ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 151

قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِاَخِیۡ وَ اَدۡخِلۡنَا فِیۡ رَحۡمَتِکَ ۫ۖ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۱۵۱﴾٪
اس نے کہا اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر لے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم والا ہے۔
تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب! میری خطا معاف فرما اور میرے بھائی کی بھی اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 151) {قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَ لِاَخِيْ:} ہارون علیہ السلام کے حلیمانہ وعاجزانہ لہجے اور عذر سے موسیٰ علیہ السلام نرم ہو گئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری اس زیادتی کو معاف فرما جو مجھ سے غصہ کی حالت میں ہارون علیہ السلام کو ڈانٹنے میں ہوئی اور ہارون علیہ السلام کی اس کوتاہی سے درگزر فرما جو ممکن ہے لوگوں کو باز رکھنے میں ان سے ہوئی ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

151۔ موسیٰ نے تب دعا کی: ”پروردگار! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے [148] اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما۔ تو ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے“
[148] سیدنا موسیٰؑ کی اپنے اور اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت:۔
سیدنا ہارونؑ کے حلیمانہ جواب سے جب سیدنا موسیٰؑ کی طبیعت کچھ اعتدال پر آئی تو سمجھے کہ انہوں نے اس معاملہ میں اپنے بھائی پر زیادتی کی ہے لہٰذا فوراً اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہوئے کہ مجھے بھی بخش دے اور اگر میرے بھائی سے ان لوگوں کو شرک سے باز رکھنے میں کچھ کوتاہی واقع ہوئی ہے تو اسے بھی معاف فرما دے اور ہمیں اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔ سیدنا موسیٰؑ کے اپنے بھائی سیدنا ہارونؑ کو اس دعائے مغفرت و رحمت میں شریک کرنے کی دوسری وجہ یہ بھی تھی جو سیدنا ہارونؑ نے کہا تھا کہ مجھ پر میرے دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دو۔ اس قسم کی دعا سے اس شکایت کا ازالہ بھی مقصود تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہو چکا تھا، اس لیے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے تو میرے بعد سخت نالائقی کی۔ تم نے میرا انتظار بھی نہ کیا، میری ذرا سی تاخیر میں یہ ظلم ڈھایا۔ غصے کے مارے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں۔
کہا گیا ہے کہ یہ زمرد یا یاقوت یا کسی اور چیز کی تھیں۔ سچ ہے، جو حدیث میں ہے کہ { دیکھنا سننا برابر نہیں۔ } ۱؎ [مستدرک حاکم:321/2]‏‏‏‏
اپنی قوم پر غصے ہو کر الواح ہاتھ سے گرا دیں۔ ٹھیک بات یہی ہے اور جمہور سلف کا قول بھی یہی ہے لیکن ابن جریر نے قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15142-15143:باطل]‏‏‏‏
ابن عطیہ وغیرہ نے اس کی بہت تردید کی ہے اور وہ واقعی تردید کے قابل بھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ قتادہ نے یہ اہل کتاب سے لیا ہو اور ان کا کیا اعتبار ہے؟ ان میں جھوٹے، بناوٹ کرنے والے، گھڑ لینے والے، بددین، بےدین طرح کے لوگ ہیں۔
اس خوف سے کہ کہیں ہارون علیہ السلام نے انہیں باز رکھنے کی پوری کوشش نہ کی ہو، آپ نے ان کے سر کے بالوں کے بل انہیں گھسیٹ لیا اور فرمانے لگے: انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی تو نے میری ماتحتی میں انہیں کیوں نہ روکا؟ کیا تو بھی میرے فرمان کا منکر بن گیا؟
اس پر ہارون علیہ السلام نے جواب دیا کہ بھائی جان! میرے سر کے اور داڑھی کے بال نہ پکڑیں۔ میں نے تو ہر ممکن طریقے سے انہیں روکا، زیادہ اس لیے نہ الجھا کہ کہیں آپ یہ نہ فرما دیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی؟ تو نے میرا انتظار کیوں نہ کیا؟ ورنہ میں تو ان گمراہوں سے اب تک زمین کو پاک کر چکا ہوتا۔ انہوں نے تو مجھے کچھ بھی نہ سمجھا بلکہ میرے قتل کے درپے ہو گئے۔ آپ مجھے ان ہی کی طرح نہ سمجھیں، نہ ان میں ملائیں۔
ہارون علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو رحم آ جائے، ماں باپ دونوں کے ایک ہی تھے۔ جب آپ کو اپنے بھائی ہارون کی برات کی تحقیق ہو گئی اور اللہ کی طرف سے بھی ان کی پاک دامنی اور بےقصوری معلوم ہو گئی کہ انہوں نے اپنی قوم سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ افسوس! تم فتنے میں پڑ گئے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ پروردگار بڑا ہی رحیم و کریم ہے، تم میری مان لو اور پھر سے میرے تابع دار بن جاؤ تو آپ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، واقعی دیکھنے والے میں اور خبر سننے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قوم کی گمراہی کی خبر سنی تو تختیاں ہاتھ سے نہ گرائیں لیکن اسی منظر کو دیکھ کر قابو میں نہ رہے، تختیاں پھینک دیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:271/1:صحیح]‏‏‏‏