ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 172

وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ اَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ شَہِدۡنَا ۚۛ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنۡ ہٰذَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۷۲﴾ۙ
اور جب تیرے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انھیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا، کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی۔ (ایسا نہ ہو) کہ تم قیامت کے دن کہو بے شک ہم اس سے غافل تھے۔
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی
اور جب آپ کے رب نے اوﻻد آدم کی پشت سے ان کی اوﻻد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواه بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 172) ➊ {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ …:} یہاں تک رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے بنی آدم کی ہدایت کا جو اہتمام فرمایا اس کا ذکر تھا، اب کائنات میں اور خود انسان کی ذات ({اَنْفُسِهِمْ})میں ہدایت کی جو دلیلیں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں ان کا ذکر ہے۔ اہل علم نے اس آیت کی دو تفسیریں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ وہ یہ جانے کہ میرا ایک رب ہے، جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے روزی دیتا ہے اور یہ بات جب اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کی اولاد کو نسلاً بعد نسل پیدا کرتا ہے اور بنی آدم میں سے کسی کی پشت سے اس کا نطفہ جدا کرکے ماں کے رحم میں اس کی اولاد پیدا کرتا ہے، اسی وقت اس اولاد کی فطرت میں رکھ کر اس کے نفس اور اس کی ذات میں اپنے رب ہونے کے اتنے دلائل رکھ دیتا ہے گویا خود اسے اپنے آپ پر گواہ بنا دیتا ہے کہ اس کا رب اللہ ہے۔ گویا وہ پیدا ہی اسلام پر ہوتا ہے۔ ایک بوند جو جونک بنی، پھر مضغہ بنی، پھر ہڈیاں، پھر کامل اعضا والا جان دار انسان، یہ اور بے شمار نشانیاں خود اس کی ذات اور کائنات میں اس بات کی کافی شہادت ہیں کہ اس کا ایک رب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ [حٰمٓ السجدۃ: ۵۳] عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں اور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہو جائے کہ یقینا یہی حق ہے۔ اور فرمایا: «{ وَ فِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ (20) وَ فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ [الذاریات: ۲۰، ۲۱] اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں اور تمھارے نفسوں میں بھی تو کیا تم نہیں دیکھتے؟ اور شہادت ضروری نہیں زبان ہی سے ہو، قرآن مجید کے مطابق حالت کی بھی شہادت ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ [التوبۃ: ۱۷] مشرکوں کا کبھی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں، اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں۔ اور فرمایا: «{ اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ (6) وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ [العادیات: ۶، ۷] بے شک انسان اپنے رب کا یقینا بہت ناشکرا ہے اور بے شک وہ اس بات پر یقینا خود گواہ ہے۔
معلوم ہوا کہ انسان کی فطرت ہی توحید ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ [بخاری، الجنائز، باب ما قیل فی أولاد المشرکین: ۱۳۸۵] اس لیے انسان کی ذات میں اور کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کے رب واحد ہونے کے دلائل ہی اس بات کے لیے کافی ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ اس لیے بعض علماء نے کہا کہ اگر کوئی بھی رسول نہ آتا تو انسان پر عقل، فطرت سلیمہ اور اپنی ذات اور کائنات میں موجود توحید کے بے شمار دلائل کی وجہ سے شرک سے بچنا لازم تھا، اگر وہ شرک کرے تو اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ اس سے مؤاخذہ فرمائے۔ مگر قرآن مجید سے اللہ تعالیٰ کا یہ بے حد و حساب رحم و کرم ثابت ہے کہ انسان کے نفس پر اس کی اپنی شہادت کے باوجود وہ رسولوں کے ذریعے سے حق واضح کیے بغیر عذاب نہیں دیتا، فرمایا: «{ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا [بنی إسرائیل: ۱۵] اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔ اس کی مثال یوں سمجھیے کہ دیکھنے کے لیے آنکھ میں نور ہونا بھی ضروری ہے اور سورج، چاند یا کسی اور چیز کے ذریعے سے روشنی ہونا بھی ضروری ہے، آنکھ میں روشنی نہ ہو یا باہر روشنی نہ ہو تو نظر نہیں آتا۔ فطرت میں رکھی ہوئی عقل اور کائنات کے دلائل رب کی پہچان کے لیے آنکھ کے نور کی طرح ہیں اور پیغمبر سورج اور چاند کی طرح اس کے لیے دلائل کو روشن کرکے سمجھانے والے ہیں۔ شیخ صالح آل الشیخ نے شرح عقیدہ طحاویہ میں فرمایا کہ اہل السنہ کے بہت سے ائمہ مثلاً شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ، ابن القیم، ابن کثیر، ابن ابی العز حنفی شارح طحاویہ، شیخ عبد الرحمان سعدی اور دوسرے کئی ائمہ رحمھم اللہ نے {وَإِذْ اَخَذَ رَبُّكَ} کی یہی تفسیر اختیارفرمائی ہے۔ واضح رہے کہ آنکھ اور سورج کی روشنی کی مثال ان ائمہ کی تفسیر کا حصہ نہیں۔
