آیت کی تفسیر اس کے راوی حسن سے اس کے علاوہ بھی مروی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ مرفوع حدیث ان کی روایت کردہ ہوتی تو یہ خود اس کے خلاف تفسیر نہ کرتے۔
مفسرین نے اس جگہ بہت سے آثار و احادیث بیان کئے ہیں جنہیں میں یہاں نقل کرتا ہوں اور ان میں جو بات ہے، وہ بھی بیان کروں گا۔ پھر جو بات صحیح ہے، اسے بتاؤں گا۔ ان شاءاللہ۔
مسند احمد میں ہے کہ { جب حواء کو اولاد ہوئی تو ابلیس گھومنے لگا، ان کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے۔ شیطان نے سکھایا کہ اب اس کا نام عبدالحارث رکھ دے تو یہ زندہ رہے گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور یہی ہوا اور اصل میں یہ شیطانی حرکت تھی اور اسی کا حکم تھا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3077، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ میں کہتا ہوں، اس حدیث میں کئی کمزوریاں ہیں: ایک تو یہ کہ اس کے ایک راوی عمر بن ابراہیم مصری کی بابت امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ راوی ایسا نہیں کہ اس سے حجت پکڑی جائے، گو امام ابن معین رحمہ اللہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ لیکن ابن مردویہ رحمہ اللہ نے اسے معمر سے، اس نے اپنے باپ سے، اس نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرے یہ کہ یہی روایت موقوفاً سمرہ کے اپنے قول سے مروی ہوئی ہے جو کہ مرفوع نہیں۔
ابن جریر رضی اللہ عنہ میں خود سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے کہ ”آدم علیہ السلام نے اپنے لڑکے کا نام عبدالحارث رکھا۔“
تیسرے اس آیت کی تفسیر اس کے راوی حسن سے اس کے علاوہ بھی مروی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ مرفوع حدیث ان کی روایت کردہ ہوتی تو یہ خود اس کے خلاف تفسیر نہ کرتے۔
چنانچہ ابن جریر میں ہے , حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”آدم علیہ السلام کا واقعہ نہیں بلکہ بعض مذاہب والوں کا واقعہ ہے۔“
اور روایت میں آپ کا یہ فرمان منقول ہے کہ ”اس سے مراد بعض مشرک انسان ہیں جو ایسا کرتے ہیں،“ فرماتے ہیں کہ ”یہ یہود و نصاریٰ کا فعل بیان ہوا ہے کہ اپنی اولادوں کو اپنی روش پر ڈال لیتے ہیں۔“ یہ سب اسنادیں حسن رحمہ اللہ تک بالکل صحیح ہیں اور اس آیت کی جو کچھ تفسیر کی گئی ہے، اس میں سب سے بہتر تفسیر یہی ہے۔
خیر مقصد یہ تھا کہ اتنا بڑا متقی اور پرہیزگار آدمی ایک آیت کی تفسیر میں، ایک مرفوع حدیث قول پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرے، پھر اس کے خلاف خود تفسیر کرے، یہ بالکل ان ہونی بات ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ وہ سمرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے۔ اس کے بعد یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے اسے اہل کتاب سے ماخوذ کیا ہو۔ جیسے کعب، وہب وغیرہ جو مسلمان ہو گئے تھے اس کا بیان بھی سنئے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”حواء علیہ السلام کے جو بچے پیدا ہوتے تھے، ان کا نام عبداللہ، عبیداللہ وغیرہ رکھتی تھیں، وہ بچے فوت ہو جاتے تھے۔ پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور کہا: اگر تم کوئی اور نام رکھو تو تمہارے بچے زندہ رہیں گے۔ چنانچہ ان دونوں نے یہی کیا، جو بچہ پیدا ہوا، اس کا نام عبدالحارث رکھا۔“
اور روایت میں آپ کا یہ فرمان منقول ہے کہ ”اس سے مراد بعض مشرک انسان ہیں جو ایسا کرتے ہیں،“ فرماتے ہیں کہ ”یہ یہود و نصاریٰ کا فعل بیان ہوا ہے کہ اپنی اولادوں کو اپنی روش پر ڈال لیتے ہیں۔“ یہ سب اسنادیں حسن رحمہ اللہ تک بالکل صحیح ہیں اور اس آیت کی جو کچھ تفسیر کی گئی ہے، اس میں سب سے بہتر تفسیر یہی ہے۔
