تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِيَّايَ:} یعنی اگر تو چاہتا تو ان ستر آدمیوں کو بنی اسرائیل سے نکلنے سے پہلے وہیں ہلاک کر دیتا، تاکہ بنی اسرائیل ان کی ہلاکت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور مجھ پر الزام نہ رکھ سکتے کہ میں نے انھیں ہلاک کر دیا ہے اور تو چاہتا تو میری قوم کی گستاخی کی پاداش میں مجھے بھی ہلاک کر دیتا، تو نے جب اس وقت ہم پر رحم کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا تو اب بھی ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور انھیں ہلاک نہ کر۔
➌ { اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا:} بے وقوفوں کے فعل سے مراد بچھڑے کی عبادت بھی ہو سکتی ہے، مگر زیادہ واضح بے وقوفی موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کو صاف دکھانے کا مطالبہ اور شرط ہے کہ ہم اس کے بغیر تیری بات کا یقین ہی نہیں کریں گے۔
➍ {بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا:} معلوم ہوا کہ نہ بچھڑے کی عبادت تمام بنی اسرائیل نے کی تھی اور نہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ ستر کے ستر نے کیا تھا۔ یہ ان کے جاہل اور بے وقوف لوگوں کا فعل تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگارا! کیا تو ہم میں سے بے وقوف لوگوں کے فعل کی وجہ سے سب کو ہلاک کر دے گا۔
➎ { اِنْ هِيَ اِلَّا فِتْنَتُكَ:} یعنی جنھوں نے بچھڑے کی پوجا کی یا تجھے آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کیا، حقیقت میں یہ سب کام تیری طرف سے ایک آزمائش تھے، تو جس طرح چاہتا ہے امتحان لیتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے۔ (ابن کثیر) اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں دوبارہ زندہ کر دیا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۵۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”انہیں لے کر آپ اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کی معذرت کرنے کے لئے گئے تھے۔ یہاں جب وہ پہنچے تو کہنے لگے: ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، ایمان نہ لائیں گے۔ ہم کلام سن رہے ہیں لیکن دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر کڑاکے کی آواز ہوئی اور یہ سب مر کھپ گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے رونا شروع کیا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ ان کے یہ بہترین لوگ تھے۔ اگر یہی منشاء تھی تو اس سے پہلے ہی ہمیں ہلاک کر دیا ہوتا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:73/6]
امام محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ انہیں اس بت پرستی سے توبہ کرنے کیلئے بطور وفد کے آپ لے چلے تھے۔ ان سے فرما دیا تھا کہ پاک صاف ہو جاؤ، پاک کپڑے پہن لو اور روزے سے چلو۔ یہ اللہ کے بتائے ہوئے وقت پر طور سینا پہنچے۔ مناجات میں مشعول ہوئے تو انہوں نے خواہش کی کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ ہم بھی اللہ کا کلام سنیں۔ آپ نے دعا کی، جب حسب عادت بادل آیا اور موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ گئے اور بادل میں چھپ گئے۔ قوم سے فرمایا: تم بھی قریب آ جاؤ، یہ بھی اندر چلے گئے اور حسب عادت موسیٰ علیہ السلام کی پیشانی پر ایک نور چمکنے لگا جو اللہ کے کلام کے وقت برابر چمکتا رہتا تھا۔ اس وقت کوئی انسان آپ کے چہرے پر نگاہ نہیں ڈال سکتا تھا۔ آپ نے حجاب کر لیا، لوگ سب سجدے میں گر پڑے اور اللہ کا کلام شروع ہوا جو یہ لوگ بھی سن رہے تھے کہ فرمان ہو رہا ہے، یہ نہ کر وغیرہ۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ { موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام کو اور شبر، شبیر کو لے کر پہار کی گھاٹی میں گئے۔ ہارون ایک بلند جگہ کھڑے تھے کہ ان کی روح قبض کر لی گئی۔ جب آپ واپس بنی اسرائیل کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا کہ چونکہ آپ کے بھائی بڑے ملنسار اور نرم آدمی تھے آپ نے ہی انہیں الگ لے جا کر قتل کر دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: اچھا تم اپنے میں سے ستر آدمی چھانٹ کر میرے ساتھ کر دو۔ انہوں نے کر دیئے جنہیں لے کر آپ گئے اور ہارون علیہ السلام کی لاش سے پوچھا کہ آپ کو کس نے قتل کیا؟ اللہ کی قدرت سے وہ بولے: کسی نے نہیں بلکہ میں اپنی موت مرا ہوں۔ انہوں نے کہا: بس موسیٰ علیہ السلام، اب سے آپ کی نافرمانی ہرگز نہ کی جائے گی۔ اسی وقت زلزلہ آیا جس سے وہ سب مر گئے۔ اب تو موسیٰ علیہ السلام بہت گھبرائے، دائیں بائیں گھومنے لگے اور وہ عرض کرنے لگے جو قرآن میں مذکور ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی التجا قبول کر لی۔ ان سب کو زندہ کر دیا اور بعد میں وہ سب انبیاء بنے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:74/6] لیکن یہ اثر بہت ہی غریب ہے۔ اس کا ایک راوی عمارہ بن عبد غیر معروف ہے۔
یہ بھی مروی ہے کہ ان پر اس زلزلے کے آنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ بچھڑے کی پرستش کے وقت خاموش تھے۔ ان پجاریوں کو روکتے نہ تھے۔ اس قول کی دلیل میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بالکل ٹھیک اترتا ہے کہ اے اللہ! ہم میں سے چند بیوقوفوں کے فعل کی وجہ سے تو ہمیں ہلاک کر رہا ہے؟ پھر فرماتے ہیں: یہ تو تیری طرف کی آزمائش ہی ہے، تیرا حکم چلتا ہے اور تیری ہی چاہت کامیاب ہے۔
غفر کے معنی ہیں: چھپا دینا اور پکڑ نہ کرنا۔ جب رحمت بھی اس کے ساتھ مل جائے تو یہ مطلب ہوتا ہے کہ آئندہ اس گناہ سے بچاؤ ہو جائے۔ گناہوں کا بخش دینے والا صرف تو ہی ہے۔ پس جس چیز سے ڈر تھا، اس کا بچاؤ طلب کرنے کے بعد اب مقصود حاصل کرنے کے لئے دعا کی جاتی ہے کہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما۔ اسے ہمارے نام لکھ دے۔ واجب و ثابت کر دے۔
«حسنہ» کی تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔ ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں، رغبت ہماری تیری ہی جانب ہے، ہماری توبہ اور عاجزی تیری طرف ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”چونکہ انہوں نے «ھُدْنَا» کہا تھا، اس لیے انہیں یہودی کہا گیا ہے۔“ لیکن اس روایت کی سند میں جابر بن یزید جعفی ہیں جو ضعیف ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{و} لما تاب بنو إسرائيل، وتراجعوا إلى رُشْدِهم، {اختار موسى} منهم {سبعين رجلاً}: من خيارهم ليعتذروا لقومهم عند ربِّهم، ووعدهم الله ميقاتاً يحضُرون فيه، فلما حضروا؛ قالوا: يا موسى! أرِنا الله جهرةً! فتجرؤوا على الله جراءة كبيرة، وأساؤوا الأدب معه، فأخذتهم الرجفةُ، فصعقوا وهلكوا، فلم يزل موسى عليه الصلاة والسلام يتضرَّع إلى الله ويتبتَّل ويقول: {ربِّ لو شئتَ أهلكتَهم من قبلُ}: أن يحضُروا، ويكونون في حالة يعتذرون فيها لقومهم فصاروا هم الظالمين. {أتُهْلِكُنا بما فعل السفهاءُ منَّا}؛ أي: ضعفاء العقول سفهاء الأحلام، فتضرَّع إلى الله، واعتذر بأنَّ المتجرِّئين على الله ليس لهم عقولٌ كاملةٌ تردعُهم عما قالوا وفعلوا، وبأنهم حصل لهم فتنةٌ يخطر بها الإنسان ويخاف من ذهاب دينه، فقال: {إنْ هي إلَّا فتنتُك تُضِلُّ بها من تشاءُ وتهدي من تشاءُ أنت وَلِيُّنا فاغْفِرْ لنا وارْحَمْنا وأنت خير الغافرين}؛ أي: أنت خير من غفر، وأولى من رحم، وأكرم من أعطى وتفضَّل، فكأنَّ موسى عليه الصلاة والسلام قال: المقصود يا ربِّ بالقصد الأول لنا كلّنا، هو التزام طاعتك والإيمان بك، وأن من حَضَرَه عقله ورشده وتمَّ على ما وهبته من التوفيق؛ فإنه لم يزل مستقيماً، وأما من ضَعُفَ عقلُه وسَفِه رأيُهُ وصرفته الفتنة؛ فهو الذي فعل ما فعل لذينك السببين، ومع هذا؛ فأنت أرحم الراحمين وخير الغافرين؛ فاغفر لنا وارحمنا! فأجاب الله سؤاله، وأحياهم من بعد موتهم، وغفر لهم ذنوبهم.