ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 178

مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِیۡ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۷۸﴾
جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے سو وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
جس کو اللہ ہدایت کرتا ہے سو ہدایت پانے واﻻ وہی ہوتا ہے اور جس کو وه گمراه کر دے سو ایسے ہی لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 178) {مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِيْ …:} ہدایت کا نور اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، وہ اس کا مالک ہے، جسے چاہے عطا کر دے اور جسے چاہے عطا نہ کرے اور وہ ضلالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے۔ یہ مسئلۂ تقدیر ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس پر بھی ایمان لانا واجب ہے کہ وہ کسی کو ہدایت نہ دے تو ظالم نہیں، کیونکہ مالک جسے چاہے اپنی چیز دے جسے چاہے نہ دے اور وہ تو ایسا مالک ہے جس سے کوئی پوچھنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا، فرمایا: «{ لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَ هُمْ يُسْـَٔلُوْنَ [الأنبیاء: ۲۳] اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جاتا ہے۔ ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے وہ عین عدل ہے، کیونکہ وہ ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، فرمایا: «{ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ [حٰمٓ السجدۃ: ۴۶] اور تیرا رب اپنے بندوں پر ہر گز کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر خطبہ میں حمد و ثنا کے بعد فرمایا کرتے تھے: [مَنْ يَّهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ] [مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ:۸۶۸، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما] جسے اللہ سیدھی راہ پر لگائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی سیدھی راہ پر نہیں لگا سکتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

178۔ اللہ جسے ہدایت دے وہی ہدایت [178] پا سکتا ہے اور جسے وہ گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
[178] علم گمراہی کا سبب بھی بن سکتا ہے:۔
یعنی انسان کو اس کا علم و فضل صرف اس صورت میں فائدہ دے سکتا ہے جبکہ اللہ کی طرف سے اس علم پر عمل کرنے کی توفیق بھی نصیب ہو لہٰذا کسی شخص کو اپنی علمی قابلیت اور فضیلت پر نازاں نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ عقل کی کجروی سے بچنے اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ شیطان علم کی راہ سے بھی انسانوں کو گمراہ کر سکتا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ سب گمراہ فرقوں کے قائدین عموماً ذہین و فطین اور عالم لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بہترین دعا ٭٭
رب جنہیں راہ دکھائے، انہیں کوئی بےراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہی غلط راہ پر ڈال دے، اس کی شومی قسمت میں کیا شک ہے؟ اللہ کا چاہا ہوتا ہے، اس کا نہ چاہا کبھی نہیں ہو سکتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ { سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ہم اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں۔ ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے بھی۔ اللہ کے راہ دکھائے ہوئے کو کوئی بہکا نہیں سکتا اور اس کے گمراہ کئے ہوئے کو کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود صرف اللہ ہی ہے۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میری گواہی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں الخ۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2118، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسند احمد وغیرہ)