ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 168

وَ قَطَّعۡنٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اُمَمًا ۚ مِنۡہُمُ الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنۡہُمۡ دُوۡنَ ذٰلِکَ ۫ وَ بَلَوۡنٰہُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۱۶۸﴾
اور ہم نے انھیں زمین میں مختلف گروہوں میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، انھی میں سے کچھ نیک تھے اور ان میں سے کچھ اس کے علاوہ تھے اور ہم نے اچھے حالات اور برے حالات کے ساتھ ان کی آزمائش کی، تاکہ وہ باز آجائیں۔
اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں
اور ہم نے دنیا میں ان کی مختلف جماعتیں کر دیں۔ بعض ان میں نیک تھے اور بعض ان میں اور طرح تھے اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بدحالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 168) ➊ { وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا:} تاکہ ان کی کوئی اجتماعی قوت وجود میں نہ آ سکے۔ اس لیے یہودی تمام دنیا میں ٹکڑوں کی شکل میں پھیلے ہوئے ہیں اور جہاں رہتے ہیں اپنی سود خوری اور اس ملک کے خلاف سرگرمیوں اور جاسوسی کی وجہ سے نفرت کی نگاہوں کا نشانہ بنے رہتے ہیں، پھر ان کی برتری کی خواہش اور دنیا کی دولت اور حکومت کو اپنے قبضے میں لینے کی خواہش کے لیے ان کی سازشیں یہودی پروٹوکول کی صورت میں دنیا کے سامنے آ چکی ہیں۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور کتنے ہی ملکوں سے انھیں نکالا گیا اور تہ تیغ کیا گیا، اب اگرچہ جرمنی سے غداری کے انعام میں برطانیہ اور امریکہ کے بل بوتے پر وہ عربوں کے قلب میں اسرائیل کے خنجر کی صورت میں پیوست ہو چکے ہیں، مگر ان کی اصل قوت امریکہ اور برطانیہ وغیرہ ہی ہیں۔ یہاں جمع ہو کر بھی وہ ظلم و ستم سے باز آنے کے بجائے فلسطینی عربوں پر ناقابل بیان مظالم ڈھا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے مؤاخذے میں اس دیر کا انجام کیا ہوتا ہے، کیونکہ وہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔
➋ { مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ:} ان میں سے کچھ نیک ہیں، یعنی وہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے، یا جیسے وہ لوگ جنھوں نے ہفتے کے روز مچھلی کے شکار سے منع کیا تھا۔ دیکھیے آل عمران (۱۱۳ تا ۱۱۵) اور کچھ ان کے علاوہ، یعنی نیک نہیں بلکہ شریر اور بدکار، جیسے سود، رشوت اور دوسرے طریقوں سے حرام کھانے والے اور انبیاء تک کو قتل کر ڈالنے والے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کے باوجود آپ کی مخالفت کرنے والے۔
➌ { وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّيِّاٰتِ …: } کبھی راحت اور آرام دیا اور کبھی تکلیف میں مبتلا کر دیا، اسی طرح کبھی خوش حالی عطا فرمائی، کبھی فقر و فاقہ سے دو چار کر دیا، تاکہ وہ باز آ جائیں، یعنی اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور تورات کے احکام پر عمل کریں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہود کی دولت برہم ہوئی تو آپس کی مخالفت سے ہر طرف نکل گئے اور مختلف مذاہب پیدا ہوئے، یہ احوال اس امت کو سنایا کہ یہ سب کچھ ان پر بھی ہو گا۔ حدیث میں فرمایا ہے کہ اس امت میں بعض بندر اور سور ہو جائیں گے۔ اللہ گمراہی سے پناہ دے۔ (موضح) یہ حدیث بخاری میں ہے، فرمایا: [وَ يَمْسَخُ آخَرِيْنَ قِرَدَةً وَ خَنَازِيْرَ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ] [بخاری، الأشربہ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر…: ۵۵۹۰] اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندروں اور خنزیروں کی صورت میں مسخ کر دے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

168۔ 1 اس میں یہود کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے ان میں سے بعض کے نیک ہونے کا ذکر ہے۔ اور ان دونوں طریقوں سے آزمائے جانے کا بیان ہے کہ شاید وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

168۔ اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین [170] میں کئی گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ ان میں سے کچھ تو نیک لوگ ہیں اور دوسرے ان سے مختلف ہیں۔ اور ہم انہیں اچھے اور برے حالات سے آزماتے رہے کہ شاید وہ (اللہ کی طرف) پلٹ آئیں
[170] اسلاف یہود کا کردار:۔
یعنی یہود کو تفرقہ بازی کے عذاب میں مبتلا کر دیا (جس میں آج کل مسلمان بھی مبتلا ہیں) جس کی وجہ سے قوم کی ساکھ ختم ہو جاتی ہے۔ امت کی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے اور دنیا کی نظروں میں وہ حقیر بن جاتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرقہ بازی کو عذاب کی ایک مستقل قسم قرار دیا ہے [نيز سورة انعام كي آيت نمبر 65 كا حاشيه ملاحظه فرمائيے]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے ٭٭
بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: تم زمین میں رہو سہو۔ جب آخرت کا وعدہ آئے گا، ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے۔ ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے، کچھ بد تھے۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:104]‏‏‏‏
جنات میں بھی یہی حال ہے۔ جیسے سورۃ الجن میں ان کا قول ہے کہ ’ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں۔ ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں۔ ‘ ۱؎ [72-الجن:11]‏‏‏‏
پھر فرمان ہے کہ ہم نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے، غرض ہر طرح پرکھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں۔
جب یہ زمانہ بھی گزرا جس میں نیک و بد ہر طرح کے لوگ تھے، ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت کرنے والے رہ گئے۔ ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی، غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو۔ وہ حق بات کے بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے، جیب بھر دو، جو چاہو کہلوا لو۔
پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا؟ توبہ کر لیں گے، معاف ہو جائے گا۔ پھر موقعہ آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا، توبہ کی۔ پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کر لیا۔
مقصود ان کا دنیا طلبی ہے۔ حلال سے ملے، چاہے حرام سے ملے۔ پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے۔
جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ’ ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کر دی۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:59]‏‏‏‏
بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا۔ آج ایک کو قاضی بناتے ہیں، وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے۔ وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم مقام کرتے ہیں، اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ پوچھتے ہیں: بھئی ایسا کیوں کرتے ہو؟ جواب ملتا ہے: اللہ غفور و رحیم ہے۔
پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں ح، اکموں اور ججوں کا شاکی تھا۔ لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم سے مضبوط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو، اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو۔
اسی وعدے کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:187]‏‏‏‏ میں ہوا ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ ‘ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں، توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجر و ثواب کا لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا، حرام سے بچے، خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے، رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو؟
پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں۔ حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں اور ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