خیر مقصد یہ تھا کہ اتنا بڑا متقی اور پرہیزگار آدمی ایک آیت کی تفسیر میں، ایک مرفوع حدیث قول پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرے، پھر اس کے خلاف خود تفسیر کرے، یہ بالکل ان ہونی بات ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ وہ سمرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے۔ اس کے بعد یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے اسے اہل کتاب سے ماخوذ کیا ہو۔ جیسے کعب، وہب وغیرہ جو مسلمان ہو گئے تھے اس کا بیان بھی سنئے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”حواء علیہ السلام کے جو بچے پیدا ہوتے تھے، ان کا نام عبداللہ، عبیداللہ وغیرہ رکھتی تھیں، وہ بچے فوت ہو جاتے تھے۔ پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور کہا: اگر تم کوئی اور نام رکھو تو تمہارے بچے زندہ رہیں گے۔ چنانچہ ان دونوں نے یہی کیا، جو بچہ پیدا ہوا، اس کا نام عبدالحارث رکھا۔“
اس کا بیان ان آیات میں ہے۔
اور روایت میں ہے کہ ان کے دو بچے اس سے پہلے مر چکے تھے، اب حالت حمل میں شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تمہیں معلوم بھی ہے کہ تمہارے پیٹ میں کیا ہے؟ ممکن ہے، کوئی جانور ہی ہو۔ ممکن ہے، صحیح سالم ہو گا، زندہ رہے گا۔ یہ بھی اس کے بہکاوے میں آ گئے اور عبدالحارث نام رکھا، اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔
اور روایت میں ہے کہ پہلی دفعہ حمل کے وقت یہ آیا اور انہیں ڈرایا کہ میں وہی ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلویا، اب یا تو تم میری اطاعت کرو، ورنہ میں اسے یہ کر ڈالوں گا، وہ کر ڈالوں گا وغیرہ۔ ہر چند ڈرایا مگر انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔
اللہ کی شان وہ بچہ مردہ پیدا ہوا۔ دوبارہ حمل ٹھہرا، پھر یہ ملعون پھر آن پہنچا اور اسی طرح خوف زدہ کرنے لگا، اب بھی انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ چنانچہ یہ دوسرا بچہ بھی مردہ ہوا۔ تیسرے حمل کے وقت یہ خبیث پھر آیا، اب کی مرتبہ اولاد کی محبت میں آ کر انہوں نے اس کی مان لی اور اس کا نام عبدالحارث رکھا۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس اثر کو لے کر ان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے۔ جیسے مجاہد، سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور دوسرے طبقے میں سے قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ وغیرہ۔ اسی طرح سلف سے خلف تک بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی کہا ہے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ اثر اہل کتاب سے لیا گیا ہے۔
اور روایت میں ہے کہ ان کے دو بچے اس سے پہلے مر چکے تھے، اب حالت حمل میں شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تمہیں معلوم بھی ہے کہ تمہارے پیٹ میں کیا ہے؟ ممکن ہے، کوئی جانور ہی ہو۔ ممکن ہے، صحیح سالم ہو گا، زندہ رہے گا۔ یہ بھی اس کے بہکاوے میں آ گئے اور عبدالحارث نام رکھا، اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔
اور روایت میں ہے کہ پہلی دفعہ حمل کے وقت یہ آیا اور انہیں ڈرایا کہ میں وہی ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلویا، اب یا تو تم میری اطاعت کرو، ورنہ میں اسے یہ کر ڈالوں گا، وہ کر ڈالوں گا وغیرہ۔ ہر چند ڈرایا مگر انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔
اللہ کی شان وہ بچہ مردہ پیدا ہوا۔ دوبارہ حمل ٹھہرا، پھر یہ ملعون پھر آن پہنچا اور اسی طرح خوف زدہ کرنے لگا، اب بھی انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ چنانچہ یہ دوسرا بچہ بھی مردہ ہوا۔ تیسرے حمل کے وقت یہ خبیث پھر آیا، اب کی مرتبہ اولاد کی محبت میں آ کر انہوں نے اس کی مان لی اور اس کا نام عبدالحارث رکھا۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس اثر کو لے کر ان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے۔ جیسے مجاہد، سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور دوسرے طبقے میں سے قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ وغیرہ۔ اسی طرح سلف سے خلف تک بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی کہا ہے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ اثر اہل کتاب سے لیا گیا ہے۔