دوسری تفسیر وہ میثاق (عہد و پیمان) ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پشت سے تمام اولادِ آدم کو نکال کر ان سے لیا اور جو عموماً عہد الست سے مشہور ہے، وہ عبد اللہ بن عباس اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنھم سے منقول ہے۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نعمان (نون کے فتحہ کے ساتھ) یعنی عرفہ میں آدم علیہ السلام کی پشت سے میثاق (عہد و پیمان) لیا، چنانچہ اس کی پشت سے تمام اولاد جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنی تھی نکالی اور اس کے آگے بکھیر دی، پھر ان سے آمنے سامنے بات کی، فرمایا: «{ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے کہا: «{ بَلٰى کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی! (ایسا نہ ہو) کہ تم قیامت کے دن کہو ہم اس سے غافل تھے۔ آخر آیات تک۔ [أحمد: 272/1، ح: ۲۴۵۹۔ مستدرک حاکم: 544/2، ح: ۴۰۰۰] حاکم اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح فرمایا ہے، شوکانی اور بہت سے علماء نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے، مگر قرآن کے الفاظ اور حدیث کے الفاظ میں کئی لحاظ سے فرق ہے، ایک تو یہ کہ آیت میں «{ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ ہے { مِنْ آدَمَ } نہیں، دوسرا «{ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ہے { مِنْ ظَهْرِهِ } نہیں۔ تیسرا «{ ذُرِّيَّتَهُمْ ہے، { ذُرِّيَّتَهُ} نہیں، چوتھا یہ کہ فرمایا: «{ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ گواہ کو وہ بات یاد تو ہونی چاہیے جس کی گواہی اس نے دینی ہے جبکہ وہ عہد کسی کو یاد نہیں، البتہ انسان کے نفس اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور توحید کے دلائل کا وہ خود فطری شاہد ہے، یہ الگ بات ہے کہ گندے عقیدوں والوں کے ساتھ مل کر اس کی فطرت پر پردہ پڑ گیا ہو۔ اگر کوئی کہے کہ بے شک آدم علیہ السلام کی پشت سے نکلتے وقت کیا ہوا عہد ہمیں یاد نہیں مگر پیغمبروں کا اس میثاق کو یاد کرا دینا ہی کافی ہے تو حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کا جواب دیا ہے کہ مشرک تو پیغمبروں کی کوئی بات صحیح مانتے ہی نہیں تھے، ان کا یاد کرا دینا ان پر حجت کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ (جب کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اس گواہ بنانے کو بطور حجت ذکر فرمایا ہے، جس طرح رسولوں کے بھیجنے کو بطور حجت ذکر فرمایا ہے) غرض ابن ابی العز نے شرح عقیدہ طحاویہ میں آیت اور احادیث کے درمیان دس فرق بیان کیے ہیں، اس لیے دونوں الگ الگ ہی۔ ہاں! تطبیق کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولادوں کو نکالنا بھی آدم علیہ السلام کی پشت سے اس کی اولاد کو نکالنے ہی کی تفصیل ہے۔ (واللہ اعلم)
➋ {اَنْ تَقُوْلُوْا:} یہ اصل میں { لِئَلَّا تَقُوْلُوْا } یا { كَرَاهَةَ اَنْ تَقُوْلُوْا } ہے، یعنی یہ عہد تم سے اس لیے لیا کہ ایسا نہ ہو کہ تم دنیا میں شرک و نافرمانی کی روش اختیار کرو اور قیامت کے روز تم سے باز پرس کی جائے تویہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کرنے لگو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔ (ابن کثیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

172۔ 1 یہ عہد حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا۔ اس کی تفصیل ایک حدیث میں اس طرح آتی ہے ' عرفہ والے دن نعمان جگہ میں اللہ تعالیٰ نے اصلاب آدم سے عہد (میثاق) لیا۔ پس آدم کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد کو نکالا اور اس کو اپنے سامنے پھیلا دیا اور ان سے پوچھا، ' کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ' سب نے کہا ' کیوں نہیں ' ہم سب رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ امام شوکانی اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں واسنادہ لامطعن فیہ (فتح القدیر) اس کی سند میں کوئی طعن نہیں نیز امام شوکانی فرماتے ہیں۔ یہ عالم ذر کہلاتا ہے اس کی یہی تفسیر صحیح اور حق ہے جس سے عدول اور کسی اور مفہوم کی طرف جاناصحیح نہیں ہے کیونکہ یہ مرفوع حدیث اور آثار صحابہ سے ثابت ہے اور اسے مجاز پر بھی محمول کرنا جائز نہیں ہے۔ بہرحال اللہ کی ربوبیت کی یہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت ہے۔ اسی مفہوم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے اس کا ناک کان کٹا نہیں ہوتا۔ اور صحیح مسلم کی روایت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو حنیف (اللہ کی طرف یکسوئی سے متوجہ ہونے والا) پیدا کیا ہے۔ پس شیطان ان کو ان کے دین (فطری) سے گمراہ کردیتا ہے۔ الحدیث۔ یہ فطرت یا دین فطرت یہی رب کی توحید اور اس کی نازل کردہ شریعت ہے جو اب اسلام کی صورت میں محفوظ اور موجود ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

