(آیت 186) {مَنْيُّضْلِلِاللّٰهُفَلَاهَادِيَلَهٗ …: } ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، مگر اس کا قانون ہے کہ وہ گمراہ اس کو کرتا ہے جو نیکی کا واضح راستہ چھوڑ کر بدی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ بھی اسے اس کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ دیکھیے سورهٔ بقره (۲۵، ۲۶) اور سورهٔ اعراف (۱۷۸، ۱۷۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
186۔ جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ انہیں ان کی سرکشی میں چھوڑ رہا ہے کہ سر ٹکراتے پھریں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
میری نشانیاں اور تعلیم گمراہوں کے لئے بےسود ہیں ٭٭
جس پر گمراہی لکھ دی گئی ہے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ وہ چاہے ساری نشانیاں دیکھ لے لیکن بےسود۔ «وَمَنيُرِدِاللَّـهُفِتْنَتَهُفَلَنتَمْلِكَلَهُمِنَاللَّـهِشَيْئًا»۱؎[5-المائدة:41]’ اللہ کا ارادہ جس کے لیے فتنے کا ہو، تو اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ ‘ «قُلِانظُرُوامَاذَافِيالسَّمَاوَاتِوَالْأَرْضِوَمَاتُغْنِيالْآيَاتُوَالنُّذُرُعَنقَوْمٍلَّايُؤْمِنُونَ»۱؎[10-يونس:101] میرا حکم تو یہی ہے کہ ’ آسمان و زمین کی میری بےشمار نشانیوں پر غور کرو۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ آیتیں اور ڈراوے بےایمانوں کے لیے سود مند نہیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