تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
معلوم ہوا کہ انسان کی فطرت ہی توحید ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔“ [بخاری، الجنائز، باب ما قیل فی أولاد المشرکین: ۱۳۸۵] اس لیے انسان کی ذات میں اور کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کے رب واحد ہونے کے دلائل ہی اس بات کے لیے کافی ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ اس لیے بعض علماء نے کہا کہ اگر کوئی بھی رسول نہ آتا تو انسان پر عقل، فطرت سلیمہ اور اپنی ذات اور کائنات میں موجود توحید کے بے شمار دلائل کی وجہ سے شرک سے بچنا لازم تھا، اگر وہ شرک کرے تو اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ اس سے مؤاخذہ فرمائے۔ مگر قرآن مجید سے اللہ تعالیٰ کا یہ بے حد و حساب رحم و کرم ثابت ہے کہ انسان کے نفس پر اس کی اپنی شہادت کے باوجود وہ رسولوں کے ذریعے سے حق واضح کیے بغیر عذاب نہیں دیتا، فرمایا: «{ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا }» [بنی إسرائیل: ۱۵] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“ اس کی مثال یوں سمجھیے کہ دیکھنے کے لیے آنکھ میں نور ہونا بھی ضروری ہے اور سورج، چاند یا کسی اور چیز کے ذریعے سے روشنی ہونا بھی ضروری ہے، آنکھ میں روشنی نہ ہو یا باہر روشنی نہ ہو تو نظر نہیں آتا۔ فطرت میں رکھی ہوئی عقل اور کائنات کے دلائل رب کی پہچان کے لیے آنکھ کے نور کی طرح ہیں اور پیغمبر سورج اور چاند کی طرح اس کے لیے دلائل کو روشن کرکے سمجھانے والے ہیں۔ شیخ صالح آل الشیخ نے شرح عقیدہ طحاویہ میں فرمایا کہ اہل السنہ کے بہت سے ائمہ مثلاً شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ، ابن القیم، ابن کثیر، ابن ابی العز حنفی شارح طحاویہ، شیخ عبد الرحمان سعدی اور دوسرے کئی ائمہ رحمھم اللہ نے {”وَإِذْ اَخَذَ رَبُّكَ“} کی یہی تفسیر اختیارفرمائی ہے۔ واضح رہے کہ آنکھ اور سورج کی روشنی کی مثال ان ائمہ کی تفسیر کا حصہ نہیں۔
دوسری تفسیر وہ میثاق (عہد و پیمان) ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پشت سے تمام اولادِ آدم کو نکال کر ان سے لیا اور جو عموماً عہد الست سے مشہور ہے، وہ عبد اللہ بن عباس اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنھم سے منقول ہے۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نعمان (نون کے فتحہ کے ساتھ) یعنی عرفہ میں آدم علیہ السلام کی پشت سے میثاق (عہد و پیمان) لیا، چنانچہ اس کی پشت سے تمام اولاد جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنی تھی نکالی اور اس کے آگے بکھیر دی، پھر ان سے آمنے سامنے بات کی، فرمایا: «{ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ }» ”کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟“ انھوں نے کہا: «{ بَلٰى }» کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی! (ایسا نہ ہو) کہ تم قیامت کے دن کہو ہم اس سے غافل تھے۔ آخر آیات تک۔ [أحمد: 272/1، ح: ۲۴۵۹۔ مستدرک حاکم: 544/2، ح: ۴۰۰۰] حاکم اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح فرمایا ہے، شوکانی اور بہت سے علماء نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے، مگر قرآن کے الفاظ اور حدیث کے الفاظ میں کئی لحاظ سے فرق ہے، ایک تو یہ کہ آیت میں «{ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ }» ہے {” مِنْ آدَمَ “} نہیں، دوسرا «{ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ }» ہے {” مِنْ ظَهْرِهِ “} نہیں۔ تیسرا «{ ذُرِّيَّتَهُمْ }» ہے، {” ذُرِّيَّتَهُ“} نہیں، چوتھا یہ کہ فرمایا: «{ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ }» گواہ کو وہ بات یاد تو ہونی چاہیے جس کی گواہی اس نے دینی ہے جبکہ وہ عہد کسی کو یاد نہیں، البتہ انسان کے نفس اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور توحید کے دلائل کا وہ خود فطری شاہد ہے، یہ الگ بات ہے کہ گندے عقیدوں والوں کے ساتھ مل کر اس کی فطرت پر پردہ پڑ گیا ہو۔ اگر کوئی کہے کہ بے شک آدم علیہ السلام کی پشت سے نکلتے وقت کیا ہوا عہد ہمیں یاد نہیں مگر پیغمبروں کا اس میثاق کو یاد کرا دینا ہی کافی ہے تو حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کا جواب دیا ہے کہ مشرک تو پیغمبروں کی کوئی بات صحیح مانتے ہی نہیں تھے، ان کا یاد کرا دینا ان پر حجت کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ (جب کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اس گواہ بنانے کو بطور حجت ذکر فرمایا ہے، جس طرح رسولوں کے بھیجنے کو بطور حجت ذکر فرمایا ہے) غرض ابن ابی العز نے شرح عقیدہ طحاویہ میں آیت اور احادیث کے درمیان دس فرق بیان کیے ہیں، اس لیے دونوں الگ الگ ہی۔ ہاں! تطبیق کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولادوں کو نکالنا بھی آدم علیہ السلام کی پشت سے اس کی اولاد کو نکالنے ہی کی تفصیل ہے۔ (واللہ اعلم)
