ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 181

وَ مِمَّنۡ خَلَقۡنَاۤ اُمَّۃٌ یَّہۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَ بِہٖ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱۸۱﴾٪
اور ان لوگوں میں سے جنھیں ہم نے پیدا کیا کچھ لوگ ایسے ہیں جو حق کے ساتھ رہنمائی کرتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔
اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا رستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
اور ہماری مخلوق میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے موافق ہدایت کرتی ہے اور اس کے موافق انصاف بھی کرتی ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 181) {وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ......:} یہی وصف اس سے پہلے آیت (۱۵۹) میں موسیٰ علیہ السلام کی امت کے بعض اشخاص کا بیان ہوا ہے۔ یہاں مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، کیونکہ اب حق صرف اس امت کے پاس ہے۔ اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، تابعین، سلف صالحین اور وہ تمام لوگ شامل ہیں جو کتاب و سنت کو چھوڑ کر نئے راستے اختیار نہیں کرتے، بلکہ صرف کتاب و سنت پر خود بھی عمل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی بھی اسی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، کیونکہ حق یہی ہے اور اسی کے مطابق تمام معاملات میں لوگوں کے درمیان انصاف کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی آخری کوشش تک لگا دیتے ہیں، یعنی جہاد کرتے ہیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: میری امت میں سے ایک گروہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گا، نہ انھیں وہ شخص نقصان پہنچا سکے گا جو انھیں چھوڑ دے اور نہ وہ جو ان کی مخالفت کرے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا اور وہ اسی پر قائم ہوں گے۔ [بخاری، المناقب، باب: ۳۶۴۱] اس جماعت کی خاص صفت کتاب و سنت پر عمل کے ساتھ کفار سے لڑنا بھی ہے۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس کی خاطر لڑتی رہے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔ [مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لاتزال طائفۃ من أمتی…: ۱۹۲۰]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

181۔ اور ہماری مخلوق میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتے اور اسی کے مطابق [182] انصاف کرتے ہیں
[182] ایک فرقہ ہمیشہ حق پر رہتا ہے:۔
بلکہ ہر امت میں ایک گروہ ایسا رہا ہے جو حق پر قائم رہتا ہے خواہ اس کی تعداد کتنی ہی کم ہو اور یہ اس لیے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں پر اتمام حجت ہوتی رہے چنانچہ امت محمدیہ کے متعلق بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت (73) تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی تاہم ان میں ایک فرقہ ایسا ہو گا جو ہمیشہ حق پر قائم رہے گا تا آنکہ قیامت قائم ہو۔ [بخاري۔ كتاب الاعتصام۔ باب لاتزال طائفة من امتي]
اور سیدنا ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی پہلے لوگوں کی راہوں پر جا پڑو گے اگر وہ بالشت بھر بڑھے تو تم ہاتھ بھر بڑھو گے۔ حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں گھسے تھے تو تم بھی ضرور گھسو گے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پہلے لوگوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ فرمایا ”اور کون ہیں؟“ [مسلم، كتاب العلم، باب النهي عن اتباع متشابه القرآن]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف ٭٭
یعنی بعض لوگ حق و عدل پر قائم ہیں۔ حق بات ہی زبان سے نکالتے ہیں، حق کام ہی کرتے ہیں، حق کی طرف ہی اوروں کو بلاتے ہیں، حق کے ساتھ ہی انصاف کرتے ہیں اور بعض آثار میں مروی ہے کہ اس سے مراد امت محمدیہ ہے۔
چنانچہ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فرماتے کہ یہ تمہارے لیے ہے۔ تم سے پہلے یہ وصف قوم موسیٰ علیہ السلام کا تھا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:272/3:ضعیف]‏‏‏‏
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: { میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں، وہ خواہ کبھی بھی اتریں۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:272/3:ضعیف]‏‏‏‏
بخاری و مسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ظاہر رہے گا۔ انہیں ان کی دشمنی کرنے والے کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1923]‏‏‏‏
ایک اور روایت میں ہے کہ { یہاں تک کہ اللہ کا امر آ جائے گا، وہ اسی پر رہیں گے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:174]‏‏‏‏
ایک روایت میں ہے: { (‏‏‏‏اس وقت) وہ شام میں ہوں گے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7460]‏‏‏‏