172۔ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب آپ کے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود اپنے اوپر گواہ بنا کر پوچھا: ”کیا میں تمہارا پروردگار نہیں؟“ وہ (ارواح) کہنے لگیں: ”کیوں نہیں! [175] ہم یہ شہادت دیتے ہیں“ (اور یہ اس لیے کیا) کہ قیامت کے دن تم نہ کہنے لگو کہ ہم تو اس بات سے بالکل بے خبر تھے
[175] سابقہ آیت میں ایک خاص عہد کا ذکر تھا جو یہود سے لیا گیا تھا اور اس آیت میں عام عہد کا ذکر ہے جو فرداً فرداً تمام انسانوں سے لیا گیا تھا اور یہ اس دور کا واقعہ ہے جب اللہ تعالیٰ آدمؑ کو پیدا کر چکے تھے اور خلافت ارضی کے لیے انہیں منتخب کیا جا چکا تھا۔ کتاب و سنت کی تصریحات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدمؑ کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کی نسل سے تاقیامت پیدا ہونے والی اولاد کی روحوں کو اپنے سامنے حاضر کر لیا اور ان ارواح کو وہی شکل عطا کی گئی جو ان کی پیدائش کے بعد انہیں میسر ہونے والی تھی اور بعض احادیث کے مطابق ان ارواح کی شکل چیونٹیوں کی سی تھی۔ پھر ان ارواح کو مخاطب کر کے فرمایا: اس بھری کائنات کو خوب دیکھ بھال کر بتلاؤ کہ یہاں میرے سوا تمہیں کوئی اور پروردگار نظر آتا ہے اور کیا تمہارا پروردگار بھی میں ہی نہیں؟ تو ان سب ارواح نے مل کر یقین کے ساتھ یہ شہادت دی کہ اے اللہ صرف توہی ہمارا پروردگار ہے۔ بالفاظ دیگر یہ اس بات کی شہادت تھی کہ ہم کبھی کسی دوسرے کو تیرا شریک نہیں بنائیں گے۔
عہد الست کی تفصیل اور حالات ارضی:۔
یہ واقعہ محض تمثیلی طور پر بیان نہیں ہوا جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ اس خارجی کائنات میں فی الواقع اسی طرح وقوع پذیر ہوا تھا جس طرح آدمؑ کی خلافت کے متعلق آدمؑ کی تخلیق سے پیشتر اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے مکالمہ کا واقعہ ظہور پذیر ہوا تھا اور یہ اقرار اس لیے لیا گیا تھا کہ خلافت ارضی کی بنیاد اس وقت تک اٹھ ہی نہیں سکتی جب تک انسان ان دو باتوں کا اقرار نہ کر لے۔ ایک یہ کہ اس کائنات کا یقینی طور پر کوئی خالق موجود ہے اور دوسرے یہ کہ وہی خالق اس کائنات کی تربیت کر کے اس کو حد کمال تک پہچانے والا ہے اور اس کے سوا کوئی پروردگار نہیں گویا یہی شہادت خلافت ارضی کے لیے بنیادی پتھر کا کام دیتی ہے اگر اس بنیاد کو نیچے سے کھینچ لیا جائے تو خلافت ارضی کا تصور بھی محال ہے لہٰذا بنی آدم کی تمام تر ارواح میں اس بنیادی حقیقت کی تخم ریزی کر دی گئی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ عہد اتنا اہم تھا تو انسان کو یاد کیوں نہیں رہا؟ اس کا الزامی جواب تو یہ ہے کہ انسان کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ میں رہا تھا پھر اس سے پیدا ہوا کہاں پیدا ہوا؟ کس وقت ہوا۔ غرض یہ کہ بے شمار ایسی باتیں ہیں جو انسان کو یاد نہ رہنے کے باوجود اپنی جگہ پر ٹھوس حقیقتیں ہوتی ہیں لہٰذا یاد نہ رہنے کا عذر معقول نہیں ہو سکتا اور حقیقی جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہی نہ تھا کہ وہ عہد انسان کو ہر وقت یاد رہے کیونکہ اس صورت میں انسان اللہ سے بغاوت اور اس کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتا تھا اور یہ بات مشیت الٰہی کے خلاف ہے کیونکہ یہ دنیا انسان کے لیے دارالامتحان ہے لہٰذا اس واقعہ کو انسان کے شعور میں نہیں بلکہ تحت الشعور یا وجدان میں رکھ دیا گیا اور یہ اسی داعیہ کا اثر ہے کہ بعض دفعہ پکے کافر اور دہریہ قسم کے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا مصیبت کے وقت لاشعوری طور پر اسے پکارنے لگتے ہیں۔ اس عہد کے لاشعور میں موجود ہونے کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ انسان میں دو طرح کی استعدادیں رکھی گئی ہیں ایک بالقوۃ، دوسری بالفعل۔ مثلاً ایک انسان پینٹر بننا چاہتا ہے تو وہ اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ اس میں یہ استعداد بالقوۃ موجود ہو یعنی وہ پینٹر بننے کی صلاحیت رکھتا ہو پھر اسے اس کے مطابق خارجی ماحول میسر آجائے یعنی اسے کوئی استاد وقت اور متعلقہ آلات اور سامان مل جائے تو محنت سے وہ پینٹر بن جائے گا۔ اس وقت اس کی وہ استعداد جو بالقوۃ تھی وہ بالفعل میں تبدیل ہو گئی اور اگر انسان یہ چاہے کہ وہ فرشتہ بن جائے تو وہ کبھی نہ بن سکے گا خواہ لاکھوں کوششیں کرے کیونکہ اس میں فرشتہ بننے کی استعداد بالقوۃ موجودہی نہیں ہے۔
قرآن کس لحاظ سے ذکر اور تذکرہ ہے؟