➋ {اَنْ تَقُوْلُوْا:} یہ اصل میں {” لِئَلَّا تَقُوْلُوْا “} یا {” كَرَاهَةَ اَنْ تَقُوْلُوْا “} ہے، یعنی یہ عہد تم سے اس لیے لیا کہ ایسا نہ ہو کہ تم دنیا میں شرک و نافرمانی کی روش اختیار کرو اور قیامت کے روز تم سے باز پرس کی جائے تویہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کرنے لگو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1385]
ایک روایت میں ہے کہ { اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4775]
حدیث قدسی میں ہے کہ { میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865]
قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی { سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ } اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (ابن جریر) ۱؎ [مسند احمد:435/3:ضعیف]
اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔
مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [مسند احمد:272/1:صحیح] یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔
ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسے نکالیں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے۔ ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا، انہوں نے اقرار کیا، فرشتوں نے شہادت دی۔ اس لیے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15365]
{ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا، اس سے اولاد نکلی۔ فرمایا: میں نے انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو جنتی ہے، اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائے گا۔ ہاں! جو جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے، انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہو گا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4703،قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ابوداؤد)
یہ حدیث ترمذی میں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح لکھتے ہیں۔
اور روایت میں ہے کہ { جب آدم علیہ السلام نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے، کوئی کوڑھی ہے، کوئی اندھا ہے، کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یااللہ! اس میں کیا مصلحت ہے؟ فرمایا: یہ کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ یااللہ! ان میں سے یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں؟ فرمایا: یہ انبیاء ہیں الخ۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:8535/5:ضعیف]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قصہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے، انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا۔ پھر فرمایا: اے دائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: اے بائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر سب کو ملا دیا۔ کسی نے پوچھا: یہ کیوں کیا؟ فرمایا: اس لیے کہ ان کے لیے اور اعمال ہیں، جنہیں یہ کرنے والے ہیں۔ یہ تو صرف اس لیے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم علیہ السلام میں لوٹا دیا۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:7943:ضعیف جداً]
ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور آدم علیہ السلام کو گواہ کیا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں، نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے۔ میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں۔ سب نے جواب میں کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے، تو ہی ہمارا معبود ہے، تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔
پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا۔ اب جو آدم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر، غریب، خوبصورت اور اس کے سوا مختلف لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے: کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت میں ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لیے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔
اسی عام میثاق کا بیان آیت «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] میں ہے۔ اسی لیے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» ۱؎ [53-النجم:56]
