ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 170

وَ الَّذِیۡنَ یُمَسِّکُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِیۡنَ ﴿۱۷۰﴾
اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور انھوں نے نماز قائم کی، یقینا ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔
اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (ان کو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے
اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں، ہم ایسے لوگوں کا جو اپنی اصلاح کریں ﺛواب ضائع نہ کریں گے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 170) {وَ الَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ …:} کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے سے مراد اس پر عمل کرنا ہے اور نماز بھی اگرچہ اس میں شامل تھی مگر اس کو خصوصاً اس لیے ذکر فرمایا کہ یہ دین کا بنیادی ستون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَ بَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاةِ] [مسلم، الإیمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر…: ۸۲، عن جابر رضی اللہ عنہ] یقینا آدمی کے درمیان اور شرک و کفر کے درمیان نماز کا ترک ہے۔ گویا نماز نہیں تو کتاب سے تمسک بھی نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

170۔ 1 ان لوگوں میں سے جو تقوٰی کا راستہ اختیار کرلیں، کتاب کو مضبوطی سے تھام لیں۔ جس سے مراد اصلی تورات ہے اور جس پر عمل کرتے ہوئے نبوت محمدی پر ایمان لے آئیں، نماز وغیرہ کی پابندی کریں، تو اللہ ایسے مصلحین کا اجر ضائع نہیں کرے گا۔ اس میں ان اہل کتاب (سیاق کلام سے یہاں بطور خاص یہود) کا ذکر ہے جو تقوٰی، تمسک یا کتاب اور اقامت صلٰوۃ کا اہتمام کریں اور ان کے لئے آخرت کی خوشخبری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوجائیں اور رسالت محمدیہ پر ایمان لے آئیں۔ کیونکہ اب پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر نجات اخروی ممکن نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

170۔ اور جو لوگ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے اور نماز [173] قائم کرتے ہیں تو یقیناً ہم ایسے نیک کردار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے
[173] ہر معاشرے میں کچھ انصاف پسند موجود ہوتے ہیں:۔
اللہ تعالیٰ نے ان ناخلف لوگوں سے جن کی اوپر صفات بیان کی گئی ہیں ان لوگوں کو مستثنیٰ کر دیا جو دیانتداری کے ساتھ دین پر قائم رہتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ میں خواہ کتنا فساد پھیل جائے کچھ نہ کچھ لوگ ایسے بھی نکل ہی آتے ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے اپنے دین کا خیال رکھنے والے ہوتے ہیں اللہ ایسے لوگوں کو ضرور ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دے گا کیونکہ اس کے عدل کا یہی تقاضا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