اب ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ اس عہد الست کی یاد اور خلافت ارضی کی استعداد انسان میں بالقوۃ موجود ہے پھر جب اسے خارج سے موافق ماحول اور سامان میسر آجاتا ہے تو اس کی یہی استعداد بالفعل میں تبدیل ہو جاتی ہے موافق سامان اور ماحول سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کے پیغمبر اور اس کی کتابیں ہیں جو انسان کی استعداد کو صحیح راستے پر چلا دیتی ہیں تو اس ماحول سے ایسا صالح عنصر وجود میں آجاتا ہے جو خلافت کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے معیار پر پورا اترتا ہے اسی لیے قرآن میں انبیاء و رسل کو مذکر (اس عہد الست بربکم کی یاددہانی کرانے والے) اور خود قرآن کو ذکر اور تذکرہ (یاد دہانی) کہا گیا ہے گویا انبیاء علیہم السلام اور کتابوں کا یہ کام ہوتا ہے جو استعداد انسان کے اندر بالقوۃ موجود تھی اس کو یاد دہانی کراتے رہیں اور اسے بالفعل کے مقام پر لے آئیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭
اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1385]‏‏‏‏
ایک روایت میں ہے کہ { اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4775]‏‏‏‏
حدیث قدسی میں ہے کہ { میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865]‏‏‏‏
قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی { سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ } اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (‏‏‏‏ابن جریر) ۱؎ [مسند احمد:435/3:ضعیف]‏‏‏‏
اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔
مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا: اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو اس سے بہت ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ لیکن تو اسے توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3334]‏‏‏‏
مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [مسند احمد:272/1:صحیح]‏‏‏‏ یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔
پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا، اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی، اسے پہلے کا وعدہ کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور جو بچپن میں ہی مر گیا، وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔
ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسے نکالیں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے۔ ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا، انہوں نے اقرار کیا، فرشتوں نے شہادت دی۔ اس لیے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15365]‏‏‏‏
{ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا، اس سے اولاد نکلی۔ فرمایا: میں نے انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو جنتی ہے، اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائے گا۔ ہاں! جو جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے، انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہو گا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4703،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابوداؤد)
اور حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ یااللہ! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تیری اولاد ہے۔ ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک آدم علیہ السلام کو بہت اچھی لگی۔ پوچھا: یااللہ! یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں، ان کا نام داؤد ہے۔ پوچھا: ان کی عمر کیا ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: یااللہ! چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر۔ پس جب آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کرنے کے لئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا: میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں۔ فرشتے نے کہا: آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے داؤد کو ہبہ کر دیئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ چونکہ آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے۔ آدم علیہ السلام خود بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ آدم علیہ السلام نے خطا کی، ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3076،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
یہ حدیث ترمذی میں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح لکھتے ہیں۔
اور روایت میں ہے کہ { جب آدم علیہ السلام نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے، کوئی کوڑھی ہے، کوئی اندھا ہے، کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یااللہ! اس میں کیا مصلحت ہے؟ فرمایا: یہ کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ یااللہ! ان میں سے یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں؟ فرمایا: یہ انبیاء ہیں الخ۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:8535/5:ضعیف]‏‏‏‏
{ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں، یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا ہے۔ انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا: یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15377:حسن بالشواھد]‏‏‏‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قصہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے، انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا۔ پھر فرمایا: اے دائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: اے بائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر سب کو ملا دیا۔ کسی نے پوچھا: یہ کیوں کیا؟ فرمایا: اس لیے کہ ان کے لیے اور اعمال ہیں، جنہیں یہ کرنے والے ہیں۔ یہ تو صرف اس لیے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم علیہ السلام میں لوٹا دیا۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:7943:ضعیف جداً]‏‏‏‏
ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور آدم علیہ السلام کو گواہ کیا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں، نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے۔ میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں۔ سب نے جواب میں کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے، تو ہی ہمارا معبود ہے، تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔
پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا۔ اب جو آدم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر، غریب، خوبصورت اور اس کے سوا مختلف لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے: کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت میں ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لیے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔
آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں، ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا۔ جس کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ» ۱؎ [33-الأحزاب:7]‏‏‏‏ میں ہے۔
اسی عام میثاق کا بیان آیت «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30]‏‏‏‏ میں ہے۔ اسی لیے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» ۱؎ [53-النجم:56]‏‏‏‏
اسی کا بیان اس آیت میں ہے «وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ» ۱؎ [7-الأعراف:102]‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسند احمد)
مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی اور بہت سے سلف رحمۃ اللہ علیہم سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہو جائے گا۔ ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا۔ جنتی، دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کر لیا۔ یہ جن دو احادیث میں ہے، وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں۔ اسی لیے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گزرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنا ہے۔ جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آیت میں «مِن بَنِي آدَمَ» فرمایا اور «مِن ظُهُورِهِمْ» کہا، ورنہ «مِنْ اٰدَمَ» اور «مِنْ ظَھْرِہِ» ہوتا۔
ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ» ۱؎ [6-الأنعام:165]‏‏‏‏ ’ اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے۔ ‘
اور جگہ ہے: وہی تمہیں زمین کا خلیفہ بنا رہا ہے۔ اور آیت میں ہے: جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔
الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے . جیسے آیت «قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا» ۱؎ [6-الأنعام:130]‏‏‏‏ میں۔
اور شہادت کبھی حال ہوتی ہے۔ جیسے آیت «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17]‏‏‏‏ میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے۔
اس طرح کی آیت «وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ» ۱؎ [100-العاديات:7]‏‏‏‏ ہے۔
اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے، کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے «وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ» ۱؎ [14-إبراهيم:34]‏‏‏‏ ’ اس نے تمہیں تمہارا منہ مانگا دیا۔ ‘
کہتے ہیں کہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا، جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہیئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر پا لینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسولوں کو ہی نہیں مانتے، وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے۔ پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔
اسی لیے فرمایا ہے کہ یہ اس لیے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا، ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں؟
پھر تفصیل وار آیات کا بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آ جانا ممکن ہو جاتا ہے۔