تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِنْ يَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ يَاْخُذُوْهُ:} یعنی گناہ کرنے اور حرام کھانے کے بعد نہ وہ شرمندہ ہوتے ہیں اور نہ ان میں توبہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، بلکہ گناہوں پر اور حرام خوری پر ان کی جرأت بڑھتی جاتی ہے، حالانکہ بخشش کے لیے تو توبہ کی ضرورت ہے، جس کا لازمی جزو گزشتہ پر ندامت اور آئندہ کے لیے وہ کام نہ کرنے کا خالص اور پختہ عزم ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ پہلی دفعہ حرام کھانے کے بعد اسی طرح کا حرام دوبارہ مل جائے تو اسے بھی نہیں چھوڑتے۔ چنانچہ ایک مرتبہ رشوت لینے کے بعد جوں ہی انھیں دوبارہ رشوت کا موقع ملتا ہے بلا جھجک اسے قبول کر لیتے ہیں۔ یہ ان کے علماء کا حال ہے کہ لوگوں کو غلط مسئلے بتا کر حرام کھانے کے باوجود دعویٰ کرتے ہیں کہ ہماری بخشش ہو جائے گی، حالانکہ وہ غلط کام چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، جو بخشش کی شرط اول ہے۔
➌ {اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ …:} یہ عہد تفصیل کے ساتھ تورات کے علاوہ آل عمران کی آیت (۱۸۷) میں مذکور ہے۔
➍ { وَ دَرَسُوْا مَا فِيْهِ:} اور انھوں نے جو کچھ اس میں ہے پڑھ لیا ہے، یعنی خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں کہیں نہیں لکھا کہ تم جو گناہ چاہو کرتے جاؤ میں تمھیں بخش دوں گا، مگر ان کی جرأت اور بے خوفی کا یہ عالم ہے کہ گناہ بھی کیے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی آیات کو بیچ کر دنیا بھی کمائے جاتے ہیں اور اللہ عزوجل کی طرف وہ باتیں بھی منسوب کیے جاتے ہیں جو اس نے کبھی نہیں کہیں۔
➎ { وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈر کر حرام کھانے سے بچنے والوں کے لیے آخرت میں جو نعمتیں تیار ہیں وہ اس حقیر دنیا کے عارضی سازوسامان سے کہیں بہتر ہیں۔ سب کچھ جانتے ہوئے حرام کھانے والو! کیا تم یہ نہیں سمجھتے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[172] اس جملہ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں ایک یہ کہ آخرت کا گھر اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے بہتر ہے (جیسا کہ ترجمہ کیا گیا ہے) اور جو اللہ سے نہیں ڈرتے ان کے لیے ہرگز بہتر نہیں، انہیں وہاں عذاب اور دکھ ہی سہنا پڑیں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ بہرحال آخرت کے گھر کو ہی بہتر سمجھتے ہیں اور دنیا کے مقابلہ میں آخرت کے گھر کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ان کی اخروی زندگی اس دنیا سے بدرجہا بہتر ہو گی کاش تم لوگوں کو اس بات کی سمجھ آجائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جنات میں بھی یہی حال ہے۔ جیسے سورۃ الجن میں ان کا قول ہے کہ ’ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں۔ ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں۔ ‘ ۱؎ [72-الجن:11]
پھر فرمان ہے کہ ہم نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے، غرض ہر طرح پرکھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں۔
جب یہ زمانہ بھی گزرا جس میں نیک و بد ہر طرح کے لوگ تھے، ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت کرنے والے رہ گئے۔ ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی، غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو۔ وہ حق بات کے بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے، جیب بھر دو، جو چاہو کہلوا لو۔
پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا؟ توبہ کر لیں گے، معاف ہو جائے گا۔ پھر موقعہ آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا، توبہ کی۔ پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کر لیا۔
مقصود ان کا دنیا طلبی ہے۔ حلال سے ملے، چاہے حرام سے ملے۔ پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے۔
جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ’ ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کر دی۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:59]
پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں ح، اکموں اور ججوں کا شاکی تھا۔ لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم سے مضبوط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو، اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو۔
اسی وعدے کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:187] میں ہوا ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ ‘ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں، توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجر و ثواب کا لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا، حرام سے بچے، خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے، رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو؟
پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں۔ حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں اور ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
حتى خلف {من بعدِهم خَلْفٌ}: زاد شرُّهم {ورثوا}: بعدهم {الكتابَ}: وصار المرجع فيه إليهم، وصاروا يتصرَّفون فيه بأهوائهم، وتُبْذَلُ لهم الأموال ليفْتُوا ويحكموا بغير الحقِّ، وفشت فيهم الرشوة. {يأخُذون عَرَضَ هذا الأدنى ويقولونَ}: مقرِّين بأنه ذنب وأنهم ظلمة: {سَيُغْفَرُ لنا}: وهذا قول خالٍ من الحقيقة؛ فإنه ليس استغفاراً وطلباً للمغفرة على الحقيقة؛ فلو كان ذلك؛ لندموا على ما فعلوا، وعزموا على أن لا يعودوا، ولكنهم إذا أتاهم عرضٌ آخر ورشوةٌ أخرى؛ يأخذوه، فاشتروا بآيات الله ثمناً قليلاً، واستبدلوا الذي هو أدنى بالذي هو خير! قال الله تعالى في الإنكار عليهم وبيان جراءتهم: {ألم يؤخَذْ عليهم ميثاقُ الكتاب أن لا يقولوا على الله إلا الحقَّ}: فما بالُهم يقولون عليه غير الحقِّ اتِّباعاً لأهوائهم وميلاً مع مطامعهم؟! {و} الحالُ أنهم قد {دَرَسوا ما فيه}: فليس عليهم فيه إشكالٌ، بل قد أتوا أمرهم متعمِّدين، وكانوا في أمرهم مستبصرين، وهذا أعظمُ للذنب وأشدُّ للَّوم وأشنع للعقوبة، وهذا من نقص عقولهم وسفاهة رأيهم بإيثار الحياة الدُّنيا على الآخرة، ولهذا قال: {والدارُ الآخرة خيرٌ للذين يتَّقون}: ما حرَّم الله عليهم من المآكل التي تُصاب وتؤكل رشوة على الحكم بغير ما أنزل الله وغير ذلك من أنواع المحرمات. {أفلا تعقلون}؛ أي: أفلا يكون لكم عقولٌ توازن بين ما ينبغي إيثاره وما ينبغي الإيثار عليه، وما هو أولى بالسعي إليه والتقديم له على غيره؟! فخاصيَّة العقل النظر للعواقب، وأما من نَظَرَ إلى عاجل طفيف منقطع يفوِّت نعيماً عظيماً باقياً؛ فأنَّى له العقل والرأي؟!