اس کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں جیسے کہ ابن ابی حاتم میں ہے، پس ظاہر ہے کہ یہ اہل کتاب کے آثار سے ہے۔ جن کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ان کی باتوں کو نہ سچی کہو نہ جھوٹی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3644، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ان کی روایات تین طرح کی ہیں: ایک تو وہ جن کی صحت ہمارے ہاں کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہے۔ دوسرا وہ جن کی تکذیب کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہو۔ تیسرا وہ جس کی بابت کوئی ایسا فیصلہ ہمارے دین میں نہ ملے تو بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم { اس روایت کے بیان میں تو کوئی حرج نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3461] لیکن تصدیق، تکذیب جائز نہیں۔
میرے نزدیک تو یہ اثر دوسری قسم کا ہے یعنی ماننے کے قابل نہیں اور جن صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے، انہوں نے اسے تیسری قسم کا سمجھ کر روایت کر دیا ہے۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کا اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ کے ساتھ کرنے کا بیان ان آیتوں میں ہے نہ کہ آدم و حواء کا۔“
ان کی روایات تین طرح کی ہیں: ایک تو وہ جن کی صحت ہمارے ہاں کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہے۔ دوسرا وہ جن کی تکذیب کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہو۔ تیسرا وہ جس کی بابت کوئی ایسا فیصلہ ہمارے دین میں نہ ملے تو بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم { اس روایت کے بیان میں تو کوئی حرج نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3461] لیکن تصدیق، تکذیب جائز نہیں۔
میرے نزدیک تو یہ اثر دوسری قسم کا ہے یعنی ماننے کے قابل نہیں اور جن صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے، انہوں نے اسے تیسری قسم کا سمجھ کر روایت کر دیا ہے۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کا اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ کے ساتھ کرنے کا بیان ان آیتوں میں ہے نہ کہ آدم و حواء کا۔“
پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ اس شرک سے اور ان کے شریک ٹھہرانے سے بلند و بالا ہے۔ ان آیات میں یہ ذکر اور ان سے پہلے آدم و حواء کا ذکر مثل تمہید کے ہے کہ ان اصلی ماں باپ کا ذکر کر کے پھر اور ماں باپوں کا ذکر ہوا، اور ان ہی کا شرک بیان ہوا۔
ذکر شخص سے ذکر جنس کی طرف استطراد کے طور پر، جیسے آیت «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ» ۱؎ [67-الملك:5] میں ہے یعنی ’ ہم نے دنیا کے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور انہیں شیطانوں پر انگارے برسانے والا بنایا۔ ‘
اور یہ ظاہر ہے کہ جو ستارے زینت کے ہیں، وہ جھڑتے نہیں، ان سے شیطانوں کو مار نہیں پڑتی۔ یہاں بھی استطراد تاروں کی شخصیت سے تاروں کی جنس کی طرف ہے۔ اس کی اور بھی بہت سی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ذکر شخص سے ذکر جنس کی طرف استطراد کے طور پر، جیسے آیت «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ» ۱؎ [67-الملك:5] میں ہے یعنی ’ ہم نے دنیا کے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور انہیں شیطانوں پر انگارے برسانے والا بنایا۔ ‘
اور یہ ظاہر ہے کہ جو ستارے زینت کے ہیں، وہ جھڑتے نہیں، ان سے شیطانوں کو مار نہیں پڑتی۔ یہاں بھی استطراد تاروں کی شخصیت سے تاروں کی جنس کی طرف ہے۔ اس کی اور بھی بہت سی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