اسی کا بیان اس آیت میں ہے «وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ» ۱؎ [7-الأعراف:102] (مسند احمد)
مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی اور بہت سے سلف رحمۃ اللہ علیہم سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہو جائے گا۔ ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا۔ جنتی، دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کر لیا۔ یہ جن دو احادیث میں ہے، وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں۔ اسی لیے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گزرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنا ہے۔ جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آیت میں «مِن بَنِي آدَمَ» فرمایا اور «مِن ظُهُورِهِمْ» کہا، ورنہ «مِنْ اٰدَمَ» اور «مِنْ ظَھْرِہِ» ہوتا۔
ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ» ۱؎ [6-الأنعام:165] ’ اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے۔ ‘
اور جگہ ہے: وہی تمہیں زمین کا خلیفہ بنا رہا ہے۔ اور آیت میں ہے: جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔
اور شہادت کبھی حال ہوتی ہے۔ جیسے آیت «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے۔
اس طرح کی آیت «وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ» ۱؎ [100-العاديات:7] ہے۔
اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے، کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے «وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ» ۱؎ [14-إبراهيم:34] ’ اس نے تمہیں تمہارا منہ مانگا دیا۔ ‘
کہتے ہیں کہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا، جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہیئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر پا لینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسولوں کو ہی نہیں مانتے، وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے۔ پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔
اسی لیے فرمایا ہے کہ یہ اس لیے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا، ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں؟
پھر تفصیل وار آیات کا بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آ جانا ممکن ہو جاتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {وإذْ أخَذَ ربُّك من بني آدمَ من ظهورهم ذُرِّيَّتهم}؛ أي: أخرج من أصلابهم ذريتهم، وجعلهم يتناسلون ويتوالدون قرناً بعد قرنٍ. {و}: حين أخرجهم من بطون أمَّهاتهم وأصلاب آبائهم، {أشهدهم على أنفسِهِم ألستُ بربِّكم}؛ أي: قرَّرهم بإثبات ربوبيَّته بما أودعه في فطرهم من الإقرار بأنه ربُّهم وخالقهم ومليكهم. قالوا: بلى؛ قد أقررنا بذلك؛ فإنَّ الله تعالى فطر عباده على الدين الحنيف القيم، فكلُّ أحدٍ فهو مفطورٌ على ذلك، ولكن الفطرة قد تُغيَّر وتُبدَّل بما يطرأ على العقول والعقائد الفاسدة ، ولهذا {قالوا بلى شَهِدْنا أن تَقولوا يوم القيامةِ إنَّا كنَّا عن هذا غافلين}؛ أي: إنما امتحنَّاكم حتى أقررتم بما تقرَّر عندكم من أنَّ الله تعالى ربُّكم؛ خشية أن تنكِروا يوم القيامة فلا تقرُّوا بشيء من ذلك، وتزعمون أن حجَّة الله ما قامت عليكم، ولا عندكم بها علم، بل أنتم غافلون عنها لاهون؛ فاليوم قد انقطعت حجَّتكم، وثبتت الحجة البالغة لله عليكم. أو تحتجون أيضاً بحجَّة أخرى، فتقولون: {إنَّما أشركَ آباؤنا من قَبْلُ وكُنَّا ذُرِّيَّةً من بعدِهم}: فحذونا حَذْوَهم، وتبعناهم في باطلهم. {أفتهلِكُنا بما فعل المبطلون}؟ فقد أودع الله في فطركم ما يدلُّكم على أن ما مع آبائكم باطلٌ، وأنَّ الحقَّ ما جاءت به الرسل، وهذا يقاوم ما وجدتم عليه آباءكم ويعلو عليه. نعم؛ قد يعرض للعبد من أقوال آبائه الضالِّين ومذاهبهم الفاسدة ما يظنُّه هو الحقَّ، وما ذاك إلا لإعراضه عن حجج الله وبيِّناته وآياته الأفقيَّة والنفسيَّة؛ فإعراضه عن ذلك وإقباله على ما قاله المبطلون، ربَّما صيَّره بحالة يُفضِّل بها الباطل على الحق.
هذا هو الصواب في تفسير هذه الآيات، وقد قيل: إن هذا يوم أخذ الله الميثاق على ذريَّة آدم حين استخرجهم من ظهره وأشهدهم على أنفسهم فشهدوا بذلك فاحتجَّ عليهم بما أمرهم به في ذلك الوقت على ظلمهم في كفرهم وعنادهم في الدنيا والآخرة! ولكن ليس في الآية ما يدلُّ على هذا، ولا له مناسبة، ولا تقتضيه حكمة الله تعالى، والواقع شاهدٌ بذلك؛ فإنَّ هذا العهد والميثاق الذي ذَكَروا أنه حين أخْرَجَ اللهُ ذُرِّيَّةَ آدم من ظهره حين كانوا في عالم كالذَّرِّ لا يذكُرُه أحدٌ ولا يخطُرُ ببال آدميٍّ؛ فكيف يحتجُّ الله عليهم بأمرٍ ليس عندهم به خبرٌ ولا له عينٌ ولا أثرٌ؟!